صدر ٹرمپ کی آبنائے ہُرمز کا نام تبدیل کر کے ’آبنائے ٹرمپ‘ رکھنے کی تجویز
امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے آبنائے ہُرمز کا نام بدل کر ’آبنائے ٹرمپ‘ رکھنے کی تجویز دے دی، حالانکہ ایران کے ساتھ جنگ کے دوران اس اہم آبی گزرگاہ پر تنازع تاحال جاری ہے۔
فرانسیسی خبر رساں ایجنسی اے ایف پی کے مطابق صدر ٹرمپ نے بدھ کو اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ٹروتھ سوشل‘ پر ’آبنائے ٹرمپ‘ کا نام بدلنے کی تجویز پیش کی۔
انہوں نے لکھا کہ ’اب جبکہ یہ امریکہ کے کنٹرول میں ہے، کیا ہمیں آبنائے ہُرمز کا نام بدل کر ’آبنائے ٹرمپ‘ رکھ دینا چاہیے؟ امریکہ کی طرح یہ نام بھی پہلے سے زیادہ ’مشہور‘ ہو جائے گا۔‘
ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے کسی جغرافیائی مقام کا نام تبدیل کرنے کی یہ تازہ ترین تجویز ہے۔ ایک ہفتہ قبل بھی انہوں نے کینیڈا کے ساتھ تجارتی جنگ کے دوران ’جھیل اونٹاریو‘ کا نام بدل کر ’جھیل امریکہ‘ رکھنے کا حکم دیا تھا۔
صدر ٹرمپ نے جنوری 2025 میں امریکی صدر کا عہدہ سنبھالنے کے پہلے ہی روز ‘خلیج میکسیکو‘ کا نام بھی بدل کر ’خلیج امریکہ‘ رکھ دیا تھا، تاہم میکسیکو اور کینیڈا دونوں نے اِن ناموں کی تبدیلی کو تسلیم نہیں کیا۔
امریکی صدر کی جانب سے پہلے بھی کئی جگہوں کے نام تبدیل کرنے کی باتیں بظاہر مذاق یا مزاحیہ انداز میں شروع ہوئی تھیں، لیکن بعد میں 80 سال کے ڈونلڈ ٹرمپ نے انہیں عملی شکل دینے کی کوشش کی۔
حالیہ ہفتوں کے دوران صدر ٹرمپ متعدد بار آبنائے ہُرمز پر امریکی خودمختاری قائم کرنے کی دھمکیاں بھی دے چکے ہیں۔
انہوں نے اس حوالے سے سوشل میڈیا پر ایک نقشہ بھی شیئر کیا تھا جس میں اِس آبی گزرگاہ کو ’امریکہ کا نیا علاقہ‘ دکھایا گیا تھا۔
امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے شروع کی گئی جنگ کے بعد ایران نے مؤثر طور پر اس اہم آبی راستے کو بند کر رکھا ہے۔ یاد رہے کہ دنیا کے تیل کی قریباً پانچویں حصے کی ترسیل اسی راستے سے ہوتی ہے۔
منگل کو آبنائے ہُرمز کے قریب امریکی افواج کی جانب سے تازہ حملوں کے بعد بین الاقوامی منڈیوں میں تیل کی قیمتوں میں ایک بار پھر اضافہ ہو رہا ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ ’یہ حملے ایران کی جانب سے آبنائے ہُرمز میں نئی بارودی سُرنگیں بچھانے کی کوششوں کے جواب میں کیے گئے۔‘
