Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

خاتون کو ہاؤس وائف کہنا غلط ہے، ہاؤس میکر کہنا چاہیے: عامر خاکوانی کا کالم

’انڈین سپریم کورٹ کا فیصلہ انشورنس کمپنیوں کو اپنے ہیومن لائف ویلیو کیلکولیٹر تبدیل کرنے پر مجبور کر دے گا‘ (فوٹو: اے ایف پی)
یہ واقعہ خاصا پرانا ہے۔ ان دنوں کا جب ابھی صحافت میں نہیں آیا تھا، تعلیم مکمل کر چکا تھا۔ ایک عزیز کے بچوں کو دو تین مہینے ٹیوشن پڑھانے کا موقع ملا۔ لوئر مڈل کلاس فیملی تھی۔ صاحبِ خانہ سرکاری ملازم تھے۔ اہلیہ ہاؤس وائف۔ آٹھ سے تیرہ سال کے تین بچے۔
ایک روز ان کے گھر گیا تو وہاں ایک عجیب منظر دیکھنے کو ملا۔ کسی بات پر شاید تلخ کلامی ہوئی ہوگی۔ ان صاحب نے اچانک تلملا کر اپنی بیگم کو طعنہ مارا: ’تم سارا دن کرتی کیا ہو؟یہ گھر سنبھالنا کون سا کام ہے اور یہ کوئی کنٹری بیوشن نہیں۔ ہماری ہمت ہے، گھر چلانے کے لیے اتنا خوار ہوتے ہیں۔‘
ان کی اہلیہ محترمہ نے میرا لحاظ کیا یا ویسے ہی ان کا دھیما مزاج تھا، انہوں نے کوئی جواب نہیں دیا۔ بس چائے کا کپ رکھا اور خاموشی سے کمرے سے باہر چلی گئیں۔ ان کے چہرے پر مگر جو کوفت، تکلیف اور کرب کی کیفیت ابھری، میں وہ آج تک نہیں بھلا سکا۔
مجھے ان کی خاموشی میں ایک پوری کہانی نظر آئی۔ خود ایک لوئر مڈل کلاس فیملی سے تعلق رکھنے کی وجہ سے میں جانتا تھا کہ ہمارے گھروں کی خواتین کا یہ معمول ہے کہ صبح پانچ بجے اٹھنا، ناشتہ بنانا، بچوں کو سکول کے لیے تیار کرنا، گھر کی صفائی۔ پھر دوپہر کو کھانا پکانا، عصر کو گھر کے بزرگوں کے لیے چائے۔ پھر رات کا کھانا الگ سے بنانا، بچوں کا ہوم ورک وغیرہ بھی دیکھنا۔ رات گئے تک گھر کے ہر چھوٹے بڑے معاملے کی فکر۔
یہ سب ایک ایسا کام ہے جس کی نہ کوئی تنخواہ ہے، نہ چھٹی اور نہ کوئی شکریہ۔ افسوس کی بات یہ ہے کہ اکثر گھروں میں مرد حضرات اسے کام ہی نہیں سمجھتے۔ بدقسمتی سے اکثر گھروں میں سسرالی خواتین بھی اپنی بہو/بھابھی کو ٹف ٹائم دینے کی خاطر ان کی سپورٹ نہیں کرتیں اور الٹا مردوں کی ہاں میں ہاں ملا کر ہاؤس وائف کو مزید تکلیف پہنچاتی ہیں۔
یہی وہ پس منظر تھا جو مجھے انڈین سپریم کورٹ کے ایک حالیہ تاریخی فیصلہ کی رپورٹ پڑھتے ہوئے یاد آیا۔ یہ معاملہ بظاہر تو ایک پرانے موٹر حادثے کے کلیم کا تھا مگر اس کے اثرات بہت دور تک جائیں گے۔
بات یوں ہے کہ دو ہزار ایک میں (انڈین) پنجاب میں ایک سڑک حادثے میں ریشماں نامی ایک خاتون کی ڈیتھ ہوگئی۔ ان کے شوہر اور بچوں نے معاوضے کا دعویٰ کیا۔ ضلعی عدالت نے کچھ رقم دلوائی مگر خاندان کو لگا کہ یہ رقم اس نقصان کا احاطہ نہیں کرتی جو ان کی والدہ کی موت سے ہوا۔ معاملہ ہائی کورٹ سے ہوتا ہوا سپریم کورٹ پہنچا اور وہاں جسٹس سنجے کرول اور جسٹس این کے سنگھ نے ایک ایسا فیصلہ دیا جسے میں بلاجھجک تاریخی کہوں گا۔

عدالت نے ایک بہت اہم بات کہی کہ ’گھریلو عورت کو ہوم میکر کہنا چاہیے۔‘ (فوٹو: شٹر سٹاک)

عدالت نے ایک بہت اہم بات کہی کہ ’گھریلو عورت کو ہاؤس وائف کہنا ہی غلط ہے۔ اسے ہوم میکر کہنا چاہیے‘۔ یہ صرف لفظوں کا ہیر پھیر نہیں۔ اس کے پیچھے ایک پوری سوچ ہے۔ ہاؤس وائف کہنے سے ایک تاثر یہ ملتا ہے کہ یہ عورت گھر کے ساتھ جڑی ہوئی ایک چیز ہے جبکہ ہوم میکر کہنے سے یہ بات سامنے آتی ہے کہ یہ عورت گھر کو بناتی ہے، چلاتی ہے، اسے ایک گھر کا روپ دیتی ہے۔
عدالت نے یہاں تک کہا کہ ایسی خواتین گھریلو خادمائیں نہیں بلکہ ملک کی معمار ہیں کیونکہ یہ جو بچے پالتی ہیں، انہیں تربیت دیتی ہیں، یہی بچے کل ملک کے ذمہ دار شہری بنتے ہیں۔
اب سوال یہ ہے کہ عدالت نے اس جذباتی بات کو عملی شکل کیسے دی۔ عدالت نے ایک واضح اصول طے کیا ہے کہ کسی بھی گھریلو خاتون کے بلامعاوضہ کام کی کم از کم قیمت 30 ہزار روپے ماہانہ یعنی تین لاکھ 60 ہزار روپے سالانہ مقرر کی جائے گی۔ اب کسی حادثے میں اگر کوئی گھریلو خاتون فوت ہو جائے تو معاوضے کا حساب اسی رقم سے شروع ہوگا۔ صرف اتنا ہی نہیں، عدالت نے یہ بھی کہا کہ یہ رقم ہر تین سال بعد دس فیصد بڑھے گی کیونکہ مہنگائی کسی کا انتظار نہیں کرتی۔
انشورنس کے اصول کے مطابق اس بنیادی رقم کو خاتون کی عمر کے حساب سے ایک خاص حساب سے ضرب دی جاتی ہے۔ مثال کے طور پر اگر کسی خاتون کی عمر 30 برس ہو اور وہ حادثے میں چلی جائیں تو قانون یہ سمجھتا ہے کہ اگر وہ زندہ رہتیں تو کم از کم مزید 18، 20 برس تک اپنے خاندان کی خدمت کرتیں۔ اس حساب سے تین لاکھ 60 ہزار کو 17 یا 18 سے ضرب دی جائے تو رقم 61 سے 64 لاکھ روپے کے درمیان بنتی ہے۔ یوں ماتحت عدالتوں سے ملنے والا چار پانچ لاکھ کا معاوضہ اب کئی گنا بڑھ گیا۔
یاد رہے کہ یہ انڈین روپے کی بات ہو رہی ہے۔ پاکستانی روپے میں تو یہ رقم اور زیادہ بن جاتی ہے، کروڑ کے لگ بھگ۔
دراصل پہلے یہ ہوتا تھا کہ جب کوئی ہاؤس وائف حادثے میں جان سے جاتی تھی تو انشورنس کمپنیاں عدالتوں میں یہ دلیل دیتیں کہ مرنے والی خاتون کوئی کمائی نہیں کرتی تھی، صرف گھر میں رہتی تھی۔ اس لیے خاندان کو کوئی مالی نقصان نہیں پہنچا لہذا کلیم بھی نہ ہونے کے برابر ملنا چاہیے۔
یہی وہ نکتہ تھا جسے بنیاد بنا کر گھریلو خواتین کو بے وقعت سمجھا جاتا رہا۔ ایک عورت جو صبح سے رات تک کنبے کی خدمت میں لگی رہتی تھی، اس کی موت کو محض اس بنیاد پر کم اہم سمجھا جاتا تھا کہ اس کے ہاتھ میں تنخواہ کا لفافہ نہیں آتا تھا۔

’کیا عجب کہ کسی روز پاکستان کی اعلیٰ عدالت میں بھی ایسا ہی کوئی کیس آئے‘ (فوٹو: اے ایف پی)

اب سپریم کورٹ کے اس فیصلے کے بعد انشورنس کمپنیوں کے پاس یہ عذر ہمیشہ کے لیے ختم ہو گیا ہے۔ اب وہ یہ نہیں کہہ سکیں گی کہ مرنے والی کچھ کرتی ہی نہیں تھی کیونکہ قانون نے خود تسلیم کر لیا ہے کہ گھر چلانا بھی ایک باقاعدہ کام ہے جس کی ایک قیمت ہے۔
یہ عدالتی فیصلہ انشورنس کمپنیوں کو اپنے ہیومن لائف ویلیو کیلکولیٹر تبدیل کرنے پر مجبور کر دے گا۔ اب ایک گھریلو خاتون کی ٹرم انشورنس پالیسی اس کے اپنے شوہر کی آمدنی کے تابع ہونے کے بجائے اس کی اپنی آزادانہ معاشی مالیت (جو کہ کم از کم 60 لاکھ روپے کا انشورنس کور بنتا ہے) پر قائم ہونی چاہیے۔
ایک اور بات یہ ہے کہ عام طور پر جب کوئی کمانے والا شخص حادثے میں مرتا ہے تو عدالت یہ فرض کر لیتی ہے کہ وہ اپنی آمدنی کا کچھ حصہ اپنی ذات پر بھی خرچ کرتا تھا اس لیے کل رقم سے ایک تہائی یا نصف کاٹ لیا جاتا ہے۔ مگر عدالت نے کہا کہ گھریلو خاتون کے معاملے میں یہ کٹوتی نہیں ہوگی کیونکہ اس کا سارا وقت، ساری توانائی، ساری زندگی خاندان کے لیے وقف تھی اور اس میں سے اس کا اپنا حصہ نکالنا ہی ناانصافی ہے۔
اور ہاں اگر کوئی خاتون گھر سنبھالنے کے ساتھ ساتھ کہیں نوکری بھی کرتی تھی یا اپنا چھوٹا کاروبار چلاتی تھی تو اب اس کی اصل آمدنی کے علاوہ یہ 30 ہزار روپے ماہانہ کی رقم اضافی طور پر شامل کی جائے گی۔ یعنی معاوضہ تقریبا دگنا ہو جائے گا۔ اس کے علاوہ شوہر اور بچوں کو ہونے والے جذباتی نقصان کا معاوضہ، تدفین کے اخراجات اور سود بھی الگ سے ملے گا۔
اب یہ سوال ذہن میں آنا فطری ہے کہ اس فیصلے کا فائدہ کس کو ہوگا۔ کیا یہ صرف ان خواتین کو ملے گا جو خدانخواستہ حادثے میں جان سے جاتی ہیں۔ اس کا سادہ جواب تو یہ ہے کہ قانونی طور پر تو معاوضہ صرف ان ہی کیسز میں ملے گا مگر میں سمجھتا ہوں کہ اس فیصلے کا اصل اثر اس سے کہیں بڑا ہے۔ یہ فیصلہ ایک پیغام ہے، ایک تسلیم نامہ ہے۔ یہ ہر اس گھر کے لیے ایک یاد دہانی ہے جہاں ایک عورت دن رات کام کرتی ہے اور اس کے کام کو ہلکا سمجھا جاتا ہے۔ جب عدالت یہ کہتی ہے کہ ایک گھریلو خاتون کا کام 30 ہزار روپے ماہانہ کا ہے، تو یہ صرف معاوضے کا حساب نہیں، یہ ایک اعتراف نامہ بھی ہے۔

’عدالت نے یہاں تک کہا کہ خواتین گھریلو خادمائیں نہیں بلکہ ملک کی معمار ہیں کیونکہ یہ جو بچے پالتی ہیں‘ (فوٹو: شٹر سٹاک)

پاکستان میں بھی لاکھوں گھرانوں میں خواتین صبح سے رات تک گھر چلاتی ہیں اور ان سے یہ توقع کی جاتی ہے کہ ایسا کرنا ان کا فرض ہے۔ انہوں نے کوئی خاص نہیں کیا لہٰذا شکریہ ادا کرنے یا سراہنے کی ضرورت نہیں۔
کاش ہمارے ہاں بھی کوئی ایسا قانون آئے، کوئی ایسی سوچ پروان چڑھے کہ گھر چلانے والی عورت کے کام کو معاشی اور سماجی دونوں لحاظ سے تسلیم کیا جائے۔
یہ بات ذہن میں رہے کہ دنیا کے کسی اور ملک کی سپریم کورٹ کا فیصلہ پاکستان میں لاگو نہیں ہوسکتا، یہاں کا قانونی نظام الگ ہے۔ لیکن دنیا بھر کی اعلٰی عدالتوں میں ایک دوسرے کے فیصلوں کو نظیر کے طور پر یا دلیل کے طور پر پیش کیا جاتا ہے۔
کیا عجب کہ کسی روز پاکستان کی اعلیٰ عدالت میں بھی ایسا ہی کوئی کیس آئے اور ہمارے ججز بھی اسی طرح کا کوئی تاریخی فیصلہ سنا دیں۔ مجھے تو اس کے قوی امکانات لگتے ہیں۔ قانون اور انصاف کا سفر اسی طرح آگے بڑھتا ہے۔ ایک عدالت کا فیصلہ دوسری عدالت کے لیے راستہ بنا دیتا ہے۔
ویسے تو کسی عدالت کے فیصلے کے بغیر بھی قانون بن سکتا ہے۔ پارلیمنٹ ایسا کر سکتی ہے۔ پاکستانی پارلیمنٹ میں خواتین کی اچھی خاصی تعداد مخصوص نشستوں پر منتخب ہوتی ہیں۔ یہ نشستیں اسی لیے خواتین کے لیے مختص کی گئیں تاکہ وہ اپنے لیے آواز اٹھا سکیں۔ اگر ہماری اسمبلیوں میں موجود خواتین اراکین اسمبلی اپنی سیاسی وابستگی سے ماورا ہو کر گھریلو خواتین کے حقوق کے لیے آواز اٹھائیں تو یہ قانون سازی کسی عدالتی فیصلے کے بغیر بھی ہو سکتی ہے۔
ہم لوگ انفرادی طور پر ایک کام تو ضرور کر سکتے ہیں۔ بس اتنا ہی کر لیں کہ شام کو کام سے واپسی پر اپنی تھکی ہاری بیوی کو طعنہ دینے کے بجائے یہ سوچیں کہ یہ عورت گھر میں رہ کر بھی کم از کم 30، 40 ہزار روپے ماہانہ کی خدمت دے رہی ہے۔ اسے ہاؤس وائف اور دن بھر فارغ بیٹھنے والی کہنے کے بجائے ہوم میکر اور گھر بنانے والی کا اعزاز دیں۔
 کاش ہمارے ہر گھر میں یہ سوچ پیدا ہو جائے۔

شیئر: