یاد رہے کہ فروری ہی میں امریکہ اور اسرائیل نے مل کر ایران کے خلاف مشترکہ فضائی کارروائیوں کا آغاز کیا تھا۔
امریکہ روانگی سے قبل ایک ویڈیو بیان میں اسرائیلی وزیراعظم کا کہنا تھا ’ان پیچیدہ حالات میں عزم و ہمت اور تدبر کے ساتھ پیش رفت کی ضرورت ہوتی ہے۔ ہم اپنے ایجنڈے پر موجود تمام امور پر بات کریں گے جن میں سب سے اہم موضوع ایران ہوگا۔ ہمارا بنیادی مقصد اپنے قومی تحفظ کو یقینی بنانا اور خطے میں امن کے دائرے کو وسعت دینا ہے۔‘
حالیہ عرصے میں سامنے آنے والے حالات کے مطابق اسرائیل نے رواں ماہ امریکہ کی ان دو ہفتہ وار بمباری کی کارروائیوں میں براہِ راست حصہ نہیں لیا تھا جن کے جواب میں تہران نے امریکی فوجی اڈوں کو نشانہ بنایا تھا۔
گزشتہ ہفتے کے اختتام پر صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے خلاف اپنی فوجی مہم کو عارضی طور پر روکنے کا اعلان کیا تھا جس کے جواب میں ایران کی جانب سے بھی یہ کہا گیا کہ جب تک امریکہ کارروائیاں معطل رکھے گا، تہران بھی اپنے حملے روکے رکھے گا۔
دوسری جانب اسرائیل نے تہران کو متنبہ کیا ہے کہ کسی بھی قسم کا حملہ سخت اسرائیلی ردِعمل کا سبب بنے گا۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ساتھ نیتن یاہو کی یہ ملاقات ان کے لیے داخلی طور پر انتہائی اہم ہے (فائل فوٹو: اے ایف پی)
نیتن یاہو نے حال ہی میں اس بات کا اعتراف کیا تھا کہ خطے میں اسرائیلی اور امریکی مفادات میں فرق کے باعث ان کے اور صدر ٹرمپ کے درمیان کچھ اختلافات موجود رہے ہیں۔
رواں برس جون میں دونوں رہنماؤں کے درمیان ہونے والی ایک تلخ ٹیلی فونک گفتگو میڈیا میں لیک ہوئی تھی جس کی بعد میں خود صدر ٹرمپ نے بھی تصدیق کی تھی۔
اس واقعے نے دونوں اتحادی رہنماؤں کے درمیان پائے جانے والے تناؤ کو واضح کر دیا تھا۔
تاہم بظاہر کشیدگی کم کرنے کی کوشش کے طور پر اسرائیل نے اتوار کو اعلان کیا کہ وہ غزہ کی پٹی میں ڈونلڈ ٹرمپ کے امن منصوبے کے تحت کثیر القومی سکیورٹی فورس کے داخلے کی اجازت دے گا۔
اس سے قبل 21 جولائی کو اسرائیل نے امریکی ثالثی میں ہونے والے معاہدے کے تحت جنوبی لبنان سے اپنی کچھ افواج واپس بلانے کا بھی اعلان کیا تھا۔
سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ساتھ نیتن یاہو کی یہ ملاقات ان کے لیے داخلی طور پر انتہائی اہم ہے۔
اسرائیل میں 27 اکتوبر کو عام انتخابات ہونے جا رہے ہیں اور نیتن یاہو کو رائے عامہ کے جائزوں میں مشکلات کا سامنا ہے جبکہ خود امریکہ کے اندر بھی اسرائیل کے لیے حمایت میں کمی دیکھی جا رہی ہے۔