Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

’ڈھائی لاکھ روپے قرض لیا‘، وزیرستان کے احسان محسود نے تھائی لینڈ میں تائیکوانڈو مقابلے میں گولڈ میڈل کیسے جیتا؟

احسان محسود نے اس سے قبل دبئی میں ہونے والے ایک ٹورنامنٹ میں بھی کانسی کا تمغہ حاصل کیا (فوٹو: احسان محسود)
پاکستان کے صوبہ خیبرپختونخوا کے قبائلی علاقے وزیرستان سے تعلق رکھنے والے تائیکوانڈو کے کھلاڑی احسان محسود نے تھائی لینڈ میں منعقدہ ہیروز انٹرنیشنل تائیکوانڈو چیمپئن شپ جیت کر سونے کا تمغہ اپنے نام کر لیا ہے۔ اس مقابلے میں جانے کے لیے انہوں نے ڈھائی لاکھ روپے کا قرض لیا تھا۔ 
وزیرستان کے علاقے باروند سے تعلق رکھنے والے احسان محسود نے فائنل میں سری لنکا کے کھلاڑی کو شکست دی جبکہ ٹورنامنٹ کے دیگر میچز میں انڈیا اور قازقستان کے حریفوں کو مات دی۔
احسان محسود کا کہنا ہے کہ ’اُن کی یہ کامیابی ایک طرف اگر ان کی برسوں کی محنت کا صلہ ہے تو دوسری طرف اس علاقے کے لیے بھی ایک اعزاز ہے جو اکثر زیادہ تر منفی وجوہات کی بنا پر ہی خبروں میں رہتا ہے۔‘
احسان محسود نے اردو نیوز سے گفتگو میں اپنے کھیل کے آغاز سے متعلق بات کرتے ہوئے کہا کہ ’میں جب چھوٹا تھا تو بہت زیادہ شرارتیں کیا کرتا۔ مجھے کِکس مارنا بہت پسند تھا اور لڑنا جھگڑنا اور جیت جانا اچھا لگتا تھا۔ یوں میں نے سوچا کہ کراٹے کلب جوائن کر کے کیوں نہ یہ ہنر باقاعدہ طور پر سیکھ لوں۔‘
اُن کی بچپن کی اِن شرارتوں نے آگے چل کر ایک باقاعدہ کھیل کی صورت اختیار کر لی۔ احسان محسود کہتے ہیں کہ ’وہ سال 2014 سے مسلسل ایک مقامی کلب میں تائیکوانڈو کی تربیت لے رہے ہیں اور اس دوران پاکستان بھر کے انٹر کلب مقابلوں میں حصہ لے کر تقریباً ہر بار کوئی نہ کوئی تمغہ اپنے نام کرتے رہے ہیں۔‘
ان کے مطابق، میں نے بس اسی طرح یہ کھیل سیکھنا شروع کیا اور پاکستان میں انٹر کلب مقابلوں میں حصہ لیا اور ان میں کوئی نہ کوئی میڈل جیت ہی جاتا تھا۔
احسان محسود نے ملکی سطح کی کامیابیوں کے بعد بین الاقوامی میدان کا رُخ کیا۔ وہ دبئی میں منعقدہ ایک مقابلے میں کانسی کا تمغہ جیتنے کے بعد اب تھائی لینڈ میں سونے کا تمغہ جیت کر کل وطن واپس لوٹ رہے ہیں۔
احسان محسود انٹرمیڈیٹ کر چکے ہیں اور کھیل کے ساتھ ساتھ تعلیم کا سفر بھی جاری رکھے ہوئے ہیں۔ ان کا تعلق ایک متوسط گھرانے سے ہے اور مالی مشکلات ان کے راستے کی سب سے بڑی رکاوٹ رہیں۔
انہوں نے اس حوالے سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’میں ایک متوسط طبقے کے گھرانے سے تعلق رکھتا ہوں۔ میں جب تھائی لینڈ جا رہا تھا تو پہلے سوچا سارے پیسے قرض لے کر چلا جاؤں لیکن پھر ڈھائی لاکھ روپے کا قرض لیا اور  کچھ برانڈز نے سپانسر بھی کیا۔‘
احسان محسود نے مالی مشکلات کے باوجود ہمت نہیں ہاری اور بالآخر قرض اور کچھ برانڈز کی معاونت سے تھائی لینڈ کا سفر ممکن بنایا۔ وہ اس بارے میں بات کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ ’ہمارے وزیرستان کے حالات ایسے ہیں کہ کھیلوں کے میدان میں اس قدر کامیاب ہونا ممکن نہیں لیکن میں نے کوشش کی اور کامیاب رہا۔‘

وہ سال 2014 سے مسلسل ایک مقامی کلب سے تائیکوانڈو کی تربیت لے رہے ہیں (فوٹو: احسان محسود)

احسان محسود کو بہتر مواقع کی تلاش وزیرستان سے اسلام آباد لے آئی جہاں انہیں معیاری تربیت اور آگے بڑھنے کے مواقع میسر آئے۔ وہ اپنے علاقے کے بارے میں پائے جانے والے منفی تاثر کو بھی ختم کرنا چاہتے تھے۔
وہ اس حوالے سے بتاتے ہیں کہ ’میں اسلام آباد آیا تو میری نیت یہ تھی کہ میں ایک اچھا ایتھلیٹ بن سکوں۔ یہاں مواقع ملے۔ تربیت کی۔ سوچا تھا مجھے آگے موقع ملے گا۔ وزیرستان میں یہ سب ممکن نہیں تھا کیونکہ سب یہ سوچتے ہیں کہ ہماری طرف بس شرپسند ہی ہوتے ہیں۔ میں یہ تاثر ختم کرنا چاہتا ہوں تاکہ لوگوں کو معلوم ہو کہ ہم امن پسند ہیں۔‘
احسان محسود کے گولڈ میڈل حاصل کرنے کی خبر پھیلتے ہی اُن کے آبائی علاقے باروند اور وزیرستان بھر میں خوشی کی لہر دوڑ گئی۔ گھر والے اور مقامی لوگ اس کامیابی پر جشن مناتے دکھائی دے رہے ہیں۔
احساس محسود کو ہر طرف سے مبارکباد موصول ہو رہی ہے۔ احسان محسود کہتے ہیں کہ ’انہیں یہ اندازہ نہیں تھا کہ ان کی محنت کو اس قدر پذیرائی حاصل ہوگی۔ مجھے اس مقابلے کے بعد بہت زیادہ سپورٹ مل رہی ہے۔ میں اس قدر خوش ہوں کہ لفظوں میں ذکر ممکن ہی نہیں۔ ہر طرف سے مبارک باد مل رہی ہے۔ کبھی سوچا بھی نہیں تھا کہ قومی اسمبلی کے سپیکر بھی مبارک باد دیں گے اور میرے وزیرستان کا نام میڈیا میں اس قسم کی کامیابی سے جوڑا جائے گا۔‘
احسان محسود کے مطابق انہیں ہمیشہ یہ خدشہ رہتا تھا کہ وزیرستان سے تعلق رکھنے کے باعث شاید انہیں وہ پذیرائی اور میڈیا کوریج نہ ملے جس کے وہ حقدار ہیں لیکن اب یہ تمام شکوے دور ہو گئے ہیں۔

احسان محسود انٹرمیڈیٹ کر چکے ہیں اور کھیل کے ساتھ ساتھ تعلیم کا سفر بھی جاری رکھے ہوئے ہیں (فوٹو: احسان محسود)

انہوں نے اپنے مستقبل کے بارے میں بات کرتے ہوئے کہا کہ ’ان کے ارادے واضح ہیں اور وہ پرعزم ہیں۔‘
وہ اپنی حالیہ کامیابی کو اپنے سفر کا آغاز قرار دیتے ہیں اور کہتے ہیں کہ ’مستقبل میں بھی اچھے ارادے ہیں۔ مزید مقابلوں میں حصہ لوں گا اور کوشش ہوگی کہ اپنے ملک پاکستان کا نام روشن کرتا رہوں۔ یہ میرا پہلا گولڈ میڈل تھا، اور ابھی آگے بہت کچھ حاصل کرنا ہے۔‘

شیئر: