Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

امریکی فوج کا ایرانی ایٹمی پروگرام سے متعلق معلومات فراہم کرنے پر دو کروڑ ڈالر انعام کا اعلان

امریکی فوج نے جمعے کو کہا ہے کہ واشنگٹن ایران کے ایٹمی پروگرام کے بارے میں معلومات دینے پر 2 کروڑ ڈالر کا انعام ’اور ممکنہ طور پر منتقلی‘ یعنی ری لوکیشن کی پیشکش کر رہا ہے جبکہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اس بات کو دہرایا کہ تہران جنگ کے خاتمے کے لیے معاہدہ کرنا چاہتا ہے۔

امریکی سینٹرل کمانڈ نے ایکس (ٹویٹر) پر بتایا کہ ’محکمہ خارجہ کا پروگرام ’ریوارڈز فار جسٹس‘ ایران کے ایٹمی پروگرام بشمول اس کی تنصیبات، سامان اور متعلقہ اہلکاروں جیسے کہ سائنسی برادری کے افراد کے بارے میں معلومات پر 2 کروڑ ڈالر تک کا انعام اور ممکنہ منتقلی کی پیشکش کر رہا ہے۔‘

یہ پروگرام 1984 میں محکمہ خارجہ کے قومی سلامتی کے انعامی پروگرام کے تحت قائم کیا گیا تھا تاکہ امریکی جانوں اور مفادات کا تحفظ کرنے والی معلومات کے بدلے رقم کی پیشکش کی جا سکے۔

انعام سے متعلق اپنے بیان میں محکمہ خارجہ نے کہا کہ سیف گارڈز کی ذمہ داریوں پر آئی اے ای اے (بین الاقوامی ایٹمی توانائی ایجنسی) کے ساتھ ایران کے عدم تعاون کی وجہ سے ایجنسی کا ایران کی پیداوار اور سینٹری فیوجز جیسے اہم پرزہ جات کی فہرست سے متعلق ’معلومات کا تسلسل‘ منقطع ہو چکا ہے۔

تاہم اس بیان میں یہ واضح نہیں کیا گیا کہ کس مخصوص قسم کی معلومات فراہم کرنے پر پورے 2 کروڑ ڈالر کا انعام دیا جائے گا۔

ڈونلڈ ٹرمپ مسلسل یہ کہتے رہے ہیں کہ امریکی افواج نے ایران کے ایٹمی پروگرام کو مؤثر طریقے سے تباہ کر دیا ہے۔

امریکی صدر نے ویسٹ پام بیچ، فلوریڈا میں جمعے کی رات کہا ’اگر ہم ایران پر حملہ نہ کرتے تو آج اسرائیل کا وجود نہ ہوتا۔ اگر ان کے پاس ایٹمی ہتھیار ہوتے تو وہ اسے استعمال کر چکے ہوتے اور مشرق وسطیٰ کو تباہ کر دیتے۔‘

لیکن صدر نے یہ بھی کہا کہ ایران (جس کی معیشت اور فوج آٹھ ماہ کی جنگ میں شدید متاثر ہوئی ہے) اب اس تنازع کو ختم کرنے کے لیے بے تاب ہے۔

انہوں نے کہا ’ہم اس وقت ان کے ساتھ معاملہ کر رہے ہیں۔ وہ ہر صورت میں ایک معاہدہ کرنا چاہتے ہیں۔‘

دوسری جانب جنگ کے دوبارہ آغاز کو روکنے کی کوشش میں ثالثوں کی سفارتی کوششیں عروج پر ہیں۔

اور منگل کو ایران کے صدر مسعود پزشکیان نے کہا کہ ان کی حکومت اب بھی مذاکرات کے ذریعے اس بحران کو حل کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔

اس سے قبل اسی ہفتے ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا تھا کہ انہیں ابھی بھی ایک یا دو ہدف ’سنبھالنے‘ ہیں جن میں وسطی ایران میں واقع ’پِک ایکس ماؤنٹین‘بھی شامل ہے، جو کہ ایک مشتبہ ایٹمی سائٹ ہے جبکہ تہران ایسے کسی بھی دعوے کی تردید کرتا ہے۔

شیئر: