ایکس مونیٹائزیشن میں تبدیلیاں، 7 ستمبر کے بعد کانٹینٹ کریئیٹرز کے لیے کیا کچھ بدل جائے گا؟
پیر 7 ستمبر 2026 6:41
فرحان احمد خان ، اردو نیوز
آٹھ ستمبر کو نئے ’اوریجنل کنٹینٹ ریوارڈز پروگرام‘ کے لیے درخواستوں کی وصولی کا باقاعدہ آغاز ہو گا (فوٹو: اے ایف پی)
سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ نے دنیا بھر کے کنٹینٹ کریئیٹرز کے لیے آمدنی کا ایک نیا نظام متعارف کرانے کا اعلان کیا ہے جس کا بنیادی مقصد پلیٹ فارم سے کاپی شدہ، چوری شدہ اور غیر معیاری مواد کا خاتمہ کر کے صرف اصلی (اوریجنل) مواد تیار کرنے والوں کو مالی فائدے پہنچانا ہے۔
کمپنی کی جانب سے کریئیٹرز کو بھیجے گئے باقاعدہ نوٹیفکیشن کے مطابق اس نئے نظام کو ’اوریجنل کنٹینٹ ریوارڈز پروگرام‘ کا نام دیا گیا ہے۔
پرانے نظام کا خاتمہ اور نئی تاریخیں
ایکس کی جانب سے جاری کردہ تفصیلات کے مطابق سات ستمبر 2026 کو موجودہ ’ایڈز ریوینیو شیئرنگ‘ پروگرام کو مکمل طور پر ختم کر دیا جائے گا۔
11 ستمبر 2026 کو پرانے پروگرام کے تحت کریئیٹرز کو آخری ادائیگی (پے آؤٹ) کی جائے گی۔
آٹھ ستمبر 2026 کو نئے ’اوریجنل کنٹینٹ ریوارڈز پروگرام‘ کے لیے درخواستوں کی وصولی کا باقاعدہ آغاز ہو گا۔
ایکس نے واضح کیا ہے کہ جن صارفین کی شناختی تصدیق (آئی ڈی ویریفیکشن) پہلے سے مکمل ہے اور جن کا ادائیگی کا ذریعہ (پے آؤٹ میتھڈ) منسلک ہے انہیں یہ مرحلہ دوبارہ طے کرنے کی ضرورت نہیں ہو گی۔
وہ اپنے ’کریئیٹر سٹوڈیو‘ میں جا کر کسی بھی وقت اپنی اہلیت چیک کر سکتے ہیں۔
پاکستان میں ’کاپی پیسٹ کلچر‘ اور خامیوں کا استعمال
پاکستان اور چند دیگر ممالک میں جب سے ایکس نے مونیٹائزیشن (پوسٹس سے پیسے کمانے) کا سلسلہ شروع کیا تھا، تب سے پلیٹ فارم پر عجیب و غریب رجحانات دیکھنے میں آئے۔
ریوینیو حاصل کرنے کی دوڑ میں بہت سے اکاؤنٹس نے غیر معمولی تعداد میں ویڈیوز اور پوسٹس شیئر کرنا شروع کر دیں۔ کچھ مشہور صحافیوں اور کنٹینٹ کریئیٹرز نے تو باقاعدہ ایسی ٹیمیں ہائر کر رکھی تھیں جن کا واحد کام ٹی وی چینلز کی لائیو نشریات سے ویڈیو کلپس کاٹ کر فوراً ایکس پر اپ لوڈ کرنا تھا۔
اس کے علاوہ ایک بڑا طبقہ ایسا بھی تھا جو دیگر سوشل میڈیا پلیٹ فارمز (مثلاً ٹک ٹاک، فیس بک یا انسٹاگرام) سے وائرل ویڈیوز ڈاؤن لوڈ کر کے ایکس پر پوسٹ کر رہا تھا۔
ان کریئیٹرز کا خیال تھا کہ دوسرے پلیٹ فارم کی ویڈیو ایکس پر ڈالنے سے ایکس کا الگورتھم اسے ’کاپی رائٹ کی خلاف ورزی‘ کے طور پر پکڑ نہیں سکے گا اور اس طرح مفت میں انگیجمنٹ ملنے سے انہیں ریوینیو کے ڈالرز ملتے رہیں گے۔
اس تمام صورتحال نے ایکس کی فیڈ کو غیر معتبر اور کاپی شدہ مواد سے بھر دیا تھا جس کے بعد یہ سوال تیزی سے ابھر رہا تھا کہ اس پلیٹ فارم پر کتنے صارفین واقعی خود محنت کر کے اوریجنل مواد بنا رہے ہیں اور کتنے صرف ’کاپی پیسٹ‘ کے ذریعے پیسے کما رہے ہیں۔
ایکس کی پالیسی میں تبدیلی کی وجہ
ایکس انتظامیہ کا کہنا ہے کہ ’پلیٹ فارم کی اصل طاقت وہ لوگ ہیں جو بریکنگ نیوز، ماہرانہ تجزیے، اپنے ذاتی تجربات اور تخلیقی صلاحیتیں شیئر کرتے ہیں۔‘
کمپنی کے مطابق نئے پروگرام کا مقصد ان لوگوں کی محنت کا معاوضہ دینا ہے جو پلیٹ فارم پر اصلی اور معیاری گفتگو کا باعث بنتے ہیں۔
سوشل میڈیا ماہرین کے مطابق ایکس کا یہ نیا اقدام دیگر پلیٹ فارمز سے ویڈیوز چوری کر کے پوسٹ کرنے والوں، بوٹس اور کاپی پیسٹ کر کے ریوینیو کمانے والے اکاؤنٹس کے لیے ایک بڑا دھچکا ثابت ہو گا اور اب صرف وہی لوگ پیسے کما سکیں گے جن کا اپنا تخلیق کردہ مواد ہو گا۔