Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

مکہ ریجن کے جزائر: پائیدار سیاحت اور بلیو اکانومی کے لیے ’سب سے قیمتی اثاثہ‘

حیاتیاتی تنوع کے باعث سرمایہ کاری کے لیے بھی مواقع موجود ہیں ( فوٹو: ایس پی اے)
مکہ ریجن کے ساحل کے ساتھ متعدد جزیرے اپنی قدرتی خوبصورتی کی وجہ منفرد تفریح کا مقام ہیں۔ یہ جزائر سعودی عرب کے سب سے قیمتی سیاحتی اثاثوں میں شمار ہوتے ہیں۔
ایس پی اے کے مطابق ریجن کے ساحلی جزیروں پر حد نگاہ تک پھیلی ہوئی سفید ریت، فیروزی پانی، رنگا رنگ مرجان کی چٹانیں اور بھر پور حیاتیاتی تنوع کے باعث سرمایہ کاری کے لیے بھی مواقع موجود ہیں۔
مغربی ساحلی پٹی پر قدرتی اور ماحولیاتی وسائل سے بھر پور ان جزیروں کے ترقیاتی منصوبوں کا مقصد جدید خدمات کو متعارف کرانا ہے جو پائیداری کے معیارات سے ہم آہنگ ہیں۔ قدرتی وسائل کے تحفظ کے ساتھ معاشی ترقی میں توازن قائم کرنا اور بلیو اکانومی کو سعودی عرب کی مستقبل کی ترقی کے اہم محرکات میں سے ایک کے طور پر مضبوط بنانا ہے۔
سعودی ریڈ سی اتھارٹی انتظامی فریم ورک کے ذریعے ساحلی مقامات کی پائیدار ترقی کو آگے بڑھا رہی ہے۔ جدہ کمشنری کے شمال میں ’ثول پرائیوٹ ریزوٹ‘ اس کی نمایاں مثال ہے۔ یہ ریزوٹ جسے ریڈ سی گلوبل نے تعمیر کیا، مرجان کے جزیروں کے ایک سلسلے میں واقع ہے۔

اسی طرح اللیث کمشنری کے ساحلی مقام پر ’الاخوات الاربع‘ کے نام سے معروف جزیرے موجود ہیں جن میں ’مرم، دہرب، ملاتو اور جدیر‘ اپنے حیاتیاتی تنوع اور مرجان کی چٹانوں کے باعث نمایاں ہیں۔ یہ جزیرے سمندری کچھوؤں کی افزائش کے اہم مراکز اور نقل مکانی کرنے والے پرندوں کے لیے قدرتی مسکن بھی ہیں۔
یہاں سمندری کچھوؤں کے ڈھائی ہزار سے زائد گھونسلے ریکارڈ کیے گئے ہیں۔ ان جزیروں پر غوطہ خوری، کشتی رانی اور ماحولیاتی سیاحت کے شوقین افراد کی بڑی تعداد تفریح کے لیے آتی ہے۔

جنوبی ساحل پر القنفذہ کمشنری میں واقع جبل الصبایا جزیرہ بھی اہم سیاحتی مقامات میں سے ایک ہے۔ یہاں موجود صبا بیچ بحری سیاحتی جہازوں کے لیے نمایاں منزل ہے۔
یہ تمام ساحلی مقامات مملکت کے مغربی ساحل پر جاری سیاحتی اور ترقیاتی منصوبوں کا حصہ ہیں جو پرتعیش سیاحت، ماحولیاتی سیاحت اور بحری سرگرمیوں کو یکجا کرتے ہیں۔ اس سے نہ صرف قومی سیاحتی شعبے میں تنوع پیدا ہو رہا ہے بلکہ معیاری سیاحت اور بحری سرگرمیوں کو بھی فروغ مل رہا ہے۔

 

شیئر: