مصنوعی ذہانت اور اینیمیشن کا امتزاج: سعودی ڈائریکٹر کی فلم ’شمعہ‘ ایک تُند خُو شہزادی کی کہانی
مصنوعی ذہانت اور اینیمیشن کا امتزاج: سعودی ڈائریکٹر کی فلم ’شمعہ‘ ایک تُند خُو شہزادی کی کہانی
جمعرات 30 جولائی 2026 11:41
فلم ’شمعہ‘ میں صبر اور قربانی کے جذبے کو بھی اجاگر کیا گیا ہے (فوٹو: بسمہ عبداللہ)
سعودی عرب کی مصنفہ اور ڈائریکٹر بسمہ عبداللہ ایک مختصر فلم ’شمعہ‘ میں ساکن تصویر کو متحرک کرکے مصنوعی ذہانت اور اینیمیشن کو ہم آہنگ کر رہی ہیں۔ اِس فلم میں ثقافتی مناظر اور تصویریں مصنوعی ذہانت کی مدد سے بنائی گئی ہیں۔
یہ تجربہ ایسے وقت ہو رہا ہے جب مملکت کی جانب سے وژن 2030 کے تحت تخلیقی صنعتوں میں سرمایہ کاری کو بڑھانے کی کوششیں تیز ہو رہی ہیں۔
بسمہ عبداللہ برسوں سے فکشن اور جرائم پر مبنی ادب تخلیق کر رہی ہیں۔ ’شمعہ‘ کے علاوہ بھی وہ ٹِک ٹاک پر اپنے اکاؤنٹ (@banabella.home) کے ذریعے اپنی دیگر مختصر فلمیں اور کہانیوں کے کلپس شیئر کرتی رہتی ہیں۔
عبداللہ کہتی ہیں کہ وہ ایسی اینیمیٹڈ فلم پیش کرنا چاہتی ہیں جس میں ادبی تخیّل اور مصنوعی ذہانت کی ٹیکنالوجی کو استعمال کیا گیا ہو لیکن کلاسیکی اینیمیشن کی رُوح اپنی جگہ برقرار رہے۔
انھوں نے عرب نیوز سے گفتگو میں کہا کہ مصنوعی ذہانت کو استعمال کرکے کسی منصوبے کے فنکارانہ وژن کو بہتر بنایا جا سکتا ہے لیکن اُس کی جگہ نہیں لی جا سکتی۔ اُن کے مطابق ایسا کرنے سے تخلیقی ٹیم کو پروڈکشن کے کچھ مراحل کی رفتار تیز کرنے میں مدد مل جاتی ہے لیکن فلم کی کہانی کی جذباتی گہرائی اپنی جگہ قائم رہتی ہے۔
انھوں نے کہا کہ ’شمعہ‘ کا خیال مجھے اس وقت آیا جب مصنوعی ذہانت کی ٹیکنالوجیوں کی مدد سے اینیمیٹڈ فلم ’کرٹرز‘ بنائی گئی۔‘
عبداللہ نے بتایا کہ ’انھوں نے تیزی سے بڑھتے ہوئے اُس عالمی رجحان کو دیکھا ہے جس میں کئی فلم فیسٹیولز میں اِس ٹیکنالوجی کو استعمال کرکے بنائی جانے والی فلموں کے لیے الگ سے مقابلے اور مخصوص شعبے قائم کیے گئے ہیں۔‘
فلم ’شمعہ‘ اُن سعودی فلمسازوں کی تعداد میں تیزی سے بڑھتے ہوئے اضافے کو بھی ظاہر کرتی ہے جو مقامی ثقافت اور شناخت سے جُڑی ہوئی کہانیاں سنانے کے لیے اُبھرتی ہوئی ٹیکنالوجیاں زیادہ سے زیادہ استعمال کر رہے ہیں۔
العلا کے خوبصورت پس منظر میں بننے والی فلم ’شمعہ‘ ایک گہری انسانی کہانی ہے جس میں عزم کی عکاسی بھی ہے، صبر بھی نمایاں ہوتا ہے اور قربانی کے جذبے کو بھی اجاگر کیا گیا ہے۔
انھوں نے بتایا کہ فلم کی کہانی ایک تُند خُو شہزادی کے گرد گھومتی ہے جو آتش فشاں سے بہنے والے لاوے سے پیدا ہوتی ہے۔ اُس میں اپنے والد کے اساطیری محل پر قابض ہونے کا نہ رُکنے والے جذبہ ہے۔ لیکن ایک پُراسرا وصیت، شہزادی کو اپنے خواب کی تکمیل سے روکتی ہے اور وہ ایک ایسے سفر پر چل پڑتی ہے جہاں سازشیں ہیں، جنگ و جدل ہے اور باہمی تنازع ہیں۔
’یہ فلم صرف خیالی یا افسانہ نہیں بلکہ دیکھنے والوں کو محسور کر دینے والی دنیا کے اندر عزم و خواہش، حِرص، محبت اور قربانی جیسے موضوعات کی جھلک ملتی ہے۔‘
عبداللہ نے بتایا کہ وہ بچپن ہی سے جاپانی اینیمی (اینیمیشن) سے بہت متاثر تھیں۔ ’مجھے والٹ ڈزنی سے بھی بہت تحریک ملی جس نے سادہ اور مختصر فلموں کے ساتھ ابتدا کی اور آگے چل کر اینیمیشن کی تاریخ کے سب سے بڑے اداروں میں سے ایک کی بنیاد ڈالی۔ جاپانی ہدایتکار ہایاؤ میازاکی بھی مجھے بہت پسند ہیں۔ اُن کے کام میں انسانیت، بہترین بصری تخیل اور ایسے پیغامات ہیں جو عمر اور ثقافت جیسے تصورات سے کہیں اوپر ہیں۔‘
عبداللہ کہتی ہیں ’میں سمجھتی ہوں کہ سعودی عرب جس کا وژن انتہائی روشن و رخشاں ہے، فلمی صنعت میں بڑھتی ہوئی دلچسپی کے ایک غیر معمولی مرحلے سے گزر رہا ہے۔ اِس کا سہرا ثقافتی اداروں، پروڈکشن میں مدد کے لیے فراہم کیے جانے والے فنڈ اور اُن فیسٹیولز کے سر ہے جو مختلف انیشیٹیوز کے ذریعے ایسے پروگرام پیش کرتے رہتے ہیں۔‘
انہوں نے کہا کہ ’اس تیز رفتار پیش رفت کے باوجود، اینیمیٹڈ فلمیں بنانے کے لیے مزید سرمایہ کاری چاہیے اور ایسے سٹارٹ اپس پر توجہ دینے کی بھی ضرورت ہے جو ڈیجیٹل پلیٹ فارمز اور چینلز کے ذریعے اپنے کام کو آگے لے جانا چاہتے ہیں۔‘
مصنوعی ذہانت کی ٹیکنالوجیوں کی مدد سے اینیمیٹڈ فلم ’کرٹرز‘ بنائی گئی (فوٹو: آئی ایم بی ڈی)
انھوں نے کہا کہ گو مصنوعی ذہانت نے پیداواری لاگت کم کی ہے، اینیمیشن کی صنعت میں اب بھی ترقی کی گنجائش اور ضرورت ہے۔
’سب سے بڑا چیلنج یہ ہے کہ آپ فلم میں جس طرح کا منظر ڈالنا چاہتے ہیں اُس کے لیے کئی مرتبہ درجنوں کوششوں کی ضرورت ہوتی ہے تاکہ وہ سنیما کے مطلوبہ معیار کے مطابق ہو۔ اِس کے علاوہ ایک مسئلہ یہ بھی ہے کہ کچھ سافٹ ویئر اور پروفیشنل سبسکرپشنز بہت مہنگے ہیں۔ میں سمجھتی ہوں کہ ایسی فلموں کو خصوصی پلیٹ فارمز اور ایسے ایونٹس درکار ہیں جہاں اُن کی پہنچ عوام تک زیادہ سے زیادہ ہو جائے اور اُن کی تقسیم محدود نہ رہے بلکہ اس میں وسعت آ سکے، خصوصی طور پر اس لیے بھی کہ یہ شعبہ تخلیقی مواد کے لیے پُرامید مستقبل کی نوید سنا رہا ہے۔‘
مستقبل کے بارے میں بسمہ عبداللہ کا ایک خواب ہے کہ وہ طویل دورانیے کی ایک ایسی فلم بنائیں جو ایک انسانی کہانی کے ذریعے سعودی ثقافت کو دنیا کے ہر فرد کے سامنے رکھ سکے۔