قلعہ دارین: جہاں سے موتیوں اور خوشبوؤں کی تجارت ہوا کرتی تھی
قلعے کی تعمیر ماحول دوست مرجانی پتھروں سے کی گئی (فوٹو: ایس پی اے)
سعودی عرب کی قطیف کمشنری کے تحت واقع جزیرۂ تاروت میں ’قلعہ دارین‘ یا ’قصر الفیحانی‘ خطے کی تاریخ اور ثقافت کا امین ہے۔
ماہر تاریخ دان اسماعیل ھجلس نے بتایا کہ لغت میں ’دارین‘ کے بہت خوبصورت معنی ہیں، دار یعنی عطر، خوشبو۔ ماضی میں اس قلعے سے مختلف مقامات میں خوشبویات بھیجی جاتی تھیں۔
اس علاقے سے ’سچے موتی‘ بھی برآمد کیے جاتے تھے، جبکہ دارین خوشبوؤں، خصوصاً مشک، عنبر اور بخور کی برآمد کے لیے بھی مشہور تھا۔ مکہ مکرمہ اور حجاز کے دیگر علاقوں کو بھی یہاں سے عطر اور خوشبوئیں بھیجی جاتی تھیں۔
قلعہ دارین کے ماضی میں متعدد نام رہے ہیں جن میں دارین، فیحانی، قصر الفیحانی شامل ہیں تاہم فی زمانہ سرکاری اور عوامی سطح پر جو نام معروف ہے وہ ’قصرالفیحانی‘ ہے۔
ماہر تاریخ دان نے مزید بتایا کہ ’دارین کا قلعہ‘ یا ’قصر الفیحانی‘ پرتگالی عہد میں 16ویں صدی تعمیر کیا گیا تھا جس کے ٹاور15 میٹر سے زیادہ بلند تھے۔
اس قلعے کے واچ ٹاورز کی خصوصیت یہ ہے کہ یہ اوپر سے تنگ اور نیچے سے مرحلہ وار چوڑے ہیں جن کی وجہ سے یہ انتہائی مضبوط ہیں۔

قلعے کے واچ ٹاورز علاقے کی نگرانی اور عسکری ضروریات کو مدِنظر رکھتے ہوئے تعمیر کیے گئے تھے جبکہ محل سمیت اس قلعے کا کل رقبہ تقریباً آٹھ ہزار مربع میٹر ہے۔
قلعے میں سپاہیوں کی رہائش، اصطبل، گودام، پانی کے لیے کنواں اور سپاہیوں کی تربیت کے لیے وسیع و عریض صحن بھی تھا۔
قلعے کی تعمیر ماحول دوست مرجانی پتھروں سے کی گئی جنہیں اگر تبدیل کرنا ہو تو ان تک بآسانی رسائی ممکن ہوتی تھی۔

قلعے اور محل کی تعمیر مقامی معماروں نے کی، دیواروں میں کھڑکیاں اور جھروکے بنائے گئے تھے جن پر لکڑی کی کھڑکیاں نصب تھیں۔ قلعے اور قصر کی کھڑکیوں اور دوازوں کی لکڑی کے پیچ و خم عباسی طرز کے تھے جنہیں انتہائی نفاست سے تراشا گیا۔
مشہور تاجر محمد بن عبدالوھاب الفیحا یہاں آئے اور جزیرہ دارین میں مقیم ہوئے تو انہوں نے اپنی رہائش کے لیے بندرگاہ کے قریب ترین علاقے کا انتخاب کیا۔ ان کے لیے دارین کی بندرگاہ کے قریب ہی محل تعمیر کیا گیا۔

ماہرین تاریخ کا خیال ہے قصر الفیحانی اور قلعہ دارین کی اہمیت اس لیے بڑھ جاتی ہے کہ وہ دونوں بندرگاہ سے متصل تھے جس کا سبب سامان تجارت کی بروقت وصولی اور دیکھ بھال تھی۔
ان کی اہمیت کی دیگر اہم وجوہ بھی ہیں۔ اس قلعے اور قصر کے نیچے سے عہد رفتہ کی باقیات اور نوادرات دریافت ہوئے ہیں جس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ یہ علاقہ تاریخ کا اہم گہوارہ رہا تھا اور کئی تہذیبیں یہاں پروان چڑھی تھیں۔ یہاں بعض دریافت ہونے والے آثار انتہائی قدیم ہیں۔
