غزہ میں گرفتار ڈاکٹر کی مسلسل مارپیٹ اور دیگر زیادتیوں کی رپورٹ: اسرائیلی حقوق گروپ
غزہ میں گرفتار ڈاکٹر کی مسلسل مارپیٹ اور دیگر زیادتیوں کی رپورٹ: اسرائیلی حقوق گروپ
جمعرات 3 ستمبر 2026 6:46
ابو صفیہ 2024 سے بغیر کسی الزام یا مقدمے کے اسرائیل کی حراست میں ہیں (فوٹو: ایکٹو سٹلز)
غزہ میں گرفتار ڈاکٹر حسام ابو صفیہ نے کہا ہے کہ اسرائیلی جیل کے محافظ مسلسل انہیں مارتے ہیں، جسم کے حساس حصوں کو نشانہ بناتے ہیں، نیند سے محروم رکھتے ہیں اور وکیل کو قید کے حالات بتانے سے منع کرتے ہیں۔
عرب نیوز کے مطابق فزیشنز فار ہیومن رائٹس اسرائیل نے بدھ کو کہا کہ اسرائیل کی جیل انتظامیہ ابو صفیہ کے آزاد طبی معائنے میں تاخیر کر رہی ہے، حالانکہ انہیں حال ہی میں جیل کے طبی مرکز منتقل کیا گیا ہے۔
تنظیم نے کہا کہ ’ڈاکٹر ابو صفیہ کی تازہ گواہی اس بات کی تصدیق کرتی ہے کہ ان کے خلاف دانستہ زیادتی کا سلسلہ جاری ہے۔‘ انہوں نے ’مسلسل تشدد، نیند سے محرومی اور دھمکیوں‘ کا ذکر کیا جن کا مقصد وکیل کو حالات بتانے سے روکنا تھا۔
ابو صفیہ، جو شمالی غزہ کے کمال عدوان ۰سپتال کے ڈائریکٹر ہیں، دسمبر 2024 سے بغیر کسی الزام یا مقدمے کے اسرائیل کی حراست میں ہیں۔
30 اگست کو ایک قانونی ملاقات کے دوران ابو صفیہ نے اپنے وکیل کو بتایا کہ محافظوں نے حالیہ ہفتوں میں ہاتھوں، جوتوں اور ڈنڈوں سے انہیں مارا، اور جسم کے مختلف حصوں بشمول حساس مقامات کو نشانہ بنایا۔ انہوں نے کہا کہ محافظ رات کو شور مچاتے اور جیل کے پبلک ایڈریس سسٹم کا استعمال کرتے ہوئے جان بوجھ کر ان کی نیند خراب کرتے ہیں۔
ابو صفیہ نے مزید کہا کہ پچھلی ملاقات کے بعد انہیں مارا گیا اور خبردار کیا گیا کہ وہ قید کے حالات کے بارے میں تفصیل نہ بتائیں۔
فزیشنز فار ہیومن رائٹس اسرائیل ابو صفیہ کے آزاد طبی معائنے کے لیے قانونی کارروائی کر رہا ہے۔ اس نے 7 جولائی کو اسرائیلی جیل انتظامیہ سے کہا کہ ڈاکٹر امیت تیروش، جو اندرونی طب کے ماہر ہیں، ابو صفیہ کا معائنہ کریں۔ جب حکام نے اجازت نہ دی تو تنظیم نے انتظامی عدالت میں درخواست دائر کی۔
جیل انتظامیہ نے جواب داخل کرنے کے لیے مزید وقت مانگا، لیکن تنظیم نے کہا کہ مزید تاخیر کا کوئی جواز نہیں اور ابو صفیہ کی صحت کے مسائل کے باعث آزاد معائنہ فوری طور پر ضروری ہے۔
یہ تازہ گواہی ابو صفیہ کی گرفتاری کے دوران پہلے سے رپورٹ شدہ زیادتیوں میں اضافہ کرتی ہے (فائل فوٹو: یورو مانیٹر)
ابو صفیہ نے بتایا کہ 10 اگست کو انہیں زیر زمین ’رکیفیت‘ حراستی مرکز سے، جہاں وہ تنہائی میں تھے، راملا جیل کے طبی مرکز (ماراش) منتقل کیا گیا۔ وہ وہاں تقریباً ایک ہفتہ رہے اور کئی طبی مسائل کی نشاندہی ہوئی۔ تنظیم نے کہا کہ یہ منتقلی خود ظاہر کرتی ہے کہ ابو صفیہ کو سنگین طبی ضرورت ہے جسے عام جیل میں پورا نہیں کیا جا سکتا، لہٰذا آزاد معائنہ لازمی ہے۔
یہ تازہ گواہی ابو صفیہ کی گرفتاری کے دوران پہلے سے رپورٹ شدہ زیادتیوں میں اضافہ کرتی ہے۔ پچھلی ملاقاتوں میں بتایا گیا تھا کہ ان کے سر، چہرے اور جسم کے دیگر حصوں پر چوٹیں آئیں۔ انہوں نے کہا کہ وکیل کی جانب سے فوری طبی معائنے کی درخواست کے بعد بھی تشدد جاری رہا۔
اسرائیلی جیل انتظامیہ کے طبی ریکارڈ میں ابو صفیہ کی بائیں آنکھ کی چوٹ درج ہے اور سر و سینے کے درد کی شکایات بھی نوٹ کی گئی ہیں۔
علاوہ ازیں اسرائیلی سپریم کورٹ ایک درخواست پر غور کر رہی ہے جس میں حقوق گروپ نے غزہ کے 14 فلسطینی ڈاکٹروں کی رہائی کا مطالبہ کیا ہے، جنہیں بغیر الزام یا مقدمے کے حراست میں رکھا گیا ہے۔