منگل کو وسطی غزہ سٹی میں ایک اسرائیلی فضائی حملے میں ایک مسجد اور اس مقام پر بے گھر خاندانوں کو پناہ دینے کے لیے لگائے گئے خیمے تباہ ہو گئے۔
ترکی کی خبر رساں ایجنسی انادولو کے مطابق لڑاکا طیاروں نے جب ینگ مینز کرسچین ایسوسی ایشن (وائی ایم سی اے) کی عمارت کے قریب واقع مسجد المتقین کو نشانہ بنایا تو آس پاس کے مکانات اور دیگر شہری املاک کو بھی شدید نقصان پہنچا یا وہ مکمل طور پر تباہ ہو گئیں۔
اس حملے میں سینکڑوں فلسطینی ایک بار پھر بے گھر ہو گئے، جس سے پہلے ہی سنگین انسانی بحران مزید بدتر ہو گیا۔ یہ خیمے ان خاندانوں کے لیے قائم کیے گئے تھے جو پہلے ہی اسرائیلی حملوں میں اپنے گھروں کی تباہی کے باعث بے گھر ہو چکے تھے۔
مزید پڑھیں
غزہ کے محکمۂ مذہبی امور کے مطابق، اکتوبر 2023 میں اسرائیل اور حماس کے درمیان جنگ کے آغاز کے بعد سے اب تک اسرائیلی حملوں میں 1,050 مساجد مکمل طور پر تباہ جبکہ مزید 191 کو نقصان پہنچا ہے۔ جنگ سے قبل اس علاقے میں مجموعی طور پر 1,275 مساجد قائم تھیں۔
منگل کا یہ حملہ ایسے وقت میں ہوا جب غزہ میں اسرائیلی افواج کے روزانہ حملے ایک جنگ بندی معاہدے کے باوجود جاری ہیں، جو گذشتہ سال 10 اکتوبر کو نافذ العمل ہوا تھا۔
وسطی غزہ سے تعلق رکھنے والی چار بچوں کی ماں اور آرٹسٹ مائسہ یوسف نے بتایا کہ مسجد پر بمباری کے وقت ان کے گھر کے قریب واقع ایک مکان کو بھی نشانہ بنایا گیا۔
انہوں نے کہا کہ ’ہم نے اب تک ایک دن کے لیے بھی جنگ بندی نہیں دیکھی۔ یہ تین سال سے جاری موت، گولہ باری اور تباہی ہے۔‘
انہوں نے مزید کہا کہ ’پچھلے دو ہفتوں سے میرے شہر کی صورتِ حال انتہائی خطرناک ہے اور بمباری تیزی سے ہمارے قریب آ رہی ہے۔ میرے بلاک کے ساتھ والے علاقے کے لوگ دو ہفتوں سے نقل مکانی کر رہے ہیں۔ جو لوگ جا سکتے تھے وہ جا چکے، اور جو نہیں جا سکے وہ اب جنگ کے ابتدائی دنوں کی طرح گولہ باری، تباہی اور فائرنگ میں گھِر چکے ہیں۔‘
مائسہ یوسف کے مطابق، گزشتہ ہفتے اسرائیلی فوج نے وسطی غزہ میں ایک خاندان کو ان کے گھر پر حملے سے پہلے وارننگ دی تھی۔

انہوں نے کہا کہ ’لوگ توجیہی (قومی ہائی سکول امتحان) کے نتائج کی تیاری کر رہے تھے کہ رات کے وقت انہیں وارننگ ملی۔ جب متاثرہ خاندان وہاں سے نکل گئے تو اسرائیل نے پورے بلاک پر بمباری کر دی اور تمام 15 گھر مکمل طور پر تباہ ہو گئے۔‘
انہوں نے سوال اٹھایا کہ ’نتائج کے اعلان سے قبل ہی توجیہی کے کتنے طلبہ مارے گئے، حالانکہ وہ نمایاں کامیابی حاصل کرنے والوں میں شامل تھے؟ کتنے طلبہ خوشی منانے کے لیے مٹھائی لینے جاتے ہوئے یا امتحان دینے جاتے ہوئے مارے گئے؟‘
انہوں نے مزید بتایا کہ ’وسطی غزہ کے علاقے دیر البلح میں بھی خطرہ تیزی سے بڑھ رہا ہے۔’
ان کے مطابق، دیر البلح کے مشرق میں دو ہفتے پہلے زرد لکیر (محاصرے کی سرحد) ہم تک پہنچ گئی تھی، حالانکہ ہم صلاح الدین سٹریٹ سے کافی دور رہائش پذیر ہیں، جو مرکزی شاہراہ ہے جہاں یہ لکیر کھینچی جاتی ہے۔ صرف دو دن کے اندر اسرائیلی بمباری نے پورے مشرقی علاقے کے علاوہ تمام بلاک تباہ کر دیے۔‘
مقامی محکمۂ صحت کے اعداد و شمار کے مطابق، اکتوبر 2025 میں جنگ بندی کے اعلان سے لے کر رواں سال اپریل کے اوائل تک غزہ میں کم از کم 1,007 فلسطینی ہلاک ہو چکے ہیں۔ اقوام متحدہ کے ہائی کمشنر برائے انسانی حقوق نے ان میں سے 629 ہلاکتوں کی تصدیق کی ہے، جن میں 269 خواتین اور بچے شامل ہیں۔













