Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

آر پی او فیصل آباد کی ویڈیوز دیکھ کر لندن سے آنے والی خاتون کی شکایت پر ایس ایچ او برطرف

بزرگ خاتون نے کہا کہ وہ سہیل اختر سکھیرا سے ہی اپنا مسئلہ بیان کریں گی (فوٹو: سوشل میڈیا)
لندن میں مقیم ایک بزرگ خاتون پاکستان پہنچیں تو گھر جانے کی بجائے براہ راست ریجنل پولیس آفیسر (آر پی او) فیصل آباد کے دفتر جانے پر اصرار کرنے لگیں۔
اُن کا کہنا تھا کہ ’وہ آر پی او سہیل اختر سکھیرا کی ویڈیوز سوشل میڈیا پر دیکھتی رہی ہیں اور انہیں ایک ایسے پولیس افسر کے طور پر جانتی ہیں جو عام شہریوں خصوصاً غریب اور مظلوم افراد کی داد رَسی کرتا ہے۔‘
اِن خاتون کا تعلق پنجاب کے ضلع ٹوبہ ٹیک سنگھ کے نواحی قصبے گوجرہ سے ہے اور ان کی دو جائیدادیں ہیں۔
پولیس کے مطابق ان میں سے ایک پلاٹ ان کی بھتیجی شازیہ نورین کے پاس تھا جہاں ساتھ والے پلاٹ کے مالک کے ساتھ قبضے سے متعلق تنازع پیدا ہوا۔
پولیس اب بھی اس معاملے کی انکوائری کر رہی ہے اور اس میں دونوں فریق اپنے اپنے دعوے اور دستاویزات پیش کر رہے ہیں۔
اسی معاملے کے دوران شازیہ نورین نے پولیس سے رابطہ کیا اور الزام عائد کیا کہ ’متعلقہ تھانے میں ان کے ساتھ نامناسب رویہ اختیار کیا گیا۔‘
دوسری جانب پولیس نے یہ مؤقف اختیار کیا کہ ’دوسرے فریق کی جانب سے بھی چونکہ درخواست جمع کروائی گئی تھی تو اس لیے مقامی پولیس نے دونوں فریقوں کو طلب کیا تاکہ ان دونوں کا مؤقف سنا جا سکے اور متعلقہ دستاویزات کا جائزہ لیا جا سکے۔‘
شازیہ نورین نے بعد ازاں آر پی او آفس میں شکایت کی کہ ان کے ساتھ بدتمیزی کی گئی ہے۔ آر پی او فیصل آباد کے ترجمان محمد رضوان بھٹی نے اردو نیوز کو بتایا کہ ’شازیہ کی نانی اس دوران انگلینڈ سے پاکستان پہنچیں۔‘
وہ اس حوالے سے بتاتی ہیں کہ ’شازیہ انہیں لینے کے لیے لاہور ایئرپورٹ گئیں تو بزرگ خاتون نے گھر جانے کی بجائے براہِ راست آر پی او فیصل آباد کے دفتر جانے کا فیصلہ کیا۔‘

ایس ایچ او تھانہ صدر گوجرہ انسپکٹر محسن منیر بسرا کو ملازمت سے برخاست کر دیا گیا ہے (فوٹو: آر پی او آفس، فیصل آباد)

آر پی او فیصل آباد کے ترجمان محمد رضوان بھٹی نے اردو نیوز کو مزید بتایا کہ بزرگ خاتون کا کہنا تھا کہ انہوں نے سہیل اختر سکھیرا کی بہت سی ویڈیوز دیکھی ہیں اور اِن کے بارے میں اچھی باتیں سنی ہیں، چنانچہ وہ براہ راست ان کے دفتر جا کر اپنا معاملہ بیان کرنا چاہتی ہیں۔‘
آر پی او فیصل آباد کے دفتر سے جاری بیان میں پولیس نے بتایا کہ ’خاتون آر پی او دفتر پہنچیں اور اپنی بھتیجی کے ساتھ مبینہ بدسلوکی کی شکایت کی۔‘
محمد رضوان بھٹی کے مطابق، آر پی او سہیل اختر سکھیرا نے فوری طور پر ڈی ایس پی سمیت متعلقہ افسروں کو طلب کیا اور معاملے کے بارے میں پوچھ گچھ کی۔
پولیس حکام کے مطابق ابتدائی طور پر یہ مؤقف سامنے آیا کہ تھانے میں فریقین کو طلب کر کے ان سے بات کی گئی تھی اور ممکن ہے کہ پولیس اہلکار کے اندازِ تکلم کو بدتمیزی سمجھا گیا ہو۔
تاہم معاملے کی مزید انکوائری کے دوران اس پورے معاملے کا ایک اور پہلو نمایاں ہوا۔ ترجمان محمد رضوان بھٹی کے مطابق جب یہ معاملہ حل ہوا تو کچھ ہی دیر بعد خاتون دوبارہ آر پی او آفس آئیں اور انہوں نے شکایت کی کہ ان کے ساتھ ایک مرتبہ پھر نامناسب رویہ اختیار کیا گیا ہے جس پر متعلقہ ایس ایچ او کو دوبارہ طلب کیا گیا اور اُن سے وضاحت طلب کی گئی۔
آر پی او آفس کے ترجمان کا کہنا ہے کہ ’انکوائری کے دوران خاتون سے نامناسب گفتگو اور غیر اخلاقی رویے کا معاملہ سامنے آنے پر آر پی او فیصل آباد سہیل اختر سکھیرا نے ایس ایچ او تھانہ صدر گوجرہ انسپکٹر محسن منیر بسرا کے خلاف فوری طور پر محکمانہ کارروائی کرتے ہوئے انہیں ملازمت سے برخاست کر دیا۔‘
پولیس نے آر پی او آفس سے جاری بیان میں کہا ہے کہ ’اختیار کے ساتھ جب احتساب ہو تو بدسلوکی کے لیے کوئی گنجائش باقی نہیں رہتی۔‘

بزرگ خاتون اپنی بھتیجی کے ہمراہ اپنی جائیداد پر قبضہ چھڑوانے کے لیے قانونی چارہ جوئی کر رہی ہیں (فوٹو: آر پی او آفس، فیصل آباد)

پولیس کے مطابق خواتین کے تحفظ اور شہریوں کے وقار کے حوالے سے زیرو ٹالرنس پالیسی پر عمل درآمد جاری ہے اور کسی افسر یا اہلکار کو عہدے اور اختیار کی بنیاد پر شہریوں سے بدسلوکی کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔
پولیس حکام کا کہنا ہے کہ ’اس پورے معاملے میں ایک اہم فرق برقرار رکھنا ضروری ہے اور وہ یہ ہے کہ بزرگ خاتون کی جائیداد پر مبینہ قبضے کا فیصلہ سرِدست نہیں ہوا۔ اس معاملے میں دونوں فریق موجود ہیں اور جائیداد سے متعلق فیصلہ مکمل انکوائری اور دستاویزات کے جائزے کے بعد میرٹ کی بنیاد پر کیا جائے گا۔‘

شیئر: