Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

امریکی فوج کے ایران پر نئے محدود حملے، تہران کا ثالث کی تجاویز پر غور

ایرانی میڈیا نے پاسدران انقلاب کے حوالے سے دعویٰ کیا تھا کہ ایران کے فضائی دفاع نے قشم کے اوپر ایک امریکی ایم کیو ون پریڈیٹر ڈرون مار گرایا ہے (فائل فوٹو: اے ایف پی)
امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ امریکی فوج نے سنیچر کی صبح ایران کے فضائی دفاعی نظام کو نشانہ بناتے ہوئے نئے محدود حملے کیے ہیں۔
برطانوی خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق یہ کارروائی ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب ایران اور امریکہ کے درمیان جاری کشیدگی کم کرنے کے لیے قطر کی ثالثی میں سفارتی کوششیں تیز ہو گئی ہیں اور تہران مختلف تجاویز کا جائزہ لے رہا ہے۔
ایرانی سرکاری میڈیا کے مطابق آبنائے ہرمز میں واقع قشم جزیرے کے علاقے سوزا میں دو دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں۔ سرکاری خبر رساں ادارے ارنا نے مقامی عینی شاہدین کے حوالے سے بتایا کہ کسی طیارے کی آواز سنائی دینے کے بعد دو میزائل نما اشیا قشم میں آ کر گریں۔
اس سے چند گھنٹے قبل ایرانی میڈیا نے پاسدران انقلاب (آئی آر جی سی) کے حوالے سے دعویٰ کیا تھا کہ ایران کے فضائی دفاع نے قشم کے اوپر ایک امریکی ایم کیو ون پریڈیٹر ڈرون مار گرایا ہے۔
ٹرمپ نے فلوریڈا کے شہر ویسٹ پام بیچ پہنچنے کے بعد صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے اس کارروائی کو ’معمولی‘ قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ ایران نے ایک محدود فضائی دفاعی تنصیب تیار کی تھی جسے امریکی افواج نے چند منٹوں میں تباہ کر دیا۔
امریکی فوج نے پیر کو بھی دفاعی نوعیت کی کارروائیوں کی تصدیق کی تھی۔ ان حملوں کے دوران قشم اور ہنگام کے جزیروں، آبنائے ہرمز اور بندر عباس کے اطراف دھماکوں کی اطلاعات موصول ہوئی تھیں۔
یہ تازہ حملے امریکی وسط مدتی انتخابات کے بعد پہلی فوجی کارروائی ہیں۔ ان انتخابات میں ٹرمپ کی ریپبلکن پارٹی کو بڑا سیاسی دھچکا لگا اور وہ کانگریس کے دونوں ایوانوں میں اپنی اکثریت کھو بیٹھی۔ مبصرین کے مطابق ایران کے ساتھ تنازع اور اس کے نتیجے میں ایندھن کی بڑھتی قیمتیں ووٹرز کی ناراضی کی بڑی وجوہات میں شامل تھیں۔
انتخابات کے بعد ٹرمپ کے بیانات میں بھی تضاد دیکھا گیا۔ ایک طرف وہ ایران کو تباہ‘ کرنے کی دھمکی دیتے رہے، دوسری طرف جنگ کے خاتمے کے امکان کی بات بھی کرتے رہے۔

ایران کا مؤقف ہے کہ مذاکرات سے قبل اس کے خلاف بندرگاہوں کی ناکہ بندی ختم کی جائے، معاشی پابندیاں اٹھائی جائیں اور منجمد اثاثے بحال کیے جائیں (فوٹو: اے ایف پی)

ادھر مشرق وسطیٰ کے دو حکام نے بتایا کہ قطر نے حالیہ دنوں ایران کے سامنے نئی تجاویز پیش کی ہیں جن کا مقصد تہران اور واشنگٹن کے درمیان جوہری پروگرام کے تنازع کو حل کرنا ہے۔ تاہم ایک عہدیدار کے مطابق ایران اب بھی اس وقت تک باضابطہ جوہری مذاکرات شروع کرنے کے لیے تیار نہیں جب تک امریکہ اس کی چند بنیادی شرائط قبول نہیں کرتا۔
ایران کا مؤقف ہے کہ مذاکرات سے قبل اس کے خلاف بندرگاہوں کی ناکہ بندی ختم کی جائے، معاشی پابندیاں اٹھائی جائیں، منجمد اثاثے بحال کیے جائیں، جنگی نقصانات کا معاوضہ دیا جائے اور خطے میں تمام فوجی کارروائیاں، خصوصاً لبنان میں اسرائیلی آپریشنز، روک دیے جائیں۔
سفارتی ذرائع کے مطابق قطر نے ایک عبوری دو روزہ منصوبہ بھی پیش کیا ہے۔ اس کے تحت امریکہ بعض پابندیوں میں نرمی اور ایرانی اثاثوں کی جزوی بحالی پر آمادہ ہوگا جبکہ ایران بین الاقوامی جوہری توانائی ایجنسی کے معائنہ کاروں کو ان مقامات تک رسائی دے گا جنہیں امریکہ اور اسرائیل نے نشانہ بنایا تھا۔
منصوبے کے دوسرے مرحلے میں ایران آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولے گا۔ اس کے بعد دونوں ممالک ایران کے افزودہ یورینیم کے ذخائر اور جوہری پروگرام کے دیگر پہلوؤں پر تفصیلی مذاکرات شروع کریں گے۔

خطے کے کئی ممالک کو خدشہ ہے کہ اگر سفارتی پیش رفت نہ ہوئی تو امریکی انتخابات کے بعد تنازع ایک بار پھر بڑے فوجی تصادم میں تبدیل ہو سکتا ہے (فوٹو: اے ایف پی)

بین الاقوامی جوہری توانائی ایجنسی کے مطابق ایران کے پاس 60 فیصد تک افزودہ 440.9 کلوگرام یورینیم موجود ہے، جو ہتھیاروں کے درجے کی افزودگی سے صرف ایک تکنیکی مرحلہ کم ہے۔ ایران مسلسل یہ مؤقف اختیار کرتا رہا ہے کہ اس کا جوہری پروگرام مکمل طور پر پرامن مقاصد کے لیے ہے۔
حالیہ دنوں میں خلیجی اور عرب ممالک کے رہنماؤں کے درمیان متعدد سفارتی رابطے بھی ہوئے ہیں۔ قطر، مصر، عراق اور دیگر علاقائی ممالک کشیدگی کم کرنے اور ایران و امریکہ کو مذاکرات کی میز پر لانے کی کوششوں میں مصروف ہیں۔ خطے کے کئی ممالک کو خدشہ ہے کہ اگر سفارتی پیش رفت نہ ہوئی تو امریکی انتخابات کے بعد تنازع ایک بار پھر بڑے فوجی تصادم میں تبدیل ہو سکتا ہے۔

 

شیئر: