منامہ میں جمعرات کو ہونے والے خلیج تعاون کونسل (جی سی سی) اور امریکہ کے مشترکہ وزارتی اجلاس میں مذاکراتی عمل جاری رکھنے پر زور دیا گیا اور کہا کہ ان کا مقصد ایران کو کبھی بھی جوہری ہتھیار بنانے یا اسے حاصل کرنے سے روکنا ہے۔
اجلاس نے خطے میں پائیدار امن اور سلامتی کے حصول کے لیے ایران کے بیلسٹک میزائل پروگرام، ڈرون سرگرمیوں اور خطے میں اس کے حمایت یافتہ گروہوں کو علاقائی استحکام کے لیے خطرہ قرار دیا اور کہا کہ اس سے نمٹنے کی ضرورت ہے۔
اجلاس کی صدارت امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو اور بحرین کے وزیر خارجہ ڈاکٹر عبداللطیف الزیانی نے مشترکہ طور پر کی۔
مزید پڑھیں
امریکہ نے خلیجی ممالک کی سلامتی کے لیے اپنے عزم کا اعادہ کیا، جبکہ خلیجی وزرائے خارجہ نے امریکہ کے ساتھ سٹریٹجک شراکت داری کو مضبوط بنانے کی یقین دہانی کی۔
مشترکہ بیان کے مطابق اجلاس نے 17 جون کو امریکہ اور ایران کے درمیان مفاہمتی یادداشت کا خیر مقدم کیا اور اس سلسلے میں پاکستان اور قطر کی جانب سے کی گئی ثالثی کی کوششوں کو سراہا۔
اجلاس میں آبنائے ہرمز میں فریڈم آف نیویگیشن کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کسی بھی قسم کی فیس، ٹیکس یا کنٹرول مسلط کرنے کی کوششوں کو مسترد کیا گیا۔ عمان اور بین الاقوامی میری ٹائم آرگنائزیشن کی جانب سے علاقے میں پھنسے 11 ہزار سے زائد ملاحوں کے انخلا کے منصوبے کا خیر مقدم کیا گیا۔

شام کی خود مختاری، استحکام اور علاقائی انضمام کی حمایت کا اعادہ کرتے ہوئے دہشت گردی کے خاتمے، بنیادی خدمات کی بحالی، سرمایہ کاری کے فروغ، مہاجرین اور پناہ گزینوں کی واپسی میں شامی حکومت کے ساتھ تعاون جاری رکھنے کے عزم کا اظہار کیا۔
اجلاس میں لبنان کی خود مختاری، سلامتی اور علاقائی سالمیت کی سپورٹ، امریکہ کی سرپرستی میں اسرائیل اور لبنان کے درمیان جاری مذاکرات کا خیر مقدم کیا گیا۔ غزہ سے متعلق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے مجوزہ امن منصوبے کی حمایت اور غزہ کی تعمیر نو، استحکام اور بحالی کے لیے خلیجی ملکوں کے کردار کو سراہا گیا۔

اجلاس میں غزہ میں غیر ریاستی مسلح گروہوں کے غیرمسلح ہونے اور انتظامی ذمہ داری ایک آزاد فلسطینی سول کمیٹی کے سپرد کرنے کی ضرورت پر بھی زور دیا گیا۔
عراق میں ایران نواز گروہوں کی جانب سے خلیجی ملکوں پر ڈرون حملوں کی مذمت کی گئی اور نئی عراقی حکومت کی ان کوششوں کی حمایت کی گئی جس کا مقصد اسلحے کو ریاست کے کنٹرول میں لانا اورعراقی سر زمین کو ہمسایہ ملکوں کے خلاف استعمال ہونے سے روکنا ہے۔
اجلاس نے کویت کی خود مختاری اور علاقائی سالمیت کی حمایت کا اعادہ کیا، عراق پر زور دیا گیا کہ وہ اپنے دوطرفہ اور بین الاقوامی وعدوں کی پاسداری کرے، عراق میں تمام سفارتی مشنز کے تحفظ اور سلامتی کو یقینی بنایا جائے۔

عرب نیوز کے مطابق جی سی سی وزرائے خارجہ نے کہا کہ’ تہران کے ساتھ کوئی بھی تجارت اور سرمایہ کاری مشروط ہوگی۔ یہ ایران کی جانب سے مفاہمتی یادداشت اور حتمی معاہدے کی پابندی، غیر مستحکم رویے کے خاتمے اور اقتصادی سرگرمیوں کے لیے ساز گار حالات پر منحصر ہے۔
بحرین میں یہ اجلاس ایسے وقت ہوا ہے جب امریکہ اور ایران تنازع کے خاتمے کے لیے ایک ابتدائی معاہدے پر گزشتہ ہفتے اتفاق کرنے کے بعد مزید مذاکرات میں مصروف ہیں۔












