Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

صدر ٹرمپ کا ایران کو انتباہ، ’مذاکرات ناکام ہوئے تو فوجی کارروائی کے لیے تیار ہیں‘

امریکہ اور ایران کے درمیان کشیدگی جاری ہے (فائل فوٹو: گیٹی)
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ امریکہ اور ایران کے درمیان ’انتہائی سنجیدہ مذاکرات‘ جاری ہیں، تاہم اگر سفارتی کوششیں ناکام ہوئیں تو وہ ایران کے خلاف ’سخت فوجی کارروائی‘ کے لیے بھی تیار ہیں۔
پیر کو امریکی ویب سائٹ ’ایکسیوس‘ سے گفتگو کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے کہا کہ ’مذاکرات کے لیے زیادہ وقت نہیں دیا جائے گا۔‘
ان کا مزید کہنا تھا کہ ’زیادہ وقت نہیں ہے، یا تو معاملات جلد طے ہوں گے یا پھر بالکل نہیں ہوں گے۔‘
بعد ازاں پیر کو ہی ایئر فورس ون میں مشی گن جاتے ہوئے صحافیوں سے گفتگو میں ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ ’امریکہ اور ایران کے درمیان اس وقت اچھی بات چیت جاری ہے۔‘
امریکی صدر نے کہا کہ ایران سے نمٹنے کے لیے ان کے پاس ’کافی وقت‘ موجود ہے اور انہیں امید ہے کہ کسی معاہدے تک پہنچنے کا امکان موجود ہے۔
صدر ٹرمپ نے یہ بھی کہا کہ وہ ایران کی مدد کے لیے سیٹلائٹ تصاویر فراہم کرنے کے معاملے پر روس سے بات کریں گے۔
انہوں نے کہا کہ ’میں اس بارے میں صدر ولادیمیر پیوٹن سے پوچھوں گا، پھر دیکھتے ہیں کیا ہوتا ہے۔‘
دوسری جانب ایران نے کہا ہے کہ ’آبنائے ہرمز پر اس کا مکمل کنٹرول برقرار ہے اور وہ فی الحال امریکہ کے ساتھ امن مذاکرات دوبارہ شروع کرنے کا خواہاں نہیں۔‘
برطانوی خبر رساں ایجنسی ’روئٹرز‘ کے مطابق یہ بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب صدر ٹرمپ نے گذشتہ دو ہفتوں سے جاری بمباری کی مہم روک دی، جس کے بارے میں امریکی عسکری قیادت نے انہیں بتایا تھا کہ یہ اپنے مقررہ اہداف حاصل کر چکی ہے۔
13 راتوں تک مسلسل جاری رہنے والی شدید امریکی بمباری کے دوران ایران نے جوابی کارروائی کرتے ہوئے خطے میں امریکی اڈوں کو نشانہ بنایا تھا، تاہم ہفتے کے آخر میں صدر ٹرمپ نے اس فوجی مہم کو روکنے کا اعلان کیا تھا۔

امریکی حملے رُکنے کے بعد عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں نمایاں کمی دیکھنے میں آئی ہے (فائل فوٹو: گیٹی)

ایران نے بھی کہا کہ ’جب تک امریکہ اپنی بمباری معطل رکھے گا، ایران بھی اپنی جوابی کارروائیاں روک دے گا۔‘
امریکی حملوں کے رکنے کے بعد عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں نمایاں کمی دیکھنے میں آئی ہے کیونکہ سرمایہ کاروں کو امید پیدا ہوئی کہ متاثرہ عالمی سپلائی دوبارہ معمول پر آسکتی ہے۔
برینٹ خام تیل، جس کی قیمت گذشتہ ہفتے مئی کے بعد پہلی بار مختصر طور پر 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کر گئی تھی، پیر کی صبح 8 فیصد سے زیادہ کمی کے بعد تقریباً 89 ڈالر فی بیرل تک آگئی ہے۔
رپورٹ کے مطابق پیر کو ایسے اشارے بھی سامنے آئے جن سے معلوم ہوتا ہے کہ جنگ بندی کو آزمائش کا سامنا ہو سکتا ہے۔
اردن نے بتایا کہ اس کی فضائیہ نے دو ڈرون مار گرائے، جبکہ عراقی سکیورٹی ذرائع کے مطابق شمالی عراق میں ایرانی کرد اپوزیشن کے ایک اڈے پر ڈرون حملے کیے گئے۔
دونوں واقعات میں کسی جانی نقصان کی اطلاع رپورٹ نہیں ہوئی۔

شیئر: