Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

بلوچستان کوئلہ کان حادثہ: شانگلہ کے ایک ہی گاؤں سے 23 مزدور ہلاک، ’قبریں کھودنے کے لیے لوگ کم پڑ گئے‘

ضلع شانگلہ میں جب یہ لاشیں پہنچی تو وہاں نوجوانوں کا احتجاج جاری تھا (فوٹو: سوشل میڈیا)
بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ کے علاقے سورینج میں کوئلے کی دو کوئلہ کانوں میں دھماکے کے بعد 32 مزدوروں کی لاشیں نکالی لی گئی ہیں جن میں سے 31 مزدوروں کا تعلق خیبر پختونخوا کے ضلع شانگلہ سے بتایا گیا ہے جبکہ انہی 31 افراد میں سے 23 افراد ایک ہی یونین کونسل پیرآباد میاں کلے سے تعلق رکھتے ہیں۔
کوئٹہ سے قریباً 35 کلومیٹر دور سورینج میں واقع شیخ عزیز لیز کی سردار عثمان اور علی بھائی کول کمپنیوں کی دو کوئلہ کانوں میں یہ حادثہ جمعرات کو پیش آیا تھا اور جمعے کو دوسرے روز بھی آپریشن جاری رہا۔
اس وقت ضلع شانگلہ میں سوگ کا سماں ہے اور مقامی سطح پر عوام احتجاج بھی کر ریے ہیں۔ یونین کونسل پیرآباد میں ’آل پاکستان مائنز لیبر فیڈریشن‘ کے مرکزی صدر عابد یار نے اردو نیوز کو بتایا کہ ’حادثہ جمعرات کو دوپہر قریباً دو بجے اس وقت پیش آیا جب سورینج میں دو مختلف کوئلہ کانوں میں میتھین گیس کا دھماکہ ہوا۔‘
وہ اس حوالے سے بتاتے ہیں کہ ’ہمارے ضلع سے 31 افراد جان سے گئے ہیں۔ ایک کان میں 11 جبکہ دوسری میں 23 مزدور کام کر رہے تھے۔ دھماکے کے بعد شام چار بجے دو لاشیں نکالی گئیں جبکہ باقی لاشیں بعد کی ریسکیو کارروائیوں میں نکالی گئیں۔ تمام میتیں کوئٹہ سے ان کے آبائی علاقوں کی جانب روانہ کر دی گئی ہیں۔‘
ضلع شانگلہ میں جب یہ لاشیں پہنچیں تو وہاں نوجوانوں کا احتجاج جاری تھا۔ فلائنگ کوچ کی چھتوں پر میتیوں کو باندھ کر لایا گیا جہاں سے سوزوکی کے ذریعے پہاڑ پر موجود گاؤں پہنچایا گیا۔ اس حادثے کا سب سے دردناک پہلو یہ ہے کہ پورا ایک گاؤں سوگ میں ڈوب گیا ہے۔ عابد یار کے بقول ’پیرآبد میاں کلے کے 23 مزدور اس سانحے میں اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں۔ ایک ہی خاندان کے چار افراد اس حادثے میں جان سے گئے ہیں۔ ہم اس وقت ان کے ہی ڈیرے پر موجود ہیں اور خواتین کی چیخیں باہر تک سنائی دے رہی ہیں۔‘
ان کے مطابق ’جان کی بازی ہار جانے والوں میں اکثریت نوجوانوں کی تھی جن کی عمریں 17 سے 25 برس کے درمیان ہیں۔‘

’والد بھی کان میں مارے گئے، اب بھائی بھی چلا گیا‘

سرکاری اعداد و شمار کے مطابق ضلع شانگلہ کی آبادی ساڑھے آٹھ لاکھ سے تجاوز کر چکی ہے۔ اس ضلع میں کان کنی کے حادثات نے بیواؤں، یتیم بچوں اور عمر بھر کے لیے معذور ہونے والے مزدوروں کی ایک بڑی تعداد بھی چھوڑ دی ہے۔
پیرآباد میاں کلے کے رہائشی شاہ خالد کے لیے یہ حادثہ دو نسلوں پر پھیلا ایک المیہ ہے۔ انہوں نے اردو نیوز کو بتایا کہ ’میرے ایک بھائی کی اس حادثے میں جاں گئی ہے جبکہ میرے تین چچا زاد بھائی بھی اس میں شامل ہیں۔ ان کی عمریں 17، 19، 21 اور 23 سال تھیں۔‘
وہ بتاتے ہیں کہ ایک نوجوان نے ایف اے تک تعلیم حاصل کی تھی جبکہ باقیوں نے پانچویں جماعت کے بعد تعلیم چھوڑ دی تھی۔ ’ان سب کی شادیاں ہو چکی تھیں۔ وہ صرف اپنی شادیوں کے قرضے اتارنے کے لیے کان میں کام کر رہے تھے۔‘ شاہ خالد بتاتے ہیں کہ حادثے کے وقت ان کے دو بھائی دن کی شفٹ مکمل کر کے باہر آ چکے تھے جبکہ سب سے چھوٹا بھائی رات کی ڈیوٹی کے لیے اندر گیا تھا۔ یہ اس خاندان کے لیے یہ دوسرا بڑا سانحہ ہے۔
شاہ خالد نے روتے ہوئے اردو نیوز کو بتایا ’میرے والد بھی 2003 میں کوئٹہ کی ایک کوئلہ کان میں حادثے کا شکار ہو کر جاں بحق ہوئے تھے۔ میری والدہ اس صدمے کو دوبارہ برداشت نہیں کر پا رہیں۔ میرے بھائی کی شادی کو صرف تین ماہ ہوئے تھے۔ ایک چچا زاد بھائی کا ایک بیٹا ہے، باقی کی کوئی اولاد نہیں تھی۔‘

ضلع شانگلہ میں گرمیوں اور سردیوں کی چھٹیوں میں سکولوں کے بچے روزگار کی تلاش میں کانوں میں اتر جاتے ہیں (فوٹو: سوشل میڈیا)

80 فیصد مزدور ضلع شانگلہ سے

مینگورہ سے تقریباً 40 کلومیٹر دور واقع ضلع شانگلہ کی پانچوں تحصیلوں میں ہزاروں خاندانوں کا روزگار آج بھی بلوچستان اور ملک کے دوسرے حصوں کی کوئلہ کانوں سے وابستہ ہے۔ غربت، محدود زرعی وسائل اور مقامی سطح پر روزگار کی کمی نے نوجوانوں کو ایسے پیشے سے وابستہ کر رکھا ہے جہاں ہر شفٹ زندگی اور موت کے درمیان ایک نئے امتحان کی مانند ہوتی ہے۔
یہ پہلا موقع نہیں کہ شانگلہ کے درجنوں گھر ایک ساتھ اجڑے ہوں۔ نو جنوری 2025 کو بلوچستان کے علاقے سنجدی میں کوئلے کی کان میں دھماکے کے نتیجے میں 12 مزدور جان سے گئے تھے جن میں سے 10 کا تعلق شانگلہ سے تھا۔ اس سے پہلے 2011 میں بلوچستان میں پاکستان مائن ڈیویلپمنٹ کارپوریشن کی کان میں ہونے والے دھماکے کے بعد ایک ہی دن شانگلہ کے علاقے پیرآباد میں 42 کان کنوں کی لاشیں پہنچائی گئی تھیں۔
عابد یار بتاتے ہیں کہ اگرچہ ملک بھر میں کان کنوں کا کوئی سرکاری اور مستند ریکارڈ موجود نہیں تاہم ان کی تنظیم کئی برسوں سے اعداد و شمار جمع کر رہی ہے۔ ان کے بقول ’ہمارے اندازے کے مطابق پاکستان بھر کی کوئلہ کانوں میں ایک لاکھ سے ڈیڑھ لاکھ مزدور ضلع شانگلہ سے تعلق رکھتے ہیں۔ کوئٹہ، حیدرآباد، درہ آدم خیل اور دیگر کان کنی کے علاقوں میں تقریباً 80 فیصد مزدور شانگلہ کے ہیں۔‘
عابد یار کے مطابق ان کی تنظیم نے 2017 کے بعد سے کان کن مزدوروں کے حادثات کا ریکارڈ مرتب کیا ہے۔ وہ کہتے ہیں ’ہمارے اعداد و شمار کے مطابق ہر سال 280 سے 300 مزدور جان سے جاتے ہیں جبکہ 100 سے زائد معذور ہو جاتے ہیں۔ جو مزدور زندہ بچ جاتے ہیں وہ 50 برس کی عمر تک پہنچتے پہنچتے کانوں میں کام کرنے کی وجہ سے مختلف بیماریوں کا شکار ہو جاتے ہیں۔‘
ان کے مطابق پاکستان میں کان کنوں کے تحفظ کے لیے مؤثر قانون سازی نہ ہونے کے برابر ہے۔ ’آج بھی سنہ 1923 کے قانون پر عمل ہو رہا ہے جو بعد میں 1972 کے آئین کے تحت نافذ رہا لیکن اس کے بعد کوئی جامع قانون سازی نہیں ہوئی۔ دنیا بھر میں جدید حفاظتی قوانین موجود ہیں لیکن یہاں نہ مناسب حفاظتی اقدامات ہیں اور نہ ہی مزدوروں کو تربیت دی جاتی ہے۔‘

32 مزدوروں کی لاشیں نکالی لی گئی ہیں جن میں سے 31 مزدوروں کا تعلق خیبرپختونخوا کے ضلع شانگلہ سے بتایا گیا ہے (فوٹو: سوشل میڈیا)

وہ ایک اور تشویشناک پہلو کی نشاندہی کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ ’ضلع شانگلہ میں گرمیوں اور سردیوں کی چھٹیوں میں سکولوں کے بچے روزگار کی تلاش میں کانوں میں اتر جاتے ہیں۔ حالیہ واقعہ میں بھی اسی طرح کے بچے شامل ہیں۔‘
شانگلہ میں نوجوانوں کے لیے روزگار اور سماجی شعور پر کام کرنے والے فضل معبود نے اس سانحے کے بعد الپوری میں احتجاج بھی ریکارڈ کیا۔ انہوں نے اردو نیوز کو بتایا کہ ’ہم صبح سے یہاں موجود ہیں۔ کوئٹہ سے لاشیں فلائنگ کوچ کی چھت پر باندھ کر شانگلہ لائی گئیں، پھر یہاں سے سوزوکی گاڑیوں کے ذریعے ان کے گھروں تک پہنچایا گیا۔‘ ان کے مطابق یہ منظر کسی ایک خاندان کا نہیں بلکہ پورے ضلع کا مشترکہ دکھ تھا۔
فضل معبود کہتے ہیں کہ ’ہم نے آج پھر احتجاج کیا ہے۔ ہمارا سوال صرف ایک ہے کہ آخر ضلع شانگلہ ہی کیوں؟ یہاں روزگار کے مواقع کیوں پیدا نہیں کیے جاتے؟ ہمارے ہزاروں نوجوان خطرناک کانوں میں جانے پر کیوں مجبور ہیں؟ ہر حادثے کے بعد تحقیقات اور کارروائی کی بات ہوتی ہے لیکن نہ مالکان کے خلاف مؤثر کارروائی ہوتی ہے اور نہ ہی حفاظتی نظام میں کوئی بنیادی تبدیلی آتی ہے۔‘
ان کے مطابق حالیہ واقعے میں ایسے مزدور بچے بھی شامل تھے جن کے میٹرک کا نتیجہ ابھی آنا تھا۔ وہ مزید بتاتے ہیں کہ ’ایک گاؤں میں اتنے لوگوں کا ایک واقعے میں چلے جانا بڑا المیہ ہے۔ آج اس گاؤں میں قبریں کھودنے کے لیے لوگ تک کم پڑ گئے تھے۔‘

شیئر: