غزہ میں مارے گئے 12 فلسطینی فٹ بالر عسکریت پسند تھے: اسرائیل کا الزام
جمعرات 23 جولائی 2026 13:17
فلسطین فٹ بال ایسوسی ایشن نے اسرائیلی فوج کے الزامات کو مسترد کیا ہے (فوٹو: اے ایف پی)
اسرائیل نے فٹ بال کے کھیل سے تعلق رکھنے والے ان 12 فلسطینیوں کو عسکریت پسند قرار دیا ہے جن کو غزہ جنگ کے دوران ہلاک کیا گیا تھا اور ان میں فیفا سے رجسٹرڈ ایک ریفری بھی شامل تھا۔
فرانسیسی خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق فلسطین کی فٹ بال ایسوسی ایشن کے عہدیدار نے ان الزامات کو مسترد کیا ہے۔
اسرائیلی فوج کا کہنا ہے کہ ان افراد کے نام اس لیے جاری کیے جا رہے ہیں تاکہ ان ’جھوٹے دعوؤں‘ کا جواب دیا جا سکے جن میں کہا گیا تھا کہ اسرائیل نے جان بوجھ کر غزہ کی فٹ بال کمیونٹی کے ارکان کو نشانہ بنایا۔
بیان کے مطابق ’اسرائیل کی فوج اب ان فلسطینی فٹ بالرز، ریفریز اور کوچز کی شناخت کر رہی ہے جن کو کھلاڑی اور بے گناہ کے طور پر پیش کیا گیا لیکن حقیقت میں وہ حماس اور اسلامک جہاد کے عسکری ونگز میں دہشت گرد کے طور پر کام کر رہے تھے۔‘
فوج کی جانب سے یہ بھی کہا گیا ہے کہ ان افراد میں سے کچھ مسلح گروہوں میں اہم عہدوں پر فائز تھے جبکہ دیگر لڑائی کی کارروائیوں میں حصہ لینے والے اہلکار تھے۔
ان میں ایک نام محمد سمیع محمد خطاب کا شامل ہے، جس کے بارے میں اسرائیلی فوج کا کہنا ہے کہ ان کی شناخت فیفا کے انٹرنیشنل اسسٹنٹ ریفری کے طور پر ہوئی ہے۔
بیان کے مطابق ’محمد سمیع محمد خطاب کو ایک بے گناہ فٹ بالر کے طور پر پیش کیا گیا لیکن درحقیقت وہ سینٹرل کیمپس بریگیڈ میں ایک دہشت گرد کے طور پر کام کر رہے تھے۔‘
اسرائیلی فوج کی جانب سے ان کی تین تصاویر بھی جاری گئی ہیں جن میں سے ایک میں وہ فیفا اور ایشین فٹ بال کنفیڈریشن کے لوگو والی جرسی پہنے ہوئی دکھائی دیتے ہیں، جبکہ دوسری میں وہ سیاہ شرٹ اور کیپ میں نظر آ رہے ہیں اور تیسری تصویر میں بندوق تھامے ہوئے ہیں۔
فوج کا کہنا ہے کہ ایشین فٹ بال کنفڈریشن سمیت مختلف فٹ بال تنظیموں کی جانب سے ان کی ہلاکت پر تعزیتی پیغامات جاری کیے تھے۔
یہ بھی بتایا گیا ہے کہ ان 12 افراد میں سے کم از کم دو نے سات اکتوبر کے حملے میں بھی حصہ لیا تھا۔
دوسری جانب فلسطین فٹ بال ایسوسی ایشن نے ان تمام الزامات کو مسترد کیا ہے۔
ایسوسی ایشن کے ایک عہدیدار جنہوں نے سکیورٹی وجوہات کی بنا پر نام ظاہر نہیں کیا، کا کہنا تھا کہ اسرائیل کھلاڑیوں، کوچز، ریفریز اور منتظمین کو ہلاک کرنے کے اپنے جرم کو چپھانے کے لیے جھوٹے الزامات لگا رہا ہے۔
ان کے مطابق جاری کیے گئے ناموں میں زیادہ تر وہ لوگ ہیں جو اپنے گھروں یا خیموں میں اسرائیلی بمباری کا نشانہ بنے یا پھر چھاپوں میں خاندان سمیت مارے گئے۔
خبر رساں ادارے اے ایف پی کا کہنا ہے کہ اسرائیلی فوج کے الزامات کی آزادانہ طور پر تصدیق نہیں ہو سکی جبکہ حماس اور اسلامک جہاد کی جانب سے بھی فوری طور پر اس معاملے پر کوئی تبصرہ سامنے نہیں آیا۔
