اُون کاتنا: مملکت میں صحرائی زندگی اور دیہی کمیونٹیوں کا قدیم ترین روایتی ہنر
اُون کاتنا، صحرائی زندگی اور دیہی کمیونٹیوں کا قدیم ترین روایتی ہنر رہا ہے جہاں بھیڑ سے حاصل کردہ اُون اور بکری اور اونٹ کے بالوں کو دھاگے کی شکل دی جاتی رہی ہے جس سے کپڑے، بستر، خیمے اور ورثے کی دیگر پروڈکٹس تیار ہوتی تھیں۔
یہ کام اُون کو کترنے اور صاف کرنے سے شروع ہوتا ہے جس کے بعد اُسے سوکھنے اور نرم کرنے کے لیے رکھ دیا جاتا ہے۔ اس کے بعد حاصل ہونے والے فائبر کو گھمایا جاتا جس سے وہ مضبوط دھاگے کی شکل اختیار کر لیا ہے اور بُنائی اور دستکاری کی کئی مصنوعات میں استعمال کیا جاتا ہے۔
سعودی پریس ایجنسی کے مطابق زمانۂ قدیم میں روایتی بُنائی اور کپڑوں کو قدرتی رنگ دینے کے لیے خواتین، ہلدی، حِنا، زعفران اور خشک کیے ہوئے سیاہ لیموں کو استعمال کیا کرتی تھیں جسے سے دھاگے یا کپڑے پر قدرتی رنگ آ جایا کرتے تھے۔
تاریخی طور پر، سُوت کاتنے کا فن گھریلو معیشت میں کلیدی کردار کا حامل تھا جو نسل در نسل منتقل ہوتا آیا ہے۔ اِسی وجہ سے ثقافتی شناخت اور روایتی دستکاریاں محفوظ رہی ہیں۔
آج ورثے کے اِس ہنر کو ایک مستند علامات اور ماضی کی درخشاں روایت کے طور پر محفوظ بنانے کے لیے کوششیں جاری ہیں۔