امریکہ اور ایران نے کئی روز کی سخت کشیدگی کے بعد حملے روک دیے
امریکہ اور ایران نے کئی روز کی سخت کشیدگی کے بعد حملے روک دیے
پیر 27 جولائی 2026 6:10
مائیک والٹز نے اس تاثر کو مسترد کیا کہ لڑائی میں وقفہ جنگی مواد کی کمی کی وجہ سے کیا گیا ہے (فوٹو: روئٹرز)
امریکہ اور ایران نے اتوار کو دوسرے روز بھی ایک دوسرے کے خلاف حملوں کا سلسلہ بند رکھا جبکہ فریقین کو مذاکرات کی میز پر لانے کی کوششیں بھی جاری ہیں۔
خبر رساں اداروں کے مطابق اقوام متحدہ میں امریکہ کے سفیر مائیک والٹز کا کا کہنا ہے کہ اگرچہ ’فوجیں کارروائی کے لیے تیار ہیں مگر صدر ڈونلڈ ٹرمپ مذاکرات کو ایک موقع دینا چاہتے ہیں۔‘
دوسری جانب ایران کا کہنا ہے کہ اس نے مشرق وسطیٰ میں واشنگٹن کے اتحادیوں کے خلاف حملوں کا سلسلہ روک دیا ہے۔
اس صورت حال کے بعد پیر کی صبح ایشیا کی تیل کی منڈیوں میں قیمتوں میں کمی دیکھی گئی جبکہ سرمایہ کاروں نے امریکہ و ایران کے درمیان لڑائی میں اس عارضی وقفے پر اطمینان اظہار کیا ہے۔
جمعے سے قبل امریکہ نے مسلسل 13 روز تک ایران پر حملے کیے تاہم اس کے بعد فضائی حملے نہیں ہوئے۔
اس کے بعد ایرانی فوج کے ترجمان محمد اکرمینیا کا کہنا تھا کہ ’دو راتیں قبل تک حملے جاری تھے مگر اب امریکہ نے حملے روک دیے ہیں۔‘
ان کے مطابق ’چونکہ ہماری حکمت عملی بنیادی طور پر جوابی کارروائی پر مبنی ہے اس لیے ہم نے بھی جوابی کارروائیاں روک دی ہیں۔‘
جون کے وسط میں دونوں ممالک کے درمیان عبوری معاہدے پر دستخط ہوئے تھے جس کے تحت مزید مذاکرات کے لیے 60 روز کا وقت رکھا گیا تھا جو کہ قریباً نصف گزر چکا ہے۔
تاہم وہ اہم معاملات جن میں ایران کا جوہری پروگرام بھی شامل ہے اور دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی کا بھی باعث ہے ابھی تک زیر بحث نہیں آ سکا ہے۔
اسی طرح ثالث فریقین کو مذاکرات کے عمل کے اندر رکھنے کے لیے کوشاں بھی ہیں۔
مائیک والٹز کے مطابق ’صدر ڈونلڈ ٹرمپ مذاکرات کو ایک موقع دینا چاہتے ہیں‘ (فوٹو: اے ایف پی)
دوسری جانب اقوام متحدہ میں امریکہ کے سفیر مائیک والٹز کا کہنا ہے کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران پر حملے اس لیے روکے ہیں تاکہ سفارتی کوششوں کے لیے گنجائش پیدا کی جا سکے۔
انہوں نے فوکس نیوز کو انٹرویو میں کہا کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اقدام کے بعد فریقین کی جانب سے عارضی طور پر لڑائی روکنے کا عندیہ دیا گیا ہے۔
ان کے مطابق ’وہ بات چیت کے لیے کچھ تھوڑی سی گنجائش دے رہے ہیں۔‘ تاہم انہوں سفارتی رابطوں کے بارے میں مزید تفصیلات نہیں بتائیں۔
یہ بیانات ایک ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب اتوار کو امریکہ اور ایران کے درمیان جھڑپوں میں کمی دیکھنے میں آئی ہے۔
پینٹاگون نے مسلسل 13 روز تک ایران پر بمباری کرنے کے بعد اپنی فضائی کارروائی روک دی تھی جبکہ دوسری جانب اس دوران ایسی کوئی اطلاع بھی سامنے نہیں آئی کہ ایران نے اتوار کو کسی پڑوسی ملک پر حملہ کیا ہو۔
پینٹاگون نے مسلسل 13 روز تک ایران پر بمباری کرنے کے بعد سنچر کو فضائی کارروائی روک دی تھی (فائل فوٹو: اے ایف پی)
اس حالیہ وقفے کے بعد یہ امید ایک بار پھر پیدا ہوئی ہے کہ مذاکرات کا سلسلہ بحال ہو سکتا ہے، تاہم امریکی میڈیا پر یہ بھی رپورٹ ہوا ہے کہ اس توقف کی وجہ ممکنہ طور پر امریکہ کے پاس موجود میزائلوں اور دیگر دفاعی ہتھیاروں کے ذخائر پر بڑھتا دباؤ بھی ہو سکتی ہے۔
تاہم مائیک والٹز نے ایک اور انٹرویو میں این سی بی نیوز کے پروگرام ’میٹ دی پریس‘ میں اس تاثر کو مسترد کیا۔
انہوں نے زور دیتے ہوئے کہا کہ ’میں یہ بالکل واضح کر دینا چاہتا ہوں کہ امریکی فوج کے پاس اس کارروائی کو موثر طور پر جاری رکھنے کے لیے ہر وہ چیز موجود ہے جس کی اسے ضرورت ہے اور میں نے ہر لحاظ سے اس کی تصدیق کی ہے۔‘
امریکی حملے رکنے کے بعد ایران کی جانب سے بھی کسی پڑوسی ملک پر حملے کوئی اطلاع موصول نہیں ہوئی (فوٹو: اے ایف پی)
دوسری جانب اسرائیل کے وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو منگل کے روز واشنگٹن پہنچ رہے ہیں جو وائٹ ہاؤس کا دورہ بھی کریں گے، ان کی صدر ٹرمپ سے ملاقات بھی ہو گی جس کے بارے میں توقع ہے کہ وہ صدر پر زور دیں گے کہ وہ تہران خصوصاً اس کے جوہری پروگرام کے حوالے سے سخت موقف برقرار رکھیں۔
صدر ٹرمپ کی انتظامیہ کے سینیئر عہدیدار نے اتوار کو کہا تھا کہ حالیہ فوجی کشیدگی کے باوجود صدر ٹرمپ اب بھی سفارتی حل کو ترجیح دیتے ہیں۔
ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ ’صدر ٹرمپ ہمیشہ واضح کرتے رہے ہیں کہ ان کی پہلی ترجیح سفارت اور مذاکرات ہیں لیکن انہوں نے ایران کو یہ بھی دکھا دیا ہے کہ اگر وہ سنجیدہ انداز میں مذاکرات کی میز پر نہیں آٗے گا تو پھر اسے کس قسم کے نتائج کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔‘