’صنفی امتیاز واپس لوٹ رہا ہے‘، ہدایت کارہ می التوخی کا وینس فلم فیسٹیول میں اظہارِ خیال
’صنفی امتیاز واپس لوٹ رہا ہے‘، ہدایت کارہ می التوخی کا وینس فلم فیسٹیول میں اظہارِ خیال
پیر 7 ستمبر 2026 15:58
می التوخی کی فلم’وومن اَن نون‘ دوسری جنگِ عظیم کے دوران ایک ڈینش گھریلو ملازمہ کی کہانی بیان کرتی ہے (فوٹو: عرب نیوز)
ہدایت کارہ می التوخی نے فلمی صنعت میں خواتین فلم سازوں کو درپیش عدم مساوات کی نشاندہی کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ ایک بنیادی اور ساختیاتی مسئلہ ہے، جس کا سامنا انہیں اپنے پورے کیریئر کے دوران بارہا کرنا پڑا ہے۔
ڈنمارک اور مصر سے تعلق رکھنے والی فلم ساز نے اتوار کو وینس فلم فیسٹیول میں اپنی نئی فلم کے پریمیئر سے قبل صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ’یہ ایک ساختیاتی مسئلہ ہے اور ایسا مسئلہ ہے جس کا سامنا میں نے اپنے پورے کیریئر میں کیا ہے۔‘
می التوخی گولڈن لائن کے لیے مقابلہ کرنے والی 21 فلموں کے ہدایت کاروں میں شامل واحد خاتون ہدایت کار ہیں جو فکشن فلم کی ہدایت کاری کر رہی ہیں۔ اس مقابلے میں شامل صرف ایک اور فلم کی شریکِ ہدایت کار ایک خاتون ہیں جنہوں نے ایک دستاویزی فلم کی ہدایات دی ہیں۔ اس صورتِ حال نے سینما میں خواتین کی نمائندگی کے حوالے سے ایک بار پھر بحث چھیڑ دی ہے۔
برطانوی خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق می التوخی نے صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’فلم سکول سے گریجویشن کرنے کے بعد اپنی پہلی فلم بنانا میرے لیے غیرمعمولی طور پر مشکل تھا۔ میرے خیال میں اسے مکمل کرنے میں مجھے چھ یا سات سال لگ گئے، جبکہ میرے مرد ساتھی مجھ سے کہیں زیادہ تیزی سے آگے بڑھ رہے تھے۔‘
انہوں نے کہا کہ #MeToo تحریک کے بعد اگرچہ صنفی عدم مساوات کے بارے میں شعور میں اضافہ ہوا، لیکن ان کے مشاہدے میں صنفی تعصب ایک بار پھر واپس آتا ہوا دکھائی دے رہا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ ’میرے خیال میں می ٹو تحریک کے بعد ہم سب صنفی عدم توازن کے بارے میں واقعی بہت زیادہ باخبر ہو گئے تھے۔‘
انہوں نے مزید کہا کہ ’لیکن گزشتہ چند برسوں کے دوران کچھ ایسا ہوا ہے کہ ہم ایک طرح سے دوبارہ اسی قسم کے حالات کی طرف لوٹ رہے ہیں جو ماضی میں ہوا کرتے تھے، چنانچہ ہمیں اس معاملے میں بہتر ہونا ہوگا۔‘
دوسری عالمی جنگ کے بعد کے دور میں بنائی گئی فلم ’وومن اَن نون‘ (Woman Unknown) ایک ڈینش گھریلو ملازمہ کی کہانی بیان کرتی ہے جو اپنے دولت مند مالک سے شادی کی تیاری کر رہی ہوتی ہے، لیکن ایک جرمن فوجی کے ساتھ اس کے ماضی کے تعلق کا راز اس کے مستقبل کو تباہ کرنے کے حوالے سے خطرہ بن جاتا ہے۔
اس وقت ڈنمارک حال ہی میں جرمن قبضے سے آزاد ہوا تھا اور جن خواتین پر قابض جرمن افواج کے ساتھ تعلقات رکھنے کا الزام عائد کیا جاتا تھا، انہیں اکثر سرِعام تضحیک اور تذلیل کا سامنا کرنا پڑتا تھا۔
ہدایت کارہ نے کہا کہ انہوں نے پورے کیریئر کے دوران صنفی امتیاز کا سامنا کیا ہے (فوٹو: ہالی وڈ رپورٹر)
می التوخی نے کہا کہ ’فلم کے موضوعات بھی فلمی صنعت میں خواتین کی نمائندگی کے حوالے سے ان کے مؤقف سے جڑے ہوئے ہیں۔‘
انہوں نے کہا کہ ’میری فلم خواتین کی عدم موجودگی یا ان کے نظر نہ آنے کے بارے میں ہے۔ یہ ایک طرف خواتین کو صرف ایک شے سمجھنے اور دوسری طرف انہیں نظر انداز کر دینے اور ان کی آواز چھین لیے جانے کے بارے میں ہے۔‘
انہوں نے وینس فلم فیسٹیول میں خود کو ملنے والی توجہ پر اظہارِ تشکر کرتے ہوئے کہا کہ ’وہ چاہیں گی کہ مقابلے میں ان کے ساتھ مزید خواتین فلم ساز بھی موجود ہوں۔‘
خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق می التوخی نے کہا کہ ’میں یقیناً یہ چاہوں گی کہ مقابلے میں میرے ساتھ مزید خواتین ساتھی فلم ساز بھی شرکت کریں۔