Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

سعودی عرب اور پاکستان سمیت 8 اسلامی ممالک کی غزہ پر اسرائیلی حملوں کی مذمت

اسے بین الاقوامی قوانین اور انسانی حقوق کی ’سنگین خلاف ورزی‘ قرار دیا ہے۔( فوٹو: اے ایف پی)
سعودی عرب اور پاکستان سمیت آٹھ عرب اور اسلامی ملکوں کے وزرائے خارجہ نے غزہ کی پٹی میں جاری اسرائیلی خلاف ورزیوں کی سخت مذمت کی ہے، جس میں ہیلتھ مراکز اور سول انفرا سٹرکچر پر حملے اور شہریوں کی جانوں کا مسلسل نقصان شامل ہے۔
سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، قطر، اردن، انڈونیشیا، پاکستان، ترکیہ اور مصر کے وزرائے خارجہ نے ایک مشترکہ بیان میں ان اقدمات کو بین الاقوامی انسانی قوانین اور انسانی حقوق کی ’سنگین خلاف ورزی‘ قرار دیا۔
بیان میں خبر دار کیا گیا کہ مسلسل خلاف ورزیوں سے غزہ تنازع کے خاتمے کے لیے بین الاقوامی قانون اور امریکی حمایت یافتہ منصوبے کے اگلے مرحلے کو آگے بڑھانے کے لیے علاقائی اور بین الاقوامی کوششوں کو نقصان پہنچنے کا خطرہ ہے۔ اسرائیلی خلاف ورزیوں سے سیاسی عمل پٹری سے اترنے، کشیدگی کا سلسلہ دوبارہ شروع ہونے اور غزہ میں انسانی بحران مزید سنگین ہوسکتا ہے۔
مشترکہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس اعلان کے بعد سامنے آیا ہے کہ  فلسطینی دھڑوں نے تنازع کو ختم کرنے کی کوششوں کے ایک حصے کے طور پر ایک روڈ میپ کو تسلیم کرلیا ہے جس میں ہتھیاروں کو محدود کرنے سے متعلق نکات شامل ہیں۔
وزرائے خارجہ نے زور دیا کہ شہریوں اور طبی مراکز کا تحفظ، صحت اور انسانی ہمدردی کے شعبوں میں کام کرنے والے کارکنوں کی سلامتی، غزہ میں طبی سامان اور امدادی اشیا کی فوری، محفوظ اور بلا رکاوٹ فراہمی قانونی ذمہ داریاں ہیں، جن پر کسی بھی صورت سمجھوتہ نہیں کیا جانا چاہیے۔
انہوں نے غزہ میں جاری اسرائیلی خلاف ورزیوں کے ساتھ مقبوضہ مغربی کنارے کی صورتحال کا ذکر کیا اور کہا ’آبادکاروں کے حملوں، غیر قانونی بستیوں کی توسیع اور مقبوضہ بیت المقدس کی موجودہ حیثیت تبدیل کرنے کے یکطرفہ اقدامات سے الگ کرکے نہیں دیکھا جاسکتا۔‘
انہوں نے کہا کہ ’یہ تمام اقدامات طاقت کے زور پر زمینی حقائق مسلط کرنے کی منظم پالیسی کی عکاسی کرتے ہیں۔ اس سے دو ریاستی حل اور فلسطینی عوام کے جائز حقوق  کے امکانات کو نقصان پہنچ رہا ہے، جو بین الاقوامی قانون اور اقوام متحدہ کی متعلقہ قراردادوں کی کھلی خلاف ورزی ہے۔‘
وزرائے خارجہ نے عالمی برادری، بالخصوص اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل پر زور دیا کہ ’وہ اپنی قانونی اور اخلاقی ذمہ داریاں پوری کرتے ہوئے عملی اور موثر اقدامات کریں۔ سنگین خلاف ورزیوں کے ذمہ داروں کو جوابدہ ٹھرایا جائے اور مستقل جنگ بندی کے لیے کی جانے والی کوششوں کی سپورٹ کی جائے۔‘
انہوں نے مقبوضہ فلسطینی علاقوں کو ضم کرنے، ان پر اسرائیلی خودمختاری مسلط کرنے یا  فلسطینی عوام کو جبری بے دخل کرنے کی کسی بھی کوشش کو پھر مسترد کیا۔
بیان میں اس بات کا اعادہ کیا گیا کہ ایک پائیدار امن صرف ایک سیاسی عمل کے ذریعے ہی حاصل کیا جا سکتا ہے، جس کے تحت دو ریاستی حل پر عمل درآمد اور 1967 کی سرحدوں کی بنیاد پر ایک آزاد اور خودمختار فلسطینی ریاست کے قیام عمل میں لایا جائے، جس کا دارالحکومت مشرقی بیت المقدس ہو۔

 

شیئر: