Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

کوئٹہ کے قریب کوئلہ کان میں گیس دھماکہ، پانچ کان کن ہلاک، 31 مزدور اب بھی کان میں پھنسے ہوئے ہیں

محمد عاطف کے مطابق کان کے اندر اور متبادل راستے میں گیس کی بھاری مقدار موجود تھی۔ (فائل فوٹو: اے ایف پی)
کوئٹہ کے قریب  ایک کوئلہ کان میں  گیس کے دھماکے کے باعث پیش آنے والے حادثے کے نتیجے میں کم از کم پانچ کان کن ہلاک ہو گئے ہیں جبکہ 31 کان کن اب بھی ہزاروں فٹ کی گہرائی میں پھنسے ہوئے ہیں۔
حکام کے مطابق یہ حادثہ جمعرات کو کوئٹہ سے تقریباً 35 کلومیٹر مشرق میں واقع ’شیخ عزیز لیز کول مائن‘ میں پیش آیا۔
چیف انسپکٹر مائنز بلوچستان محمد عاطف کے مطابق کان میں میتھین گیس بھر جانے سے زور دار دھماکہ ہوا اور کان کا ایک بڑا حصہ بیٹھ گیا۔ دھماکے کے وقت وہاں 36 مزدور کام کر رہے تھے۔
کول مائنز لیبر یونین کے صدر بخت نواب نے اردو نیوز کو بتایا کہ دھماکہ تقریبا تین ہزار فٹ کی گہرائی میں ہوا لیکن یہ اتنا شدید تھا کہ اس کے اثرات سطح زمین تک محسوس کیے گئے۔ زمین کے اوپر موجود دو کان کن بھی اس کی زد میں آ کر ہلاک ہو گئے۔
انہوں نے بتایا کہ دھماکے کے بعد کان میں آگ بھڑک اٹھی جس کی وجہ سے جھلسنے کے باعث ہلاکتوں میں اضافے کا خدشہ ہے۔
چیف انسپکٹر مائنز نے بتایا کہ حادثے کے وقت کان کن ڈھائی سے تین ہزار فٹ کی گہرائی میں موجود تھے۔ دھماکے سے ہوا اور آکسیجن کی فراہمی کے لیے بنایا گیا متبادل راستہ بھی متاثر ہوا۔
ان کا کہنا تھا کہ مائنز ڈیپارٹمنٹ کی ریسکیو ٹیم امدادی سرگرمیوں میں مصروف ہیں۔
محمد عاطف کے مطابق کان کے اندر اور متبادل راستے میں گیس کی بھاری مقدار موجود تھی۔
انہوں نے بتایا کہ پہلے بڑے پنکھوں کے ذریعے باہر نکالا گیا اور اس کے بعد ریسکیو ٹیمیں اندر داخل ہو سکیں۔
ان کے مطابق گیسوں کی موجودگی، کان کے بڑے حصے کے منہدم ہونے کے باعث ملبہ ہٹانے اور حادثہ گہرائی میں پیش آنے کی وجہ سے امدادی سرگرمیوں میں مشکلات کا سامنا ہے۔
بخت نواب کے مطابق حادثے کے فوری بعد قریب موجود دیگر کانوں کے مزدوروں نے اپنی مدد آپ کے تحت امدادی کام شروع کیا جس کے بعد کوئٹہ سے بھی سرکاری امدادی ٹیمیں موقع پر پہنچ گئیں۔
 آفات سے نمٹنے کے صوبائی ادارے پی ڈی ایم اے کے مطابق مائنز ڈیپارٹمنٹ کی ریسکیو ٹیموں کے علاوہ کوئٹہ سے پی ڈی ایم اے کی ریسکیو ٹیمیں بھی موقع پر پہنچی ہیں اور سرچ اینڈ ریسکیو آپریشن مشترکہ طور پر کیا جارہا ہے۔
صوبائی وزیر مائنز اینڈ منرلز میر شعیب نوشیروانی کے مطابق وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کی ہدایت پر چیف انسپکٹر مائنز اور پی ڈی ایم اے حکام جائے وقوعہ پر موجود ہیں۔
انہوں نے کہا کہ حکومت ریسکیو آپریشن کی مسلسل نگرانی کر رہی ہے اور تمام دستیاب وسائل بروئے کار لائے جا رہے ہیں۔ کان میں پھنسے مزدوروں تک پہنچنے کے لیے ملبہ ہٹانے اور زہریلی گیس باہر نکالنے کا کام جاری ہے۔
مائنز لیبر یونین کے صدر بخت نواب کے مطابق حادثے کا شکار ہونے والے 5 کان کنوں کا تعلق خیبر پختونخوا کے ضلع شانگلہ سے ہے۔
بتایا جاتا ہے کہ یہ کان شیخ عزیز نامی شخص کی ملکیت  ہے جنہوں نے اسے سردار عثمان جاگیزئی کول کمپنی کو ٹھیکیدار پر دے رکھا تھا۔
سورینج میں اس سے پہلے بھی کوئلہ کانوں میں کئی بڑے حادثات پیش آچکے ہیں۔ مارچ 2011 میں سورینج میں ایک کوئلہ کان میں گیس دھماکے کے باعث پیش آنے والے حادثے میں 45 کان کن ہلاک ہوگئے تھے۔
بلوچستان میں کوئلہ کانوں میں ہر سال اوسطا 80 سے 90 کان کنوں کی موت ہوجاتی ہے۔
مائنز انسپکٹریٹ بلوچستان کے اعداد و شمار کے مطابق صوبے میں 2021 سے 2025 کے دوران صوبے میں کوئلہ کانوں کے کم از کم 229 حادثات میں 383 کان کن اپنی جانیں گنوا چکے ہیں۔
صرف سال 2025 میں 40 حادثات کے دوران 70 کان کن ہلاک ہوئے جبکہ رواں سال بھی ایسے متعدد واقعات سامنے آ چکے ہیں۔
لیبر یونین کے رہنما بخت نواب کا کہنا ہے کہ کانوں میں  حفاظتی انتظامات نہ ہونے کے برابر ہیں۔ کان مالکان اور ٹھیکیدار مزدوروں کی جان کو ترجیح نہیں دیتے جبکہ حکومت کی جانب سے حفاظتی قوانین پر مؤثر عملدرآمد نہیں کرایا جاتا جس کی وجہ سے آئے روز ایسے حادثات پیش آتے ہیں۔ 

شیئر: