Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

املج اور الوجہ کے گورنریٹس: بحیرۂ احمر کے شفاف پانیوں اور سفید جزائر کی دیدہ زیب دنیا

بحیرۂ احمر میں جنوب کی طرف فرسان کے جزائر کا سلسلہ اپنے شاندار قدرتی ماحول کی وجہ سے معروف ہے (فوٹو: ایس پی اے)
بحیرۂ احمر کے پانیوں کے کنارے 150 ساحل اور 1150 جزیرے ہیں جو مملکت کے کل جزیروں کا 90 فیصد ہیں۔ یہاں کے پانیوں میں مونگے کی 300 سے زیادہ اقسام جبکہ مچھلیوں کی انواع کی تعداد 1200 سے بھی بڑھ کر ہے۔ بحیرۂ احمر میں وہ مرجانی چٹانیں پائی جاتی ہیں جو تخمینوں کے مطابق 5000 سے 7000 سال پرانی ہیں۔
سعودی پریس ایجنسی کے مطابق بحیرۂ احمر کا غیر معمولی جغرافیائی اور ماحولیاتی تنوع اور دور دور تک پھیلا ہوا ساحلی علاقہ اِسے مملکت کا سب سے قیمتی اور پائیدار سیاحتی اثاثہ بناتا ہے۔
اِس کی سب سے خاص بات، جدہ کا ساحل ہے جہاں سیاحوں کو تیراکی کے لیے محفوظ مقام، سائیکلنگ یا پیدل چلنے کے لیے ٹریک، تفریح اور کھیلوں کی سہولتیں اور بہت سے کیفے، ریستوران اور عوامی آسائشیں فراہم کی گئی ہیں۔
ینبع میں غوطہ خوروں کے لیے اعلٰی مقامات ہیں جو اپنی پُر رونق مرجانی چٹانوں کے لیے شہرت رکھتے ہیں۔ یہاں غوطہ خوری کے خصوصی مراکز بنائے گئے ہیں جو نئے نئے اور تجربہ کار غوطہ خوروں دونوں کی ضروریات پوری کرتے ہیں۔
شمال کی طرف چل پڑیں تو املج اور الوجہ کے گورنریٹس میں بحیرۂ احمر اپنے اصل قدرتی حسن کے ساتھ دکھائی دیتا ہے اور اِس کے، دیدہ زیب مناظر، سفید ریت کا لباس اوڑھے اور ہر طرح کی آلودگی سے پاک صاف ستھرے جزائر اور شفاف پانیوں کی جلوہ گری شروع ہو جاتی ہے۔ یہی سبب ہے کہ اِس مقام کو دنیا کی بہترین آبی سیاحت کا علاقہ اور سرمایہ کاری کی عالمی منزل کہا جاتا ہے۔

بحیرۂ احمر کے پانیوں کے کنارے 150 ساحل ہیں (فوٹو: ایس پی اے)

بحیرۂ احمر میں جنوب کی طرف فرسان کے جزائر کا سلسلہ اپنے شاندار قدرتی ماحول کی وجہ سے معروف ہے۔ یہیں مینگروو کے جنگلات ہیں اور اِسی جگہ فرسان کے نایاب غزال چوکڑیاں بھرتے دکھائی دیتے ہیں۔
یہ ریزرو، سنہ 2021 میں یونیسکو کے بائیو سفیئر ریزروز کے عالمی نیٹ ورک میں شامل ہوگیا تھا۔ یہاں کا ساحلی ورثہ، اپنے کمال کی وجہ سے بہت شہرت یافتہ ہے جس کے ساتھ موتیوں کے لیے غوطہ خوری کی طویل تاریخ بھی جُڑی ہوئی ہے۔

 ساحلوں پر تفریح اور کھیلوں کی سہولتیں موجود ہیں (فوٹو: ایس پی اے)

مملکت میں پہلی بار سعودی ریڈ سِی اتھارٹی نے ساحلوں پر کام کرنے والوں کے لیے ایک ہی طرح کے ضابطوں کا اجرا کیا ہے۔
اِس کا مقصد ساحلوں کو سیاحت کی ایک ایسی منزل کے طور پر اجاگر کرنا ہے جو سرمایہ کاری میں اضافے کا باعث بنے اور جہاں معاشرے کے ہر طبقے کے لیے تفریحی تجربات کے مواقع ہوں۔ ضابطوں میں عوامی تحفظ کے معیارات، عملی تقاضوں اور ماحول کی حفاظت کے اقدامات کو یقینی بنانا بھی شامل ہے۔

شیئر: