حوثیوں کے حملوں کے خلاف مملکت اپنے دفاع سے گریز نہیں کرے گی: سعودی وزیرِ خارجہ
روسی وزیرِ خارجہ سرگئی لاوروف نے کہا کہ سعودی عرب میں شہری اہداف پر حوثیوں کے حملے ناقابلِ قبول ہیں۔ (فوٹو: اے پی)
سعودی عرب کے وزیرِ خارجہ فیصل بن فرحان نے منگل کے روز کہا ہے کہ مملکت حوثیوں کے حملوں کے خلاف اپنے دفاع سے کسی صورت گریز نہیں کرے گی۔
عرب نیوز کے مطابق روس کے دارالحکومت ماسکو میں گفتگو کرتے ہوئے وزیرِ خارجہ نے کہا کہ سعودی عرب اپنے مفادات کے تحفظ کے لیے تمام دستیاب ذرائع استعمال کرے گا۔
انہوں نے مزید کہا کہ ’حوثی ملیشیا جب بھی خود کو مشکل صورتحال میں پاتی ہے تو تشدد کا راستہ اختیار کرتی ہے۔ حوثی یمن میں اپنے داخلی مسائل سعودی عرب تک منتقل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔‘
وزیرِ خارجہ نے کہا کہ حوثیوں کے لیے سفارت کاری کا دروازہ کھلا ہے، تاہم جب بھی وہ خود کو مشکل صورتحال میں پاتے ہیں تو تشدد کا سہارا لیتے ہیں۔
روسی وزیرِ خارجہ سرگئی لاوروف نے کہا کہ سعودی عرب میں شہری اہداف پر حوثیوں کے حملے ناقابلِ قبول ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ ’باب المندب آبنائے میں سلامتی اور آزادانہ آمدورفت کو یقینی بنایا جانا چاہیے۔‘
خیال رہے منگل کو اتحادی افواج کے ترجمان میجر جنرل ترکی المالکی نے کہا تھا کہ حوثی حملوں کے نتیجے میں سعودی عرب کے مختلف شہروں میں خواتین اور بچوں سمیت 70 سے زیادہ افراد زخمی ہوگئے ہیں۔
میجر جنرل ترکی المالکی نے کہا تھا کہ مملکت حوثیوں کے خلاف ضروری عملی اقدامات کرے گی۔
میجر جنرل ترکی المالکی نے حوثیوں کی بڑھتی ہوئی کشیدگی اور سعودی سرزمین اور انفراسٹرکچر کو نشانہ بنانے کی کوششوں کو ’خطرناک‘ قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ یہ اقدامات حوثی گروپ کے دشمنی پر مبنی اور غیر ذمہ دارانہ طرزِ عمل کی عکاسی کرتے ہیں۔
میجر جنرل المالکی نے کہا کہ حوثی ملیشیا کے حالیہ حملوں میں ابہا، خمیس مشیط، جازان اور نجران کے شہروں میں شہری اور اقتصادی تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا جس کے نتیجے میں خواتین اور بچوں سمیت 73 افراد زخمی ہوئے۔
