Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

انگلش چینل میں تارکینِ وطن کو روکنے کی برطانوی تجویز، فرانس برہم

نائجل فراج نے کہا کہ کہ اگر ان کی جماعت اقتدار میں آئی تو برطانیہ کی رائل نیوی کو تعینات کیا جائے گا (فوٹو: اے پی)
فرانس نے سخت دائیں بازو کی برطانوی پارٹی ریفارم یو کے کی اس تجویز کی مذمت کی ہے جس میں کہا گیا تھا کہ اگر وہ اقتدار میں آئی تو چھوٹی کشتیوں کے ذریعے انگلش چینل عبور کرکے آنے والے تارکینِ وطن کو روکنے کے لیے ’دوسری جنگِ عظیم کے بعد چینل میں سب سے بڑی فوجی کارروائی‘ شروع کی جائے گی۔
فرانسیسی خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق نائجل فراج نے ایک پریس کانفرنس میں اس پالیسی کا اعلان کیا کہ اگر ان کی جماعت اقتدار میں آئی تو برطانیہ کی رائل نیوی کو تعینات کیا جائے گا تاکہ چھوٹی کشتیوں کے ذریعے آنے والے تارکینِ وطن کو واپس فرانس بھیجا جا سکے۔
تاہم فرانس کی وزارتِ داخلہ نے اے ایف پی کو بتایا کہ یہ منصوبہ ’فرانس کی خودمختاری کی خلاف ورزی ہوگا اور یہ سمندری قانون اور بین الاقوامی قانون کی بھی خلاف ورزی ہے۔
یہ تجویز ایسے وقت سامنے آئی ہے جب چند روز قبل ہی ہزاروں تارکینِ وطن ہمسایہ ملک مراکش سے شمالی افریقہ میں واقع سپین کے زیرِ انتظام علاقے سیوتا  میں داخل ہوئے تھے جس کے بعد یورپ میں غیر قانونی نقل مکانی کے مسئلے پر ایک بار پھر بحث چھڑ گئی ہے۔
فراج نے نئی پالیسی کا اعلان کرتے ہوئے صحافیوں کو بتایا کہ ’گزشتہ ہفتے کے آخر میں سیوتا میں جو کچھ ہوا، وہ اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ یہ صورتِ حال کتنی سنگین ہے۔‘

تارکین وطن برطانیہ میں داخل ہونے کے لیے انگلش چینل استعمال کرتے ہیں (فوٹو: اے ایف پی)

اس تجویز پر عمل درآمد کے لیے سخت دائیں بازو کی جماعت کو آئندہ عام انتخابات میں کامیابی حاصل کرنا ہوگی جو 2029 سے پہلے متوقع نہیں۔
یہ اعلان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب نائجل فراج اور ان کی پارٹی ریفارم جو تقریباً ڈیڑھ سال تک قومی رائے عامہ کے جائزوں میں سرفہرست رہی، تاہم حالیہ ہفتوں میں اپنی یہ برتری کھو بیٹھی ہے۔ یہ پارٹی کئی تنازعات اور اپنی مالی معاملات سے متعلق سرکاری تحقیقات کی زد میں ہیں۔
تاہم فراج نے اس تاثر کو مسترد کر دیا کہ یہ اعلان محض توجہ ہٹانے کی ایک چال ہے اور پیش گوئی کی کہ ریفارم پارٹی اقتدار میں آ کر ’دو ہفتوں کے اندر‘ چھوٹی کشتیوں کے ذریعے ہونے والی غیر قانونی آمد کو روک دے گی۔

تارکین وطن کے حوالے سے یورپی ممالک میں تشویش پائی جاتی ہے (فوٹو: اے ایف پی)

کنزرویٹیو حکومت نے 2020 میں ایسی ہی ایک پالیسی تجویز کی تھی تاہم اسے جلد ہی واپس لے لیا گیا تھا۔
وزیرِ اعظم اینڈی برنہم، جنہوں نے دو ہفتے قبل کیئر سٹارمر کی جگہ وزارتِ عظمیٰ کا عہدہ سنبھالا تھا، نے اتوار کے روز عزم ظاہر کیا کہ وہ ان کشتیوں کے ذریعے ہونے والی آمد کو روکنے کے لیے ’مسلسل اور سخت اقدامات‘جاری رکھیں گے۔

شیئر: