السبحہ: سعودی مردوں کی شناخت کی شناخت کی عکاس
سعودی معاشرے میں تسبیح کو، جسے عربی میں ’السبحہ‘ بھی کہا جاتا ہے، مرد کی توسیع اور ایسی علامت سمجھا جاتا ہے جو نسلوں سے منتقل ہوتی رہی ہے۔
تسبیح کی ایک اہم نمایاں سماجی حیثیت ہے جس کا اظہار خاص طور پر رسمی اجتماعات اور معاشرتی مواقع پر نظر آتا ہے۔ مرد تسبیح اپنے ساتھ رکھتے ہیں اور کئی جگہوں پر اسے استعمال کرتے ہیں۔
تسبیح میں کن ڈیزائنوں کا استعمال ہُوا ہے، اسے کس چیز سے بنایا گیا ہے اور بناوٹ میں کن خصوصیات کا خیال رکھا گیا ہے جیسے سوالوں کا جواب اُس کی قدر میں پنہاں ہوتا ہے جسے دیکھنے کے بعد بازار میں تسبیح کی قیمت لگائی جاتی ہے۔
سعودی پریس ایجنسی کے مطابق تسبیح کے کئی اجزاء ہوتے ہیں جو دانوں سے شروع ہوتے ہیں جن کی تعداد عام طور پر 33 یا پھر 99 ہوتی ہے۔ اِن دانوں کو ڈھیلے ڈھالے طریقے سے ایک مضبوط ڈوری میں پرو دیا جاتا ہے تاکہ یہ دانے آسانی سے دھاگے میں حرکت کر سکیں۔تسبیح میں دانوں کے شمار کا حساب رکھنے کے لیے رکاوٹی حصے پر پروئے گئے ہوتے ہیں جنھیں سپیسر یا کاؤنٹر کہا جاتا ہے۔ اِنھیں، تسبیح کے دانوں کے مختلف گروپوں کے درمیان رکھا جاتا ہے تاکہ آگے اور پیچھے کے دانوں کی گنتی میں فرق نہ آئے۔
مختلف اقسام کی تسبیحات جمع کرنے اور رکھنے کے شوقین افراد کہتے ہیں کہ تسبیح کی قدر و قیمت بہت حد تک اُس مواد سے طے ہوتی ہے جسے دانوں میں استعمال کیا جاتا ہے۔ قدرتی مواد میں عنبر شامل ہے جو استعمال کے دوران اپنی مخصوص مہک سے پہچانا جاتا ہے۔ مرجان، صندل اور کم یاب قیمتی نگینوں سے بھی تسبیحیں بنائی جاتی ہیں جن میں گوں نا گوں رنگوں والا عقیق، فیروزہ اور یاقوت شامل ہیں۔
تسبیح کے لیے مصنوعی اور خصوصی طور پر تیار کیا گیا مواد بھی کام میں لایا جاتا ہے جس میں گرمی کو برداشت کرنے کی شہرت رکھنے والا فاتوران بھی ہے۔

اس کے علاوہ ایکرلِک اور شفاف ریزن کے دانوں سے بھی تسبیحات بنائی جاتی ہیں۔ اِن مصنوعات کی وجہ سے اب جدید ڈیزائن کی تسبحیں بنانے کا راستہ بھی کُھل گیا ہے جن میں شوخ رنگوں کو خاص طور پراستعمال کیا جاتا ہے جو آج کل کے پسند کے معیار کے مطابق ہوتی ہیں۔
سعودی معاشرے میں تسبیح اپنے مذہبی مقصد یعنی یعنی دعاؤں کے شمار اور عبادت کے بعد ذکر کے لیے نہیں بلکہ یہ اپنے مستند ہونے اور ثقافتی اور سماجی احساس کی علامت بن چکی ہے جس سے تسبیح رکھنے والے کی ذاتی پسند کا بھی پتہ چلتا ہے۔
تاریخی اعتبار سے دیکھا جائے تو مملکت میں آنے والے سیاحوں، زائرین اور دیگر افراد کے لیے بھی تسبیح ایک تحفے کی حیثیت اختیار کر چکی ہے۔

نسلوں سے جاری تسبیح کے تسلسل کی وجہ سے آج سعودی مارکیٹ میں تسبیح کے بارے میں ہر قسم کی ترجیحات ایک مقام پر جمع نظر آتی ہیں۔ نسبتاً پرانی نسل کے افراد سادگی اور ورثے سے متاثر ہو کر بنائے جانے والے ڈیزائنوں کو پسند کرتے ہیں جن کی جڑیں فیملی کی روایتوں میں ہیں۔ مگر نوجوان اکثر اصلیت اور جدیدت کے امتزاج کے دلدادہ ہوتے ہیں اور اُن تسبیحوں کو پسند کرتے ہیں جو آج کے ذوق کی عکاسی کرتی ہیں۔ وہ ایسے ڈیزائنوں اور تسبیح سے وابستہ متعلقات اور تکمیلی اشیاء کی تلاش میں ہوتے ہیں جو اُن کی ذاتی طرزِ زندگی اور روز مرہ کے لباس سے ہم آہنگ ہوتی ہیں۔