Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

گہرے سٹریٹیجک تعلقات: ڈاکٹر راجح بن طامی البقمی پاکستان میں نئے سعودی سفیر

برونیل یونیورسٹی ہیومن ریسورس مینجمنٹ میں ڈاکٹریٹ کی ڈگری حاصل کی۔( فوٹو: ایس پی اے)
سعودی عرب نے نواف بن سعید المالکی کی جگہ ڈاکٹر راجح بن طامی البقمی کو پاکستان میں اپنا نیا سفیر مقرر کیا ہے۔
یاد رہے کہ سعودی کابینہ نے اس سال اپریل میں وزارت خارجہ میں بطور سفیر ان کے تقرر کی منظوری دی تھی۔
سعودی وزارت خارجہ کے مطابق ڈاکٹر راجح بن طامی البقمی ان آٹھ  نئے سفیروں میں شامل تھے جنہوں نے منگل کو جدہ میں ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کے سامنے اپنے عہدے کا حلف اٹھایا۔
وزارت نے اپنے ایکس اکاؤنٹ پر ان سفیروں کی تصاویر بھی شیئر کیں جن میں پاکستان میں نئے سفیر شامل ہیں۔
عرب نیوز کے مطابق پاکستان اور سعودی عرب دیرینہ اتحادی ہیں، جو مشرق وسطی  میں بڑھتے ہوئے عدم استحکام کے درمیان دفاع، سرمایہ کاری اور علاقائی سکیورٹی میں تعاون کو مزید وسعت دے رہے ہیں۔
ایک ریٹائرڈ میجر جنرل راجح بن طامی البقمی، بعد میں سعودی وزارت خارجہ میں سفیر کے عہدے پر فائز ہوئے۔ انہوں نے برونیل یونیورسٹی لندن سے ہیومن ریسورس مینجمنٹ میں ڈاکٹریٹ کی ڈگری حاصل کی۔
ان کا تقرر سعودی عرب اور پاکستان کے درمیان ایک تاریخی سٹریٹیجک باہمی دفاعی معاہدے پر دستخط کے ایک سال سے بھی کم وقت میں ہوا ہے، جس کے تحت کسی بھی جارحیت کو دونوں ملکوں کے خلاف حملہ تصور کیا جائے گا۔
سعودی عرب اور پاکستان نے اقتصادی تعاون کو بھی نمایاں طور پر وسعت دی ہے۔ مملکت نے ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کے وژن 2030 حکتمت عملی کے تحت پاکستان میں اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری کا وعدہ کیا ہے اور مالی مدد کی فراہمی جاری رکھی ہے، جس سے ادائیگیوں کے توازن کے بحران کے دوران اسلام آباد کو اپنی معیشت مستحکم کرنے میں مدد ملی۔
حالیہ مہینوں کے دوان دونوں ملکوں کے تعلقات اور بھی قریب تر ہوئے ہیں کیونکہ ایران کے تنازعات سمیت علاقائی سکیورٹی کے ایشوز پر دونوں نے قریبی تعاون کیا ہے۔
رائٹرز کی ایک رپورٹ کے مطابق حملوں کے بعد مملکت میں سیکیورٹی کے خدشات بڑھنے پر پاکستان نے اس سال سعودی عرب میں فوجی اثاثے بھی تعینات کیے۔
راجح بن طامی البقمی نے نواف بن سعید المالکی کی جگہ لی ہے، جنہوں نے اس عرصے کے دوران پاکستان میں سعودی سفیر کی حیثت سے خدمات انجام دیں جس میں سیاسی مصروفیات، سکیورٹی تعاون کو وسعت اور جنوبی ایشیائی ملک میں بڑھتی ہوئی سعودی سرمایہ کاری کی نشاندہی کی گئی۔

 

شیئر: