Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

صدر ٹرمپ کا ایران سے ’مثبت بات چیت‘ کا دعویٰ، حملوں کی دھمکی برقرار

صدر ٹرمپ نے کہا کہ ہم ایران کو مزید معاہدے توڑنے کی اجازت نہیں دے سکتے (فوٹو: روئٹرز)
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ایران کے ساتھ مثبت مذاکرات ہوئے ہیں، تاہم انہوں نے ایک بار پھر اپنی یہ دھمکی دہرائی کہ ایران کے ساتھ اگر کوئی معاہدہ نہ ہوا تو وہ پک ایکس ماؤنٹین سمیت پلوں اور بجلی گھروں کو نشانہ بنا سکتے ہیں۔
صدر ٹرمپ نے منگل کے روز فاکس نیوز کو دیے گئے ایک انٹرویو میں کہا کہ ممکن ہوا تو وہ ایران کے پلوں اور بجلی گھروں کو نشانہ بنانے سے گریز کرنا چاہتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ’یہ ایک نہایت نازک توازن ہے۔ اس وقت ہماری پوزیشن بہت مضبوط ہے اور وہ جانتے ہیں کہ انہوں نے اگر معاہدہ نہ کیا تو میں ایسا کروں گا۔‘ انہوں نے یہ بات ’فاکس اینڈ فرینڈز‘ پروگرام میں کہی۔
برطانوی خبر رساں ایجنسی روئٹرز کے مطابق انہوں نے مزید کہا کہ ’ہم انہیں مزید معاہدے توڑنے کی اجازت نہیں دے سکتے۔‘ صدر ٹرمپ نے ایران کے حوالے سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’ہمارے درمیان کچھ بہت اچھی بات چیت ہوئی ہے۔‘
ٹرمپ منگل کو ہی وائٹ ہاؤس میں اسرائیل کے وزیراعظم بن یامین نیتن یاہو سے ملاقات کرنے والے ہیں، یہ ملاقات ایک ایسے وقت پر ہو رہی ہے جب دونوں ممالک نے فروری میں مل کر ایران پر حملہ کیا تھا۔
ٹرمپ سے ان رپورٹس کے بارے میں بھی سوال کیا گیا جن میں کہا گیا تھا کہ نیتن یاہو ان سے ایران کے جوہری پروگرام سے منسلک ایک مقام ’پک ایکس ماؤنٹین‘ پر جاری سرگرمیوں کے بارے میں بات کریں گے۔ یہ ایک مضبوط قلعہ نما تنصیب ہے جو تہران کے ایک اہم جوہری مرکز کے قریب زیر زمین گہرائی میں واقع ہے۔
صدر ٹرمپ نے اس ہر کہا کہ ’مجھے یہ بات بی بی (نیتن یاہو) سے سننے کی ضرورت نہیں ہے۔ وہ مجھے یہ اس لیے بتاتے ہیں تاکہ میں اس معاملے میں شامل رہوں۔‘
انہوں نے مزید کہا کہ ’مجھے اچھی طرح معلوم ہے کہ پک ایکس پر کیا ہو رہا ہے۔ یہ کوئی بڑا مسئلہ نہیں ہے۔ ہم نے ان کے جوہری مراکز کو نشانہ بنایا تھا، اور اگر معاہدہ نہ ہوا تو ہمیں پک ایکس کو بھی نشانہ بنانا پڑے گا۔ ہم اگر معاہدہ نہ کر سکے تو ہم اسے بہت آسانی سے تباہ کر دیں گے۔‘

شیئر: