Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

اسلام آباد سمیت مختلف شہروں میں مزید بارشوں کا امکان، ممکنہ سیلاب کا الرٹ جاری

رواں ماہ کے آغاز میں بھی جڑواں شہر بارشوں سے شدید متاثر ہوئے تھے (فوٹو: اے ایف پی)
قدرتی آفات سے نمٹنے کے قومی ادارے (این ڈی ایم اے) نے 17 ستمبر تک گلگت بلتستان، خیبر پختونخوا، پنجاب اور بلوچستان میں سیلاب کا خدشہ ظاہر کیا ہے۔
دوسری جانب محکمۂ موسمیات نے اسلام آباد سمیت خیبر پختونخوا، گلگت بلتستان، پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر جنوب مشرقی سندھ میں آئندہ 24 گھنٹوں میں آندھی اور گرج چمک کے ساتھ مزید موسلادھار بارشوں کا امکان ظاہر کیا ہے۔
وزیراعظم شہباز شریف نے حکام کو ہدایت کی ہے کہ بارشوں سے متاثرہ علاقوں میں عوام کو ہر ممکن امداد اور ریلیف فراہم کرنے کے لیے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لائے جائیں۔
قدرتی آفات سے نمٹنے کے قومی ادارے (این ڈی ایم اے) کے چیئرمین لیفٹیننٹ جنرل انعام حیدر ملک سے ملاقات میں وزیراعظم نے متعلقہ محکموں کو بارشوں کے دوران رابطہ سڑکوں اور پلوں پر ٹریفک کی روانی یقینی بنانے اور امدادی سامان کی ترسیل کے حوالے سے روابط بڑھانے کی بھی ہدایت کی۔
منگل کو این ڈی ایم اے کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ نیشنل ایمرجنسیز آپریشن سینٹر (این ای او سی) کی جانب سے ملک کے مختلف علاقوں میں ممکنہ سیلاب کا الرٹ جاری کر دیا گیا ہے۔
بیان کے مطابق بالائی علاقوں میں متوقع بارشوں کے باعث دریاؤں اور ندی نالوں کے بہاؤ میں اضافے کا خدشہ ہے۔ 
گلگت بلتستان میں گلگت، دیامر، غذر، اشکومن، گپس یاسین، نگر، ہنزہ، شمشال، سکردو اور شگر کے علاقوں میں اچانک سیلابی صورتحال پیدا ہو سکتی ہے۔

وزیراعظم نے چیئرمین این ڈی ایم اے کو بارشوں سے متاثرہ علاقوں میں عوام کو ہر ممکن مدد فراہم کرنے کی ہدایت کی (فوٹو: پی ایم ہاؤس)

خیبر پختونخوا میں اپر دیر، سوات، باجوڑ، ملاکنڈ، کرم، کوہستان، مہمند اور اورکزئی کے علاقوں میں بھی سیلاب کا خطرہ ہے۔ 
بلوچستان میں ژوب، شیرانی اور موسیٰ خیل کے علاقوں میں سیلابی صورتحال متوقع ہے۔ 
 اسلام آباد اور پنجاب کے مختلف علاقوں بشمول راولپنڈی، گوجرانوالہ، سرگودھا، جھنگ، ٹوبہ ٹیک سنگھ اور شیخوپورہ کے شہری علاقوں میں بھی سیلابی صورتحال کا امکان ہے۔ 
این ڈی ایم اے نے ممکنہ خطرات کے پیش نظر تمام متعلقہ اداروں کوپیشگی الرٹ جاری کر دیا ہے۔ 
متعلقہ اداروں کو ممکنہ سیلابی صورتحال سے نمٹنے کے لیے پیشگی تیاری کی ہدایت کی گئی ہے۔

شیئر: