بنگلہ دیش نے میڈیا کو انڈیا سے حسینہ واجد کی تقریر نشر کرنے کے خلاف خبردار کر دیا
بنگلہ دیش نے ملک کے میڈیا اداروں کو خبردار کیا ہے کہ وہ جلا وطن سابق وزیرِ اعظم شیخ حسینہ واجد کے بیانات کو نشر یا شائع نہ کریں۔
خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق حسینہ واجد بدھ کے روز انڈیا سے آن لائن خطاب کرنے والی ہیں، جس کا مقصد ان کے اقتدار کے خاتمے کا باعث بننے والی عوامی تحریک کی دوسری سالگرہ کے موقع پر خطاب کرنا ہے۔
حسینہ واجد 2024 میں طلبہ کی قیادت میں ہونے والے مظاہروں کے نتیجے میں اپنی حکومت کے خاتمے کے بعد سے انڈیا میں مقیم ہیں۔ انہیں 2025 میں مظاہرین کے خلاف کارروائی کے دوران انسانیت کے خلاف جرائم کے ارتکاب کے الزام میں سزائے موت سنائی گئی تھی، تاہم انہوں نے اس فیصلے کو قانونی طور پر بے بنیاد قرار دیتے ہوئے مسترد کر دیا ہے۔
78 سالہ حسینہ واجد ڈھاکہ سے فرار ہونے کے بعد پہلی مرتبہ کسی عوامی تقریب میں شرکت کرنے والی ہیں، اگرچہ یہ شرکت ویڈیو لنک کے ذریعے ہوگی۔ یہ تقریب نئی دہلی میں فارن کارسپانڈنٹس کلب آف ساؤتھ ایشیا کی میزبانی میں منعقد کی جا رہی ہے، جس میں ان کے بیٹے سجیپ واجد جوئے اور دیگر مقررین بھی شریک ہوں گے۔
حسینہ واجد کے معاونین نے ابھی تک ان کے خطاب کے مندرجات کی تفصیلات جاری نہیں کیں، تاہم سابق وزیرِ اعظم نے گزشتہ ماہ روئٹرز کو بتایا تھا کہ وہ اور ان کی جماعت کے ساتھی دسمبر کے قریب جلاوطنی ختم کرکے واپس آنے اور عدالت میں پیش ہونے کا ارادہ رکھتے ہیں۔ یہ اقدام بنگلہ دیش کی نئی حکومت کے لیے ایک امتحان ہوگا کہ وہ ملک کی سب سے نمایاں سیاسی مخالف رہنما سے کس طرح نمٹتی ہے۔
انڈیا کا کہنا ہے کہ نجی تقریب سے اس کا کوئی تعلق نہیں
بنگلہ دیش کے مشیربرائے اطلاعات زاہد الرحمان نے منگل کے روز بنگلہ دیشی میڈیا کو خبردار کیا کہ حسینہ واجد کے مجوزہ خطاب کا اعلان یا تشہیر کرنا دسمبر 2024 کے بنگلہ دیش کے انٹرنیشنل کرائمز ٹریبونل کے حکم کی خلاف ورزی ہوگی۔
اس حکم کے تحت میڈیا اداروں اور سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کو حسینہ واجد کی تقاریر، بیانات، انٹرویوز اور آڈیو یا ویڈیو پیغامات شائع یا نشر کرنے سے روک دیا گیا ہے۔
حسینہ واجد کے معاون ابو عبیدہ عارف نے کہا کہ یہ تقریب ضرور منعقد ہوگی۔ ان کا کہنا تھا کہ ڈھاکہ کی جانب سے اختلافی آوازوں کو دبانے کی کوششیں ملک کی سرحدوں سے باہر موجود آوازوں کو خاموش نہیں کر سکتیں۔
بنگلہ دیش نے نئی دہلی سے حسینہ واجد کے مجوزہ خطاب کے حوالے سے اپنا مؤقف واضح کرنے کا مطالبہ کیا تھا اور خبردار کیا تھا کہ ایک مفرور شخص کو سیاسی سرگرمیوں کی اجازت دینا دونوں ممالک کے بہتر ہوتے تعلقات کو نقصان پہنچا سکتا ہے۔
انڈین وزارتِ خارجہ کے ترجمان رندھیر جیسوال نے کہا کہ بدھ کی تقریب ایک نجی میڈیا ادارے کی جانب سے منعقد کی جا رہی ہے۔
انہوں نے معمول کی میڈیا بریفنگ میں کہا کہ ’حکومت کا اس تقریب سے کسی بھی طرح کوئی تعلق نہیں ہے، اور نہ ہی وہ اس فورم پر ظاہر کیے جانے والے کسی بھی مؤقف کی حمایت کرتی ہے۔‘
دونوں پڑوسی ممالک کے درمیان نئی کشیدگی ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب ڈھاکہ مسلسل انڈیا سے حسینہ واجد کی حوالگی کا مطالبہ کر رہا ہے۔
بنگلہ دیش کی وزیرِ مملکت برائے خارجہ امور شما عبید اسلام نے کہا کہ بنگلہ دیش نے حسینہ واجد اور عوامی لیگ کے دیگر رہنماؤں کی جانب سے انڈین سرزمین سے سیاسی بیانات دینے پر اپنے تحفظات بارہا انڈیا کے سامنے رکھے ہیں۔
حسینہ واجد کی برطرفی کے بعد سے دونوں ممالک کے تعلقات کشیدہ ہیں، تاہم حالیہ دنوں میں دونوں جانب سے تعلقات بہتر بنانے کی خواہش کا اظہار کیا گیا ہے۔ یہ پیش رفت وزیرِ اعظم طارق رحمان کی حکومت کے قیام کے بعد ہوئی، جس نے فروری کے انتخابات کے بعد اقتدار سنبھالا۔