غزہ سے اسلحے کے خاتمے کا معاہدہ، مملکت کا امریکی صدر کے اعلان کا خیر مقدم
جمعہ 31 جولائی 2026 21:53
منصفانہ اور دیرپا امن جامع سیاسی تصفیے کے ذریعے ہی ممکن ہے (فوٹو: ایکس اکاؤنٹ)
سعودی وزارتِ خارجہ سے غزہ میں اسلحہ کے خاتمے کے حوالے سے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اعلان کا خیرمقدم کرتے ہوئے اسے اہم و تاریخی پیش رفت قرار دیا ہے۔
ایس پی اے کے مطابق وزارتِ خارجہ کی جانب سے جمعہ کے روز جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ سعودی عرب، مصر، قطر، ترکی اور امریکہ، سلامتی کونسل اور ان تمام شراکت داروں کی کوششوں کو بھی قدرت کی نگاہ سے دیکھتا ہے، جن کی مسلسل سفارتی کوششوں کے نتیجے میں یہ پیش رفت ممکن ہوئی۔
بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ مملکت اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قرار داد نمبر 2803 کے تحت منظور کیے گئے جامع امن منصوبے پر مکمل عمل درآمد کے عزم کا اعادہ کرتی ہے، اس ضمن میں علاقائی اور بین الاقوامی شراکت داروں کے ساتھ رابطہ جاری رہے گا۔
بیان میں اس بات پر زور دیا گیا کہ معاہدے کے تمام مراحل پر طے شدہ ٹائم فریم کے مطابق، قابل اعتماد، حتمی اور ناقابل واپسی انداز میں عمل درآمد ضروری ہے۔
سعودی وزارتِ خارجہ نے غزہ سے اسرائیلی افواج کے مکمل انخلا، بین الاقوامی استحکام فورس کی تعیناتی، انسانی امداد کی بلا رکاوٹ فراہمی اور فلسطینی عوام کے لیے تعمیرِ نو کی سرگرمیوں پر بھی زور دیا گیا۔
مملکت کی جانب سے اس بات پر بھی زوردیا گیا کہ یہ معاہدہ ایک ایسے جامع سیاسی عمل کا نقطہ آغاز ہونا چاہئے جو امن منصوبے پر مکمل عمل درآمد کی راہ ہموار کرے اور فلسطینی عوام کے حقوق، خاص طور پر حق خودارادیت اور آزاد فلسطینی ریاست کے قیام کو یقینی بنائے، تاکہ باہمی اعتراف کی بنیاد پر ریاستِ فلسطین اور اسرائیل کے درمیان پُرامن بقائے باہمی ممکن ہو سکے۔
وزارت کی جانب سے جاری بیان کے اختتام پر کہا گیا ہے کہ منصفانہ اور دیرپا امن صرف ایک جامع سیاسی تصفیے کے ذریعے ہی ممکن ہے، جو تنازع کے خاتمے کا باعث بنے اور خطے کے تمام عوام کے لیے امن، استحکام اور مشترکہ خوشحالی کی بنیاد فراہم کرے۔
خیال رہے جمعرات کو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے حماس کوغیرمسلح کرنے کے ایک معاہدے کا اعلان کرتے ہوئے اسے غزہ میں نئی فلسطینی حکومت کے قیام کی جانب ایک اہم پیش رفت قرار دیا۔
اس حوالے سے امریکی صدر نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر لکھا ’بورڈ آف پیس نے حماس اور غزہ کے مسلح گروہوں کو مکمل غیرمسلح کرنے کا ایک تاریخی معاہدہ کیا ہے، یہ دیرپا امن اور سلامتی کی جانب ایک یادگار قدم ہے۔‘
