کہانی آسٹریلیا سے شروع ہوتی ہے، میلبورن وہاں کا مشہور شہر ہے۔ ہم پاکستانی کرکٹ کے حوالے سے میلبورن سے واقف ہیں۔ اسی میلبورن کے ایک 42 سالہ اکاؤنٹنٹ نے تنگ آ کر ڈاکٹر سے وقت لیا۔
اسے پکا یقین تھا کہ اندر کچھ نہ کچھ خراب ضرور ہے۔ ٹیسٹ ہوئے، رپورٹیں آئیں، ڈاکٹر نے چشمہ اتار کر کہا کہ ’آپ کو کوئی بیماری نہیں۔‘
بیماری واقعی کوئی نہیں تھی۔ اچھی ملازمت، معقول تنخواہ، اپنا گھر، دروازے پر کھڑی گاڑی، فیملی، سب کچھ موجود تھا۔ کمی بس اتنی تھی کہ صبح دفتر جانے کو دل نہیں چاہتا تھا، چھٹی کا دن سر پر بوجھ بن کر گزرتا تھا، کبھی دوستوں کے ساتھ محفل سجاتا مگر اندر سے کوئی خوشی، سرشاری محسوس ہی نہ ہوتی، دل بجھ سا گیا تھا۔ ڈاکٹروں کے پاس اس کا کوئی مناسب علاج تھا نہ دوائی، اسے سائیکالوجسٹ کے پاس سیشن لینے کا مشورہ دیا گیا مگر کیا یہ حل تھا؟
مزید پڑھیں
-
کیا آپ کی زندگی میں ڈیلیٹ بٹن موجود ہے؟ عامر خاکوانی کا کالمNode ID: 904883
-
قوموں کو کیا چیز آپس میں جوڑ سکتی ہے؟ عامر خاکوانی کا کالمNode ID: 906095
ممکن ہے اس سے کچھ فائدہ ہو مگر مجھے لگا کہ مسئلہ اس سے کہیں زیادہ گہرا تھا۔
اب یہ ساری روداد اگر پنجاب کے کسی گاؤں میں چارپائی پر بیٹھے بزرگ کسان کے سامنے رکھ دی جائے تو وہ ڈاکٹروں، ٹیسٹوں اور رپورٹوں کے سارے جھنجھٹ کو ایک ہی جملے میں نمٹا دے گا، ’پُتر زندگی وچوں چَس مک گئی اے۔‘
چَس، خاکسار کا خیال ہے کہ پنجابی اور سرائیکی دونوں زبانوں میں اس سے خوبصورت اور بامعنی لفظ شاید ہی کوئی ہو۔
اس ایک لفظ میں خوشی بھی ہے، لطف بھی، اشتیاق بھی اور جینے کی وہ للک بھی جو آدمی کو ہر صبح بستر سے کھینچ کر باہر نکالتی ہے۔ اسی لیے کسی اور زبان میں اس کا ٹھیک ٹھیک ترجمہ نہیں ہو پاتا۔ آپ لاکھ زور لگا لیں، بات بنتی ہی نہیں۔
جیب کی طرح دل بھی غریب ہو جاتا ہے
معاملہ یوں شروع ہوا کہ چند روز پہلے میں گارڈین ویکلی کا ڈیجیٹل ایڈیشن پڑھ رہا تھا۔ ڈیلی گارڈین برطانیہ کا مشہور اخبار ہے، گارڈین ویکلی اس کا انٹرنیشنل ایڈیشن ہے۔
گارڈین ویکلی مجھے اس لیے ہمیشہ یاد رہے گا کہ 30 سال قبل جب میں نے اپنی صحافت کا آغاز کیا، اردو ڈائجسٹ میں میرا پہلا دن تھا۔ ابھی اپنے چھوٹے سے کیبن نما کمرے میں بیٹھا ہی تھا کہ مینیجنگ ایڈیٹر صاحب نے یہ گارڈین ویکلی میرے آگے رکھ دیا اور کہا کہ اس کی فلاں سٹوری ترجمہ کر کے آج ہی دے دیں۔
ملازمت کا پہلا دن تھا، سامنے برٹش انگریزی کا گارڈین اور کمرے میں ڈکشنری تک نہیں۔ نہ پوچھیں، کیسے کام چلایا۔
خیر آج کے زمانے میں لوٹتے ہیں۔ اس ہفتے کے گارڈین ویکلی میں آسٹریلیا کے بارے میں ایک رپورٹ نظر سے گزری، اس سے گزر نہ سکا، وہیں تھم گیا۔

اس میں ایک اصطلاح استعمال ہوئی تھی، ’ویل بی انگ پاورٹی‘ یعنی انسان کے پاس آمدنی بھی ہو، نوکری بھی، سر پر چھت بھی، مگر زندگی سے اطمینان اور جینے کا مزہ رفتہ رفتہ ہاتھ سے نکل چکا ہو۔ اردو میں اس کا ترجمہ مشکل ہے، خوشحالی میں چھپی غربت کہہ لیں یا کچھ اور، سرائیکی کی ایک طنزیہ ترکیب ویسے فٹ آتی ہے، رج دی مستی۔
اعداد و شمار چونکا دینے والے تھے۔ آسٹریلیا میں تقریباً 22 لاکھ افراد اس کیفیت کا شکار ہیں۔ 2014 میں ہر 20 میں سے ایک آسٹریلوی اپنی زندگی سے شدید غیر مطمئن تھا، آج ہر 10 میں سے ایک ہے۔ دس برس میں تعداد ٹھیک دگنی۔ حیرت کی بات یہ کہ ان میں بیشتر وہ لوگ ہیں ہی نہیں جنہیں ہم روایتی معنوں میں غریب کہتے ہیں۔
زندگی کی تمام سہولتیں، مگر بے اطمینانی، بے سکونی، اضطراب، بجھا ہوا دل۔ نجانے کیا ایسی چیز ہے جس نے ان کی ساری رونق نچوڑ لی۔
رپورٹ میں ایک اور بات تھی جو مجھے سب سے زیادہ کھٹکی۔ اس کیفیت کے شکار لوگوں میں سے صرف 15 فیصد کو لگتا ہے کہ اپنے خاندان، محلے، علاقے بھر میں ان کی بھی کوئی رائے ہے، تاہم باقی 80، 85 فیصد لوگ خود کو بے وقعت، کمتر اور غیر اہم تصور کرتے ہیں، یعنی آدمی اپنے ہی شہر میں پردیسی بن کر رہ گیا ہے۔
ایک گورے موٹیویشنل سپیکر کا برسوں پہلے قول پڑھا تھا، غربت صرف جیب کی نہیں ہوتی، دل بھی کبھی کبھی غریب ہو جاتا ہے۔
پھر ترقی ناپیں کیسے؟
چلیں آسٹریلیا کا قصہ ایک سائیڈ پر کر دیں، اس لیے کہ معاملہ صرف آسٹریلیا کا نہیں۔ پوری دنیا میں آہستہ آہستہ ایک نئی سوچ سر اٹھا رہی ہے۔ کئی عشروں تک ترقی کا واحد پیمانہ جی ڈی پی رہا۔ قومی پیداوار بڑھ گئی تو مان لیا گیا کہ ملک ترقی کر گیا۔ اب دنیا ایک اور سوال کرنے لگی ہے۔ معیشت تو بڑھ گئی، انسان بھی کچھ بہتر ہوا یا نہیں؟

اس موضوع پر تھوڑی سی تحقیق ہم نے کی تو پتہ چلا کہ اس سوال کی پہلی گونج نصف صدی پہلے ہمارے سارک ممالک میں سے ایک پہاڑوں میں گھرے ننھے سے ملک بھوٹان سے آئی تھی۔
بھوٹان کے شاہ نے یہ بات کہی کہ ہمارے نزدیک قومی خوشی، قومی پیداوار سے زیادہ اہم ہے، ترقی صرف سڑکیں، پل اور فلائی اوور نہیں ہوتے، ایسے شہری ہوتے ہیں جو دل سے مطمئن ہوں۔
اس وقت بہت سوں نے اسے پہاڑی ملک کی رومانوی سوچ کہہ کر ہنسی میں اڑا دیا۔ آج وہی سوچ نئے نئے روپ دھار کر دنیا بھر میں جگہ بنا رہی ہے۔
اس خیال کو سب سے مؤثر عملی شکل نیوزی لینڈ نے دی۔ 2019 میں اُس وقت کی وزیراعظم جیسنڈا آرڈرن نے دنیا کا پہلا ویل بی انگ بجٹ پیش کر دیا۔
ان کا کہنا تھا کہ بجٹ بناتے ہوئے صرف یہ نہ دیکھو کہ فلاں منصوبے سے خزانے میں کتنے ڈالر آئیں گے، یہ بھی دیکھو کہ اس سے لوگوں کی زندگی میں کیا فرق پڑے گا۔ ذہنی صحت سنورے گی؟ بچوں کا کل زیادہ محفوظ ہو گا؟ خودکشیوں اور گھریلو تشدد میں کمی آئے گی؟ یوں پہلی بار ایسا ہوا کہ بجٹ کی کامیابی کا پیمانہ صرف معاشی ہندسے نہیں، انسانی زندگی کا معیار بھی ٹھہرا۔
برطانیہ نے یہی کام ذرا الگ ڈھنگ سے کیا۔ وہاں کا قومی ادارہ شماریات برسوں سے شہریوں سے چار سادہ سے سوال پوچھتا آ رہا ہے، آپ مجموعی طور پر اپنی زندگی سے کتنے مطمئن ہیں؟
آپ کو اپنی زندگی کتنی بامعنی لگتی ہے؟ کل آپ کتنے خوش تھے؟ اور کل آپ کتنے پریشان یا مضطرب رہے؟

مقصد صرف یہ جاننا ہے کہ ہندسوں کے اس سارے ڈھیر کے پیچھے اصل جیتا جاگتا آدمی کس حال میں ہے؟
بات ویسے ٹھیک ہے، اگر ترقی واقعی عوام کے لیے ہے تو اس کی جھلک صرف لوگوں کی آمدنی میں نہیں بلکہ ان کی ہنسی، خوشی اور باہمی تعلق میں بھی نظر آنی چاہیے۔
اسی سوچ کی ایک اور صورت وہ ورلڈ ہیپی نیس رپورٹ ہے جو ہر سال شائع ہوتی ہے۔ اس میں صرف فی کس آمدنی نہیں دیکھی جاتی۔ سماجی اعتماد، ذہنی صحت، خاندانی رشتے، دوسروں کے کام آنے کا رجحان، یہ سب گنے جاتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ کئی چھوٹے چھوٹے ملک دنیا کی بڑی بڑی معیشتوں کو خوشی کے میدان میں پیچھے چھوڑ جاتے ہیں۔
برٹرینڈ رسل کی اصطلاح اور ہمارا لفظ
یہاں مجھے برٹرینڈ رسل یاد آ گیا۔ اپنی مشہور کتاب دی ’کنکوئسٹ آف ہیپی نیس‘ میں اس نے ایک خوبصورت ترکیب استعمال کی تھی، ’زیسٹ فار لائف‘، یعنی زندگی سے محبت۔ جینے کا چاؤ، ہر نئے دن کو کھلے بازوؤں سے گلے لگانے کا جذبہ۔
رسل کے نزدیک خوش نصیب وہ نہیں جس کے پاس دولت زیادہ ہو، خوش نصیب وہ ہے جس کے اندر حیرت، تجسس اور زندگی سے دلچسپی ابھی زندہ ہو۔
رسل کی یہ کتاب بھی مجھے اس لیے یاد اور پسند ہے کہ لاہور آ کر انارکلی کی مشہور پرانی کتابوں کے اتوار بازار سے یہ پہلی کتاب خریدی تھی۔ اسے پڑھا اور پھر ہاسٹل میں لڑکوں پرخوب فلسفہ جھاڑا۔
ہمارا لفظ چَس بھی یہی ہے۔ زیسٹ آف لائف سمجھ لیں۔ چس صرف خوشی نہیں، جینے کا ذائقہ ہے۔ وہ کیفیت ہے جس میں عام دن بھی اچھا لگنے لگتا ہے۔
ہمارے فوک دانش والے بابے ایک لفظ میں وہ کہہ گئے جس پر رسل غریب کو پوری کتاب لکھنا پڑی۔

اب کہنے کو تو کوئی اٹھ کر کہہ سکتا ہے کہ پاکستان میں تو یہ بحث ہی بیکار ہے۔ ہمارے ہاں تو ابھی مہنگائی، بے روزگاری، مہنگی تعلیم اور مہنگے علاج جیسے بنیادی جھگڑے ہی نہیں نمٹے، خوشی کہاں سے لائیں؟
بات میں وزن ہے، انکار نہیں مگر ذرا اپنے اردگرد بھی تو نظر دوڑائیے۔ کتنے ہی لوگ ہیں جن کے پاس اچھی نوکری ہے، گھر ہے، گاڑی ہے، جیب میں مہنگا موبائل بھی ہے، مگر چہرے پر سکون کا نام و نشان نہیں۔
شام کو بچوں کے پاس بیٹھنے کی فرصت نہیں، دوستوں سے وہ بے تکلف گپ شپ کہیں کھو گئی۔ کتاب کھولے یا خاموشی سے آسمان تکے مدت ہو چلی۔ سارا دن ایک دوڑ لگی رہتی ہے، اور اس دوڑ میں خود زندگی نہ جانے کہاں پیچھے رہ گئی۔
اس کے مقابلے میں کسی گاؤں یا چھوٹے شہر، قصبے میں چائے والے ڈھابے کی چارپائی پر بیٹھے یار دوست ایک کپ کڑک چائے، ٹھنڈی ہوا کے جھونکے اور دیر تلک چلنے والی بے مقصد سی گفتگو میں وہ لطف نچوڑ لیتے ہیں جو مہنگے سے مہنگا ریسٹورنٹ بھی نہیں دے سکتا۔ ان کے پاس پیسہ کم سہی، زندگی کی چَس مگر سلامت ہے۔

یہاں کوئی یہ نہ سمجھ بیٹھے کہ خاکسار غربت کے گن گا رہا ہے یا ترقی کو غیر ضروری کہہ رہا ہے۔ ہرگز نہیں۔ معاشی خوشحالی ہر معاشرے کی بنیادی ضرورت ہے، اس سے انکار حماقت ہو گی۔ میں تو بس اتنا کہنا چاہتا ہوں کہ نری خوشحالی کافی نہیں۔ اگر آدمی کے چہرے سے مسکراہٹ اور دل سے سکون ہی رخصت ہو جائے تو ایسی ترقی شہد لگا کر چاٹنے کے کام تو نہیں آئے گی۔
غور کیا تو گارڈین ویکلی کی وہ سپیشل رپورٹ صرف آسٹریلیا کی کہانی نہیں لگی۔ وہ تو پوری جدید دنیا کا چہرہ دکھانے والا آئینہ تھا۔ تو بھائی لوگو، بات گھوم پھر کر وہیں آ جاتی ہے۔ اصل مسئلہ یہ نہیں کہ ہماری زندگی چھوٹی ہوتی جا رہی ہے۔ اصل مسئلہ یہ ہے کہ وہ بے مزہ ہوتی جا رہی ہے۔
آج شام گھر جائیں تو ایک تجربہ کر کے دیکھیے گا۔ موبائل ایک گھنٹے کے لیے آف کر کے الماری میں رکھ دیں۔ چائے کا کپ اٹھائیں اور بچوں کے پاس بیٹھ جائیں۔ بغیر کسی کام کے، بغیر کسی مقصد کے۔
اگر اس ایک گھنٹے میں دل میں کوئی حرکت ہوئی، اندر جمی برف پگھلی، کہیں کچھ مزہ سا آیا، تو سمجھ لیجیے سڑکوں کے ٹریفک جام سے لے کر بجلی کے بل تک، سب کچھ برداشت ہو جائے گا۔
اگر مزہ نہ آیا، تو ڈاکٹر کے پاس جانے کی ضرورت نہیں، رپورٹیں سب ٹھیک ہی آئیں گی۔ آپ کو پھر دوائیوں کی نہیں، بس اپنے اندر جھانکنے اور کچھ کھوجنے کی ضرورت ہے۔











