جازان کا مقامی پودا ’فریبون‘ ماحولیاتی سیاحت کی توجہ کا مرکز
سردیوں کے بعد اِس پودے پر بہار آتی ہے جو گرمیوں تک جاری رہتی ہے (فوٹو: ایس پی اے)
جازان کے علاقے میں مقامی نباتات یہاں کے ماحولیاتی اور قدرتی امتیاز کے مختلف عناصر کی انتہائی واضح نمائندگی کرتے ہیں۔
سعودی پریس ایجنسی کے مطابق اس خطے میں تنوع سے مالا مال یہ پودے، جازان کی جغرافیائی وسعت کا ثبوت ہیں جس میں حدِ نگاہ تک پھیلے ہوئے میدانی علاقے ہیں، وادیاں ہیں اور پہاڑی ڈھلوانیں بھی ہیں جو ماحولیاتی سیاحت اور شوق کے عالم میں ویرانوں کو چھاننے والوں کے لیے اِن مقامات کو پُرکشش بناتی ہیں۔
جازان کے نباتات میں ایک ’فریبون‘ کا پودا بھی ہے، جسے نباتات کی سائنسی زبان میں ’یوفوربیا فریکٹی فلیکسا‘ کہتے ہیں۔ علاقائی مناظر کے سلسلے کو دیکھیں تو یہ پودا اپنی خصوصیات سے ہی اپنی موجودگی کا پتہ دیتا ہے۔
خاردارڑ رس دار اور ٹیڑھا ترچھا یہ پودا، علاقے کے کئی قدرتی مقامات پر پھیلا ہوا نظر آتا ہے۔ یہ گھنی جھاڑی کی طرح اُگتا ہے اور قد میں ایک سے دو میٹر تک اونچا ہوتا ہے۔ اِس کی شاخیں ایسی نرم ہیں جیسے اُن میں گوشت بھرا ہُوا ہو۔ اور یہ شاخیں پانی کو خُوب اچھی طرح ذخیرہ کرلیتی ہیں جس کی وجہ سے اِس پودے میں خشک سالی کا مقابلہ کرنے کے لیے مدافعت پائی جاتی ہے۔
ویسے تو یہ نبات، جازان میں جگہ جگہ اُگ جاتا ہے لیکن نشیبی علاقے اِس کا من پسند مسکن ہیں جہاں اِس کی شادابی تیزی سے بڑھتی ہے۔ یہ وادیوں کے کنارے اور پہاڑوں کی نچلی ڈھلوانوں پر بھی خوش رہتا ہے۔
سردیوں کے بعد اِس پودے پر بہار آتی ہے جو گرمیوں تک جاری رہتی ہے۔ چھوٹے چھوٹے پیلے پھول اِس کی سجاوٹ کا سامان مہیا کرتے ہیں جن کے رس سے وہ شہد بنتا ہے جو اپنی منفرد خصوصیات کی وجہ سے مشہور ہے۔

دیگر مقامی نباتات کی مانند، ’فریبون‘ کا پودا بھی مملکت میں جازان کی امتیازی قدرتی حیثیت کو مضبوط بناتا ہے اور یوں سعودی وژن 2030 کے اُن مقاصد میں تعاون کا کام کرتا ہے جن کے تحت سیاحتی مقامات کی تعداد بڑھانا اور قدرتی وسائل کو اِس انداز سے کام میں لانا شامل ہے جس سے پائیداری میں ترقی ہو۔
