Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

ہیکنگ کے الزام کی زد سے نکل کر سابق امریکی ایجنٹ کیسے کروڑپتی سرمایہ کار بنا؟

سٹیفن وارڈ نے نو سال امریکی سیکرٹ سروس میں کام کر رکھا ہے (فوٹو: لنکنڈ ان)
امریکہ کی سیکرٹ سروس کے سابق اہلکار اور سائبر سکیورٹی کے ماہر سٹیفن وارڈ اب 25 کروڑ ڈالر کا دوسرا سرمایہ کاری فنڈ قائم کرنے کی تیاری کر رہے ہیں۔ اس سے قبل وہ اپنے شراکت دار گُر تالپاز کے ساتھ اسی مالیت کا پہلا فنڈ قائم کر چکے ہیں۔
’ٹیک کرنچ‘ کے مطابق نیویارک میں قائم سرمایہ کاری فرم ’برائٹ مائنڈ پارٹنرز‘ کے شریک بانی سٹیفن وارڈ کا کہنا ہے کہ سرمایہ کاری کے دوران کمپنیوں کی فروخت کے مناسب وقت کو سمجھنا انتہائی اہم ہے۔
ان کے بقول ’سرمایہ کاروں کو کمپنی کی قدر بڑھنے کے دوران ہی اسے فروخت کرنے کا فیصلہ کرنا چاہیے۔‘
سٹیفن وارڈ کا ماضی بھی غیر معمولی ہے۔ انہوں نے امریکی کوسٹ گارڈ میں چار سال سرچ اینڈ ریسکیو کے شعبے میں خدمات انجام دیں، اس کے بعد نو سال امریکی سیکرٹ سروس میں کام کیا۔ بعد ازاں وہ مالیاتی ادارے ٹی آئی اے اے اور ہوم ڈپو میں چیف انفارمیشن سیکیورٹی آفیسر (سی آئی ایس او) بھی رہے۔
سیکرٹ سروس میں ملازمت کے دوران نیویارک میں تعیناتی کے وقت وارڈ نے ایک ایسے ہیکر کو گرفتار کیا تھا جس نے اس دور میں کریڈٹ کارڈز کا سب سے بڑا ڈیٹا چوری کیا تھا۔ تاہم اسے سزا دلوانے کے بجائے انہوں نے اسے مخبر بنا لیا اور تقریباً تین سال تک اس سے معلومات حاصل کرتے رہے۔
بعد ازاں وہی ہیکر دوبارہ سائبر جرائم میں ملوث پایا گیا اور گرفتاری کے بعد اس نے خود کو بچانے کے لیے وارڈ پر بھی اس جرم میں شریک ہونے کا الزام لگا دیا۔ اس وقت تک وارڈ نجی شعبے میں جا چکے تھے اور انہیں اپنی بے گناہی ثابت کرنے کے لیے تقریباً 18 ماہ تک تحقیقات کا سامنا کرنا پڑا۔
وارڈ کے مطابق یہ دور ان کے لیے انتہائی مشکل تھا۔ دوسری جانب مذکورہ ہیکر کو بالآخر 20 سال قید کی سزا سنائی گئی۔ اس واقعے پر آڈیبل نے پوڈکاسٹ سیریز ’آپریشن فائر وال‘ بھی تیار کی جس کی آٹھ اقساط ہیں۔
نجی شعبے میں انہوں نے جے پی مورگن میں سائبر سیکیورٹی یونٹ قائم کرنے سے اپنے کارپوریٹ کیریئر کا آغاز کیا۔ بعد ازاں چھ سال ٹی آئی اے اے اور 2019 سے دو سال ہوم ڈپو میں خدمات انجام دیں۔ 2021 میں ملازمت چھوڑنے کے بعد وہ وینچر کیپیٹل فرم انسائٹ پارٹنرز سے وابستہ ہوئے، جہاں انہوں نے وز، ایب نارمل سیکیورٹی اور ایلیسٹی جیسی کمپنیوں پر کام کیا۔

ملازمت کے دوران نیویارک میں تعیناتی کے وقت وارڈ نے ایک ایسے ہیکر کو گرفتار کیا تھا جس نے اس دور میں کریڈٹ کارڈز کا سب سے بڑا ڈیٹا چوری کیا تھا (فوٹو: روئٹرز)

سنیہ 2024 میں انہوں نے گُر تالپاز کے ساتھ برائٹ مائنڈ پارٹنرز قائم کی۔ تاہم رواں سال اپریل میں دونوں کے درمیان کاروباری معاملات اور فرم کے مستقبل سے متعلق اختلافات کے باعث شراکت داری ختم ہوگئی۔ اس کے بعد تالپاز نے اپنے ایک اور سابق ساتھی کے ساتھ نئی سرمایہ کاری فرم قائم کر لی۔
برائٹ مائنڈ کا پہلا فنڈ اب تک 14 کمپنیوں میں سرمایہ کاری کر چکا ہے، جن میں سے ایک اہم کامیابی شناختی سیکیورٹی اسٹارٹ اپ ’ایس جی این ایل‘ کی فروخت ہے۔ سائبر سیکیورٹی کمپنی کراؤڈ سٹرائیک نے جنوری میں اس سٹارٹ اپ کو 74 کروڑ ڈالر میں خریدنے پر اتفاق کیا تھا۔ برائٹ مائنڈ نے اس کمپنی کی سیریز اے سرمایہ کاری کی قیادت کی تھی۔
وارڈ کے مطابق ان کا دوسرا فنڈ بھی تقریباً 25 کروڑ ڈالر کا ہوگا، جس میں 20 فیصد سرمایہ کاری مصنوعی ذہانت کے بنیادی ڈھانچے سے متعلق منصوبوں میں کی جائے گی جبکہ باقی توجہ سائبر سیکیورٹی پر رہے گی۔
سرمایہ کاری کے حوالے سے وارڈ کا کہنا ہے کہ وہ ایسے بانیوں کو ترجیح دیتے ہیں جو پہلے بھی کامیاب کاروبار قائم کر چکے ہوں اور ایک دوسرے کے ساتھ کام جاری رکھیں۔
ان کے مطابق ان کی اصل توجہ سرمایہ کاروں کے لیے منافع پیدا کرنا ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ ان کا ہدف فنڈ پر تین گنا خالص منافع حاصل کرنا ہے اور وہ اس وقت تک کامیابی کا جشن نہیں منائیں گے جب تک یہ ہدف حاصل نہیں ہو جاتا۔

شیئر: