مصنوعی ذہانت کی کمپنی ’اینتھروپک‘ کے 27 سالہ محقق جیکب کاکسن نے اے آئی کی تیز رفتار ترقی اور مستقبل میں اس پر انسانی کنٹرول ختم ہونے کے خدشات کے باعث کمپنی سے استعفیٰ دے دیا ہے۔
کاکسن نے 9 ستمبر کو ایکس پر متعدد پوسٹس میں بتایا کہ انہوں نے گزشتہ 3 برس کے دوران اوپن اے آئی اور اینتھروپک دونوں میں اے آئی ماڈلز کی پری ٹریننگ پر تحقیق کی۔
مزید پڑھیں
-
ایک ماہ میں 300 سے زائد واقعات، اے آئی کی جھوٹ اور فریب کاری؟Node ID: 908038
انہوں نے کہا کہ دونوں کمپنیاں مصنوعی ذہانت کو ’خود کو بہتر بنانے والی سپر انٹیلی جنس‘ کی طرف تیزی سے لے جا رہی ہیں اور اس دوڑ میں ’انسانی زندگیوں کو خطرے میں ڈال رہی ہیں۔‘
کاکسن نے لکھا کہ ’اے آئی کی طاقت کو کم نہ سمجھیں‘ کیونکہ مستقبل کے سپر ہیومن نظام ’کسی بھی چیز کو ہیک کرنے، کسی بھی شعبے میں راتوں رات انقلاب لانے اور حقیقی طاقت اور وسائل حاصل کرنے‘ کی صلاحیت رکھتے ہوں گے۔
ان کے مطابق اے آئی کے شعبے میں کام کرنے والے لوگ ’سنجیدگی سے سمجھتے ہیں کہ یہ ٹیکنالوجی رواں دہائی کے اختتام تک ہم سب کو ہلاک کر سکتی ہے‘، تاہم اس کے باوجود کمپنیاں اس کی ترقی کی دوڑ جاری رکھے ہوئے ہیں۔
کاکسن نے کہا کہ اوپن اے آئی میں بہت سے لوگ ابھی تک اس ٹیکنالوجی کے ’تہذیبی داؤ‘ کو پوری طرح نہیں سمجھ سکے، جبکہ اینتھروپک میں خطرات کو زیادہ سنجیدگی سے سمجھا جاتا ہے لیکن کمپنی دوسری کمپنیوں سے آگے نکلنے کی دوڑ میں شامل ہے۔
انہوں نے اے آئی کمپنیوں کے درمیان باہمی تعاون اور ’رفتار سے متعلق معاہدوں‘ کی ضرورت پر زور دیا اور کہا کہ ماڈلز کی صلاحیتیں بڑھانے پر عارضی پابندی جیسے مشکل اقدامات بھی ضروری ہو سکتے ہیں۔
I resigned from Anthropic today. I spent the last three years doing pretraining research at both OpenAI and Anthropic. Neither company is acting responsibly. They are racing straight to self-improving superintelligence and gambling with our lives. More thoughts below.
— Jacob Coxon (@hilbertspaess) September 9, 2026
اینتھروپک کے محقق نے بھی خدشات کی تائید کردی
کاکسن کی پوسٹ کے بعد اینتھروپک کے سینئر محقق ایون ہوبنگر نے بھی ان کے خدشات کی تائید کی۔
ہوبنگر نے ایکس پر لکھا کہ ’ہم واقعی اور پوری سنجیدگی سے سمجھتے ہیں کہ اے آئی تمام انسانوں کو ہلاک کر سکتی ہے۔‘
انہوں نے کہا کہ ان کی ذاتی رائے میں آئندہ ایک دہائی کے دوران اے آئی کے انسانیت کے خاتمے کا سبب بننے کا امکان ’10 فیصد سے زیادہ‘ ہے۔
Jacob is correct here—we really do earnestly believe AI could kill all humans! I personally think it is >10% within the next decade. I believe Anthropic is trying its best, but we do not yet have a plan to solve alignment for superintelligence and are not clearly on track to. https://t.co/QAIHiFP3QZ
— Evan Hubinger (@EvanHub) September 9, 2026
تاہم ہوبنگر نے واضح کیا کہ موجودہ اے آئی ماڈلز سے اس نوعیت کا خطرہ کم ہے اور اصل تشویش مستقبل کی ’سپر انٹیلی جنس‘ سے متعلق ہے، خاص طور پر ایسے نظام جو خود کو بار بار بہتر بنانے کی صلاحیت حاصل کر لیں۔
ایلون مسک نے کاکسن کے اینتھروپک سے تعلق کی تصدیق کردی
دوسری جانب کاکسن کی پوسٹ کے بعد ایک ایکس صارف نے سوال اٹھایا کہ کیا وہ واقعی اینتھروپک کے محقق تھے۔
اس پر ایلون مسک نے جواب دیتے ہوئے کاکسن کے اینتھروپک سے تعلق کی تصدیق کی، تاہم کہا کہ انہوں نے وہاں ’صرف چند ماہ کام کیا۔‘
He did work there, but only for a few months
— Elon Musk (@elonmusk) September 10, 2026
کاکسن نے بعد میں ایکسیوس کو بتایا کہ انہوں نے اینتھروپک میں تقریباً چار ماہ کام کیا اور استعفیٰ ایسے وقت دیا جب ان کی کمپنی کی ایکویٹی ویسٹ ہونے میں تقریباً دو ماہ باقی تھے۔
اے آئی سیفٹی پر خدشات
سی این این کے مطابق اے آئی کی تیز رفتار ترقی اور اس کے ممکنہ خطرات سے متعلق خدشات نئے نہیں۔ گزشتہ چند برسوں کے دوران اوپن اے آئی اور دیگر کمپنیوں کے کئی محققین ان خدشات کے باعث عہدے چھوڑ چکے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق جولائی میں اے آئی کمپنیوں کے تقریباً 1400 ملازمین نے امریکی حکومت سے ٹیکنالوجی کو ریگولیٹ کرنے اور اے آئی کی ترقی کی رفتار کم کرنے کا مطالبہ کیا تھا۔












