Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

کچھ شرارتی نوجوانوں نے انتہائی نازیبا زبان استعمال کی، گالیاں دینے والوں کو معاف کرتا ہوں: نریندر مودی

انڈیا کے وزیرِاعظم نریندر مودی نے نوجوانوں کی قیادت میں ہونے والے حالیہ احتجاجی مظاہروں کے دوران انہیں گالیاں دینے والے مظاہرین کو ‘معاف‘ کرنے کا اعلان کیا ہے۔ 
فرانسیسی خبر رساں ایجنسی اے ایف پی کے مطابق یہ مظاہرے اُن کی حکومت کے لیے حالیہ برسوں کے دوران ایک غیر معمولی سیاسی دھچکہ ثابت ہوئے ہیں۔
انڈین وزیرِاعظم کا یہ بیان ایسے وقت سامنے آیا جب آن لائن کاکروچ جنتا پارٹی (سی جے پی)  نے نئی دہلی اور دیگر شہروں میں امتحانی پرچے لیک ہونے کے خلاف بڑے پیمانے پر احتجاج کیا، جو بعد میں مودی حکومت کے خلاف ایک وسیع عوامی تحریک کی شکل اختیار کر گیا۔
مقامی میڈیا کی رپورٹس کے مطابق احتجاج کے دوران وائرل ہونے والی ویڈیوز میں بعض مظاہرین کو وزیرِاعظم نریندر مودی کے خلاف نازیبا الفاظ استعمال کرتے ہوئے دیکھا گیا۔
 بعد ازاں ان مظاہرین کو وزیرِاعظم مودی کے حامیوں کی جانب سے نہ صرف آن لائن تنقید کا سامنا کرنا پڑا بلکہ اُن کے خلاف پولیس میں شکایات بھی درج کروائی گئیں۔
پولیس نے وزیرِاعظم کے خلاف اِن طلبہ کے ’ریمارکس‘ کو توہین آمیز اور گمراہ کن قرار دیتے ہوئے ’میٹا‘ اور ’ایکس‘ سمیت سوشل میڈیا کے دیگر پلیٹ فارمز سے بھی ایسے مواد کو ہٹانے کا مطالبہ کیا ہے۔
75 برس کے نریندر مودی نے جمعے کی شب ’انسٹاگرام‘ پر جاری ایک ویڈیو بیان میں کہا کہ ’ملک اور دنیا نے دیکھا کہ جنتر منتر پر کیا ہوا۔ کچھ شرارتی نوجوانوں نے انتہائی نازیبا زبان استعمال کی۔‘
’میرے خلاف ایسے الفاظ استعمال کیے گئے جو مہذب معاشرے میں قابلِ قبول نہیں، اور وہ صرف میرے خلاف ہی نہیں بلکہ میری آنجہانی والدہ کے خلاف بھی تھے۔ میں انہیں معاف کرتا ہوں۔‘
نریندر مودی نے اس ویڈیو بیان میں مزید کہا کہ ’جوانی میں ہونے والی غلطیوں کو قانونی کارروائی کے بجائے رہنمائی کے ذریعے درست کیا جانا چاہیے،‘ اُن کا اشارہ مظاہرین کے خلاف درج کیے گئے پولیس مقدمات کی جانب تھا۔
یاد رہے کہ گذشتہ ماہ انڈین نوجوانوں کی جانب سے شروع کیا گیا یہ احتجاج ابتدا میں امتحانی پرچوں کے لیک ہونے کے خلاف تھے، لیکن بعد میں بے روزگاری، طرزِ حکمرانی اور دیگر عوامی مسائل کے خلاف وسیع احتجاج میں تبدیل ہو گیا، جس کے نتیجے میں وزیرِ تعلیم دھرمیندر پردھان کو استعفیٰ دینا پڑا۔
احتجاج شروع ہونے کے بعد سے نریندر مودی نے نوجوانوں سے براہِ راست رابطے کے لیے انسٹاگرام کا زیادہ استعمال شروع کر دیا ہے، یہ وہی پلیٹ فارم ہے جہاں کاکروچ جنتا پارٹی  نے مقبولیت حاصل کی۔
نریندر مودی کی حکمراں جماعت بھارتیا جنتا پارٹی (بی جے پی) کے انسٹاگرام پر قریباً 96 لاکھ فالوورز ہیں، جبکہ مئی میں بننے والی کاکروچ جنتا پارٹی (سی جے پی) کے اسی پلیٹ فارم پر فالوورز کی تعداد 2 کروڑ 60 لاکھ سے تجاوز کر چکی ہے۔

شیئر: