طویق ٹاور کی بیرونی دیوار پر مملکت کا سب سے بڑا مُیورل، نظریں گنیز ورلڈ ریکارڈ پر
طویق ٹاور کی بیرونی دیوار پر مملکت کا سب سے بڑا مُیورل، نظریں گنیز ورلڈ ریکارڈ پر
پیر 27 جولائی 2026 7:40
سعودی دارالحکومت ریاض کے طویق ٹاور کی بیرونی دیوار، ایک بہت بڑے کینوس کی شکل اختیار کر گئی ہے جہاں ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کی ایک تصویر دُور سے دکھائی دیتی ہے۔ دیوار پر بنا یہ خوبصورت تصویری آرٹ، دنیا کی بڑی بڑی تصویروں میں سے ایک ہے۔
اِس نقش کو طویق ٹاور کی بیرونی دیوار پر اُتارنے والی ٹیم کو امید ہے کہ اس مُیورل کو (دیوار پر بنی ہوئی تصویر) گِنیز بُک آف ورلڈ ریکاڈز میں ضرور جگہ ضرور مِل جائے گی۔
ولی عہد کی یہ تصویر 305 میٹر چوڑے ٹاور کی دیوار کو ڈھانپے ہوئے ہے جو سعودی عرب کی بلند ترین عمارتوں میں سے ایک ہے۔ اِس مُیورل کو بنانے والے کے تختۂ نقاشی سے، روایتی رنگ لیے گئے ہیں جو تصویر میں غالب ہیں جو عمارت کی تعمیراتی شناخت کے ساتھ مِل کر ایک ہو جاتے ہیں۔
سعوی مُیورل آرٹسٹ بدر البلوی کہتے ہیں کہ اس نقش کو ٹاور پر فن پارے کی صورت میں ڈھالنے کا خیال سب سے پہلے عمارت کے مالک کو آیا جن کا نام ابراہیم المھیدب ہے اور جو ایک کاروباری شخصیت ہیں۔
البلوی نے الشرقِ الاوسط سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’ابراہیم المھیدب ایک ٹاور بنانا چاہتے تھے جس میں راویتی فنِ تعمیر کی جھلک ہو اور اُس پر فنی دلکشی کے ساتھ ولی عہد کو دکھانا چاہتے تھے لیکن اُن کی یہ بھی خواہش تھی کہ عمارت کی بصری شناخت باقی رہے۔‘
البلوی کے بقول’مقصد یہ تھا کہ ایسے رنگ استعمال کیے جائیں جو سعودی ورثے سے تحریک حاصل کر کے بنائے گئے ٹاور کے رنگوں سے جنم لینے والے مجموعی اثر سے ملتے جلتے ہوں۔ وہ چاہتے تھے کہ اُن کے ٹاور کے بیرونی رُخ پر شہزادہ محمد بن سلمان کا جو نقش اُتارا جائے وہ دنیا کی سب سے اونچی تصویر میں بھی شمار ہو کیونکہ ٹاور کی اونچائی 300 ہے۔‘
اِس منصوبے پر لگاتار 31 دن تک کام ہوتا رہا جس میں چار کرینوں کی ضرورت پڑی۔ اِس کے علاوہ خصوصی آلات و اوزار اور دیگر سامان بھی درکار تھا جبکہ بیرونی استعمال کے لیے مواد بھی ایسا چاہیے تھا جو فن پارے سے مختلف نہ لگے۔
البلوی نے بتایا ’یہ منصوبہ اتنا بڑا تھا کہ ہمارے سامنے کئی طرح کے تکنیکی چیلنجز آئے اور ہمیں ٹاور کی سائٹ پر بھی مختلف مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ ہم چار کرینوں، رنگوں اور سازوسامان کے ساتھ بہت زیادہ بلندی پر کام کر رہے تھے۔ میں نے اِس سے پہلے زندگی میں کسی ایسے پروجیکٹ پر کام نہیں کیا تھا۔‘
ولی عہد کی یہ تصویر 305 میٹر چوڑے ٹاور کی دیوار کو ڈھانپے ہوئے ہے (فوٹو: بدر البلوی)
انھوں نے بتایاکہ مُیورل کو گِنیز بُک آف ورلڈ ریکارڈز کا حصہ بنوانے پر کام ہو رہا ہے کیونکہ اتنی اُونچائی پر ایسے عمدہ فنی کمال کی اہمیت کو ضرور تسلیم کیا جانا چاہیے۔
ٹاور کے بیرونی حصے پر جوں جوں ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کی تصویر کے نقشں و نگار اور خدو خال واضح ہونے شروع ہوئے، عوام کے اشتیاق اور تجسس میں بھی اضافہ ہونا شروع ہوگیا۔
البلوی نے بتایا کہ ’اول اول لوگوں کو صرف لکیریں ہی نظر آ رہی تھیں۔ لیکن جب شہزادے کی تصویر کے نقوش نمودار ہونے لگے، تو اُن کے شوق میں بھی یکدم اضافہ ہوگیا اور بہت سے لوگ تو مُیورل کو قریب سے دیکھنے کے لیے آنے لگے۔‘
حالیہ ہفتوں میں اِس خوبصورت مُیورل کودیکھنے کے لیے بہت سے لوگ آئے ہیں اور سوشل میڈیا پر اِسی نقش کے بارے میں خُوب بات چیت ہو رہی ہے۔ اِس سے، سعودی عرب کے شہری مناظر میں عوامی آرٹ میں بڑھتا ہوا اضافہ بھی واضح ہو رہا ہے۔ آرٹسٹ اب غیر معمولی نوعیت کے فنی کام کر رہے ہیں جن میں قومی شناخت اور عالمی طور پر پہچان حاصل کرنے کی خواہش نمایاں نظر آتی ہے۔
البلوی کہتے ہیں کہ اگرچہ ٹاور پر سجے فن پارے میں لوگوں کی بے حد دلچسپی ہے اور آن لائن بھی اِس کا تذکرہ کیا جا رہا ہے، اُن کی بھرپور توجہ اس مُیورل کو مکمل کرنے پر ہے۔
وہ دیواروں کو تصاویر کے نقوش سے دیدہ زیب بنانے کے کام میں 10 برس کا تجربہ رکھتے ہیں اور سعودی عرب اور خلیجی ممالک میں 150 سے زیادہ میورلز بنا چکے ہیں۔
تاہم البلوی طویق ٹاور کے مُیورل کو اپنی فنی زندگی میں آنے والے اہم موڑ سے تعبیر کرتے ہیں۔ اِس لیے نہیں کہ یہ کام بہت بڑا اور غیر معمولی نوعیت کا تھا بلکہ اہمیت اُس شخصیت کی وجہ سے ہو گئی ہے جس کا نقش، ٹاور پر منتقل کیا گیا ہے۔
’اس منصوبے نے دیواروں پر بنائے جانے والی تصویروں کے آرٹ کے بارے میں میرے نقطۂ نظر کو بدل دیا ہے۔ مملکت کے ولی عہد محمد بن سلمان جیسی بڑی شخصیت کی تصویر، ٹاور کے بیرونی حصے پر پینٹ کرنا بہت بڑی ذمہ داری تھی۔جب یہ تصویر بن رہی تھی تو میں اِس سوچ میں گُم رہتا اور خود سے سوال کرتا رہتا تھا کہ پینٹنگ کا کوئی اور ایسا طریقہ بھی ہے جو اِس عظیم شخصیت کے شایانِ شان ہو‘۔
طویق ٹاور، ریاض کا سب سے اہم نشانِ امتیاز ہے۔ اس کا ڈیزائن روایتی نجدی فنِ تعمیر سے متاثر ہو کر لیا گیا ہے جبکہ اِس کے ہلکے مٹیالے رنگ سعودی عرب کی ثقافتی اور تاریخی شناخت کو آشکار کرتے ہیں۔
اس ٹاور کی سجاوٹ سعودی ورثے سے متاثر ہو کر کی گئی ہے لیکن اس میں عصرِ حاضر کے ڈیزائن کا عکس بھی ہے۔ اب ولی عہد محمد بن سلمان کے قدِ آدم مُیورل نے ٹاور کے بیرونی حصے کی دیوار پر ایک نئی فنی جہت کا بھی اضافہ کر دیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ نہ صرف عوام الناس بلکہ فوٹی گرافی کا شوق رکھنے والوں کے لیے بھی یہ عمارت ایک یادگار علامت کا رُوپ اختیار کر چکی ہے۔
یہ آرٹیکل سب سے پہلے الشرق الاوسط میں شائع کیا گیا تھا۔