گوادر: پنجاب سے تعلق رکھنے والے 12 یرغمال افراد بازیاب، 3 ملزمان گرفتار
بدھ 29 جولائی 2026 17:46
زین الدین احمد -اردو نیوز، کوئٹہ
بلوچستان کے ساحلی شہر گوادر میں پولیس نے ایک بنگلے پر چھاپہ مار کر پنجاب سے تعلق رکھنے والے 12 افراد کو بازیاب کرا لیا ہے جنہیں کئی روز قبل یرغمال بنایا گیا تھا۔
پولیس کے مطابق ’اس کارروائی کے دوران تین ملزمان کو گرفتار کر کے اُن کے قبضے سے پانچ گاڑیاں بھی تحویل میں لے لی گئی ہیں۔‘
ایس ایس پی گوادر، فلائٹ لیفٹیننٹ (ریٹائرڈ) عطاء الرحمان ترین نے اردو نیوز کو بتایا کہ ’پولیس کو اطلاع ملی تھی کہ نیو ملابند کے علاقے میں واقع ایک بنگلے میں غیر مقامی افراد کو قید رکھا گیا ہے جس پر منگل کو کارروائی کی گئی اور انہیں بازیاب کرایا گیا۔‘
’روزگار کا جھانسہ اور تاوان کا مطالبہ‘
واقعے کی تفصیلات بتاتے ہوئے تھانہ گوادر کے ایس ایچ او بشیر احمد نے کہا کہ ’بازیاب کروائے گئے افراد کا تعلق لاہور، فیصل آباد اور سرگودھا سمیت پنجاب کے مختلف شہروں سے ہے۔‘
’ان افراد کو ایران اور عراق میں اچھے روزگار کا جھانسہ دے کر پہلے کراچی بلایا گیا جہاں سے سمگلر انہیں رینٹ اے کار کی گاڑیوں کے ذریعے گوادر لائے۔ ملزمان ان سے بیرونِ ملک بھیجنے کے عوض پہلے ہی لاکھوں روپے وصول کر چکے تھے۔‘
پولیس افسر کے مطابق ’گوادر لانے کے بعد ان افراد کو کئی روز سے ایک بنگلے میں یرغمال بنا کر رکھا گیا اور اُن کے گھر والوں کو فون کر کے مزید رقم دینے کے لیے دباؤ ڈالا جا رہا تھا۔‘
خطرناک سمندری راستے اور سمگلروں کا نیٹ ورک
ایس ایچ او بشیر احمد نے مزید بتایا کہ ’یہ بنیادی طور پر انسانی سمگلروں کا ایک منظم گروہ ہے جو لوگوں کو بہتر مستقبل کے خواب دِکھا کر خفیہ زمینی اور سمندری راستوں سے غیر قانونی طور پر بیرونِ ملک منتقل کرتا ہے۔
’یہ سمگلر اکثر لوگوں کو کھلے سمندر میں بے یارومددگار چھوڑ دیتے ہیں جس کے باعث کئی افراد ڈُوب کر یا بھوک پیاس سے مر جاتے ہیں جبکہ بعض کو ایرانی سرحدی حکام گرفتار کر لیتے ہیں۔‘
ان کا کہنا تھا کہ ’گرفتار کیے گئے تین ملزمان میں سے دو کا تعلق خاران اور ایک کا پنجگور سے ہے، تاہم وہ کچھ عرصے سے کراچی میں مقیم تھے۔‘
’عدالت سے ملزمان کا چار روزہ جسمانی ریمانڈ حاصل کر کے تفتیش شروع کر دی گئی ہے جبکہ بازیاب ہونے والے افراد کے بیانات بھی قلم بند کیے جا رہے ہیں۔‘