ایران کے حملے اقوام متحدہ کے چارٹر اور عالمی قوانین کی خلاف ورزی: جی سی سی، اردن
جمعرات 23 جولائی 2026 22:16
مفاہمتی یادداشت پر دستخط ہونے کے باوجود ان حملوں میں تیزی آئی ہے ( فوٹو: اخبار 24)
خلیج تعاون کونسل (جی سی سی) اور اردن نے ایران اور اس کے حمایت یافتہ گروپوں کی جانب سے ہونے والے حملوں کی مذمت کرتے ہوئے اس موقف کا اعادہ کیا کہ ’یہ اقدامات عالمی قانون، اقوام متحدہ کے منشور، عرب لیگ اور جی سی سی کے وزارتی فیصلوں کے خلاف ہیں۔‘
ایس پی اے کے مطابق مشترکہ بیان میں کہا گیا کہ ’ایران اور اس کے حمایتی گروپوں کی جانب سے 28 فروری 2026 سے ان کی سرزمین پر حملوں کا سلسلہ جاری ہے۔‘
17 جون 2026 کو امریکہ اور ایران میں مفاہمتی یادداشت پر دستخط ہونے کے باوجود ان حملوں میں کمی نہیں بلکہ تیزی آئی، خاص طور پر بحرین کویت اور اردن کو نشانہ بنایا گیا۔
مشترکہ بیان میں کہا گیا ’حملوں میں توانائی کی تنصیبات، واٹر پلانٹس، بندرگاہوں، ہوائی اڈوں اور دیگر شہری تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا۔ یہ حملے اقوام متحدہ کے منشور، عالمی قانون، بین الاقوامی انسانی قانون اور سلامتی کونسل کی قرارداد نمبر 2817 (2026 ) کی کھلی خلاف ورزی ہیں۔‘
بیان میں اقوام متحدہ کے منشور کے آرٹیکل 51 کے تحت انفرادی یا اجتماعی دفاع کے اپنے حق کا اعادہ کرتے ہوئے کہا گیا کہ ’اپنی خود مختاری، سرزمین، شہریوں ، تجارتی جہازوں اور اہم سول انفرا سٹرکچر کے تحفظ کے لیے تمام قانونی اقدامات کرنے کا حق محفوظ رکھتے ہیں۔‘
اس حوالے سے عراق کے وزیراعظم کے اس فیصلے کا بھی خیرمقدم کیا گیا جس کے تحت 30 ستمبر2026 تک اسلحہ صرف ریاست کے کنٹرول میں لانے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔

عراقی حکومت کی ان کوششوں کی حمایت کی گئی جن کا مقصد ایران نواز ملیشیاوں اور مسلح گروپوں کو خطے کے ممالک پر حملے سے روکنا ہے۔
بیان میں اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل پر زور دیا گیا کہ وہ فوری قرار داد منظور کرتے ہوئے ایران کے حملے بند کرانے کا مطالبہ کرے، متاثرہ ممالک کے حقِ دفاع کو تسلیم کرے اور حملے جاری رہنے کی صورت میں مزید قانونی اقدامات پر غور کیا جائے۔
آبنائے ہرمز اور باب المندب میں جہاز رانی کے تحفظ کو برقرار رکھنے کے عزم کا اعادہ کیا گیا۔
بیان میں کہا گیا ’خطے کے تمام ممالک اور بین الاقوامی میری ٹائم آرگنائزیشن کے ساتھ مل کر ایسے مستقل انتظامات کے لیے تیار ہیں جو بین الاقوامی قانون، اقوام متحدہ کے کنونشن برائے قانون، سمندر اور ریاستوں کی خود مختاری و حسن ہمسائیگی کے اصولوں سے ہم آہنگ ہوں۔‘

سعودی عرب کے ساتھ مکمل یکجہتی اور اس کی خود مختاری، سلامتی اور تحفظ کے لیے کیے جانے والے اقدامات کی بھرپور کا بھی اعادہ کیا گیا۔
علاوہ ازیں یمن بحران کے جامع اور پائیدار حل کے لیے سعودی عرب اور عمان کی سفاری کوششوں کو سراہتے ہوئے یمن کے لیے مملکت کی ترقیاتی اور انسانی امداد کی تعریف کی گئی۔
اپنی مسلح افواج کی پیشہ ورانہ صلاحیت، تیاری اور قومی خودمختاری، سلامتی اور شہریوں کے تحفظ کے لیے ان کی خدمات کو بھی سراہا گیا۔
