کھجور کے سوکھے پتوں سے بنی ٹوکری کاریگر کا جمالیاتی ہنر ہے: سعودی ہنرمند اُم جابر
جمعرات 30 جولائی 2026 9:40
عسیر ریجن سے تعلق رکھنے والی سعودی خاتون اُم جابر گزشتہ تین دہائیوں سے ’خوص‘ ( کھجور کے سوکھے پتوں سے بنی ٹوکری) بنانے کی دستکاری سے وابستہ ہیں۔
سعودی ٹی وی الاخباریہ سے گفتگو کرتے ہوئے ام جابر کا کہنا تھا کہ ’انہوں نے یہ ہنر اپنی والدہ سے سیکھا ہے اور وہ گزشتہ 30 برس سے ٹوکریاں بنا رہی ہیں۔‘
انہوں نے بتایا کہ موجودہ دور میں مشینوں نے کام کو آسان بنا دیا ہے تاہم ’خوص‘ کی تیاری میں کاریگر کا ذاتی کمال اور جمالیاتی ہنر رچا بسا ہوتا ہے۔
ان کے مطابق وہ دستکاری کا یہ ہنر اپنی بیٹیوں کو بھی سِکھا رہی ہیں تاکہ اِسے نسل درنسل زندہ رکھا جائے اور ہماری تہذیب و ثقافت قائم و دائم رہے۔
ٹوکریوں (خوص) کے بارے میں ام جابر نے بتایا ’اِن ٹوکریوں کی خصوصیت یہ ہے کہ اِن میں رکھی گئی اشیا خراب نہیں ہوتیں۔ اگر اِن میں کھجوریں رکھیں تو ایک برس تک وہ اِسی طرح تروتازہ رہیں گی جیسے ابھی رکھی گئی ہوں۔‘
اُم جابر کے بقول ’ماضی میں اِن ٹوکریوں کا رواج عام تھا اور یہ ہر گھر کی یہ ضرورت ہوتی تھیں کیونکہ اِن میں رکھی گئی چیزیں خراب نہیں ہوتی تھیں۔‘
انہوں نے بتایا کہ ’علاقے میں جو خواتین بھی اِس صنعت سے وابستہ ہیں وہ اپنی بیٹیوں، بہنوں اور واقف کار خواتین کو یہ ہنر سکھاتی ہیں کیونکہ ہماری خواہش ہے کہ اجداد سے ملنے والا یہ فن برقرار رہے اور اسے نئی نسلوں تک منتقل کیا جائے‘۔

واضح رہے دستکاری، ثقافتی میراث کا کلیدی حصہ ہے جس میں بچپن سے سیکھے ہوئے ہنر، تخلیقی صلاحیتیں اور جمالیاتی اقدار، ایک خاص انداز میں لوگوں کے سامنے رکھی جاتی ہیں۔
یہ دستکاری ماضی کو حال سے جوڑ کر سعودی شناخت کی نمائندگی کرتی ہے۔
سعودی عرب نے 2025 کو ’دستکاری کا سال‘ قرار دیا تھا تاکہ مقامی اور بین الاقوامی طور پر اِس مالا مال ثقافتی میراث کو مزید پروان چڑھایا جا سکے۔