صدر ٹرمپ ایران سے مذاکرات کے لیے ’کچھ گنجائش‘ پیدا کر رہے ہیں: امریکی سفیر
مائیک والٹز نے اس تاثر کو مسترد کیا کہ لڑائی میں وقفہ جنگی مواد کی کمی کی وجہ سے کیا گیا ہے (فوٹو: روئٹرز)
اقوام متحدہ میں امریکہ کے سفیر مائیک والٹز نے کہا ہے کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران پر حملے اس لیے روکے ہیں تاکہ سفارتی کوششوں کے لیے گنجائش پیدا کی جا سکے۔
عرب نیوز کے مطابق مائیک والٹز نے فوکس نیوز کو انٹرویو میں کہا کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اقدام کے بعد فریقین کی جانب سے عارضی طور پر لڑائی روکنے کا عندیہ دیا گیا ہے۔
ان کے مطابق ’وہ بات چیت کے لیے کچھ تھوڑی سی گنجائش دے رہے ہیں۔‘ تاہم انہوں سفارتی رابطوں کے بارے میں مزید تفصیلات نہیں بتائیں۔
مائیک والٹز کا یہ بھی کہنا تھا کہ ایک ایسے وقت میں جب فوجیں ’کارروائی کے لیے تیار‘ ہیں، صدر ٹرمپ نے بات چیت کو ایک موقع دینے کا فیصلہ کیا ہے۔
یہ بیانات ایک ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب اتوار کو امریکہ اور ایران کے درمیان جھڑپوں میں کمی دیکھنے میں آئی ہے۔
پینٹاگون نے مسلسل 13 روز تک ایران پر بمباری کرنے کے بعد اپنی فضائی کارروائی روک دی تھی جبکہ دوسری جانب اس دوران ایران کی جانب سے پڑوسی ممالک پر کسی حملے کی بھی کوئی اطلاع موصول نہیں ہوئی۔
اس حالیہ وقفے کے بعد یہ امید ایک بار پھر پیدا ہوئی ہے کہ مذاکرات کا سلسلہ بحال ہو سکتا ہے، تاہم امریکی میڈیا پر یہ بھی رپورٹ ہوا ہے کہ اس توقف کی وجہ ممکنہ طور پر امریکہ کے پاس موجود میزائلوں اور دیگر دفاعی ہتھیاروں کے ذخائر پر بڑھتا دباؤ بھی ہو سکتی ہے۔
تاہم مائیک والٹز نے ایک اور انٹرویو میں این سی بی نیوز کے پروگرام ’میٹ دی پریس‘ میں اس تاثر کو مسترد کیا۔
انہوں نے زور دیتے ہوئے کہا کہ ’میں یہ بالکل واضح کر دینا چاہتا ہوں کہ امریکی فوج کے پاس اس کارروائی کو موثر طور پر جاری رکھنے کے لیے ہر وہ چیز موجود ہے جس کی اسے ضرورت ہے اور میں نے ہر لحاظ سے اس کی تصدیق کی ہے۔‘
دوسری جانب اسرائیل کے وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو منگل کے روز واشنگٹن پہنچ رہے ہیں جو وائٹ ہاؤس کا دورہ بھی کریں گے، ان کی صدر ٹرمپ سے ملاقات بھی ہو گی جس کے بارے میں توقع ہے کہ وہ صدر پر زور دیں گے کہ وہ تہران خصوصاً اس کے جوہری پروگرام کے حوالے سے سخت موقف برقرار رکھیں۔
صدر ٹرمپ کی انتظامیہ کے سینیئر عہدیدار نے اتوار کو کہا تھا کہ حالیہ فوجی کشیدگی کے باوجود صدر ٹرمپ اب بھی سفارتی حل کو ترجیح دیتے ہیں۔
ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ ’صدر ٹرمپ ہمیشہ واضح کرتے رہے ہیں کہ ان کی پہلی ترجیح سفارت اور مذاکرات ہیں لیکن انہوں نے ایران کو یہ بھی دکھا دیا ہے کہ اگر وہ سنجیدہ انداز میں مذاکرات کی میز پر نہیں آٗے گا تو پھر اسے کس قسم کے نتائج کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ُ