تقریباً ڈیڑھ صدی پہلے مسلمان اونٹ بان آسٹریلیا کیسے پہنچے؟
تقریباً ڈیڑھ صدی پہلے مسلمان اونٹ بان آسٹریلیا کیسے پہنچے؟
پیر 29 جون 2026 11:34
سٹریلیا میں اونٹوں کی تعداد کے اندازوں کے مطابق 3 لاکھ سے لے کر 10 لاکھ تک ہے: فوٹو اے ایف پی
آسٹریلیا میں کینگرو کے بارے میں زیادہ خبریں آتی ہیں لیکن اس کے دور افتادہ صحرائی قصبے ماری میں اونٹوں کی سالانہ دوڑ کا انعقاد کیا گیا جس کو دیکھنے کے لیے بڑی تعداد میں شائقین بھی موجود تھے۔
جنوبی آسٹریلیا کے دارالحکومت ایڈیلیڈ سے تقریباً 600 کلومیٹر شمال میں واقع علاقے ماری کی آبادی صرف 65 افراد پر مشتمل ہے لیکن سنیچر کو ماری کیمل کپ کے 13 مقابلوں کو دیکھنے کے لیے سینکڑوں تماشائی وہاں پہنچے۔
آسٹریلیا میں 1840 کے بعد 10 ہزار سے زیادہ اونٹ درآمد کیے گئے تھے تاہم ریلوے نیٹ ورک تیار ہونے کے بعد اور1920 کی دہائی میں موٹر گاڑیوں کے عام ہونے کے بعد اونٹوں کو جنگلوں میں چھوڑ دیا گیا۔
آج حکام آسٹریلیا میں جنگلی اونٹوں کی تعداد کے مختلف اندازوں کے مطابق 3 لاکھ سے لے کر 10 لاکھ تک ہے۔
2013 سے پیشہ ورانہ طور پر اونٹوں کی تربیت کرنے والی کیریلے ووڈ ہاؤس نے بتایا کہ ماری کی دوڑ میں حصہ لینے والے ان کے زیادہ تر اونٹ جنگل سے پکڑے گئے تھے۔
انہوں نے کہا کہ اچھے ریسنگ اونٹ کے انتخاب کے لیے ضروری ہے کہ یہ ’تھوڑا غصیلا، پھرتیلا اور آنکھوں میں چمک‘ ہو۔
ان کے بقول، ’اونٹ آپ سے کچھ محتاط ضرور ہو، لیکن جارحانہ نہ ہو۔ ہمیں ایسا جانور چاہیے جو ریس کے گھوڑے کی طرح کچھ حساس، پرجوش اور جیتنے کا جذبہ رکھنے والا ہو۔‘
اس سال ماری کیمل کپ کی دوڑ میں ینگ گن نامی اونٹ نے کامیابی حاصل کی۔
آسٹریلیا اونٹ کیوں اور کیسے پہنچے؟
آسٹریلیا میں 1840 کے بعد 10 ہزار سے زیادہ اونٹ درآمد کیے گئے تھے (فوٹو: اے ایف پی)
1860 کی دہائی میں افغانستان اور وسطی و جنوبی ایشیا کے دیگر علاقوں سے تعلق رکھنے والے مسلمان اونٹ بان آسٹریلیا لائے گئے تھے تاکہ صحرائی علاقوں میں نقل و حمل کے لیے اونٹوں سے کام لیا جا سکے۔
ان میں سے بعض خاندانوں کی نسلیں آج بھی ماری میں آباد ہیں۔
تاہم اب حکام اونٹوں کی بڑھتی ہوئی آبادی سے پریشان بھی ہیں کیونکہ جنگلی اونٹ مویشیوں کی خوراک کھا جاتے ہیں، باڑوں کو نقصان پہنچاتے ہیں، پانی کے ذخائر آلودہ کرتے ہیں اور مقامی آبادی کے ثقافتی ورثے کی جگہوں کو بھی متاثر کرتے ہیں۔
جنوبی آسٹریلیا کے محکمہ پرائمری انڈسٹریز کا کہنا ہے کہ اگر ان کی تعداد پر قابو نہ رکھا جائے تو اونٹوں کی آبادی ہر آٹھ سال میں تقریباً دوگنی ہو سکتی ہے۔ اسی لیے انہیں قابو میں رکھنے کے لیے اونٹوں کو ایک جگہ رکھنا، ضرورت پڑنے پر شکار کرنا اور پانی کے مقامات سے پکڑنے جیسے اقدامات کیے جاتے ہیں۔
آسٹریلیا زندہ اونٹ بھی محدود تعداد میں برآمد کرتا ہے۔ رواں سال 2026 میں اب تک 68 اونٹ ملائیشیا اور انڈونیشیا بھیجے ہیں۔