87 سالہ خاتون کرایہ دار کی بے دخلی، ہزاروں مظاہرین سپین کے چوک میں خیمہ زن
87 سالہ خاتون کرایہ دار کی بے دخلی، ہزاروں مظاہرین سپین کے چوک میں خیمہ زن
اتوار 27 ستمبر 2026 7:06
ہزاروں لوگوں نے سڑکوں پر خیمے لگا لیے ہیں (فوٹو: اے ایف پی)
سپین کے شہر میڈرڈ رہائش کے حوالے سے بحرانی کیفیت کے خلاف ہزاروں افراد سڑکوں پر ہیں، اور کرایہ داروں کے تحفظ، دھوکہ دہی کے خلاف قوانین بنائے جانے اور متبادل رہائش دیے بغیر بے دخلی پر پابندی کا مطالبہ کیا۔
امریکی خبر رساں ادارے اے پی کے مطابق اس احتجاج کا آغاز اس وقت ہوا جب بدھ کو ایک 87 سالہ خاتون کو میڈرڈ میں واقع ان کے فلیٹ سے نکال دیا گیا تھا جہاں وہ کئی دہائیوں سے رہائش پذیر تھیں۔
احتجاج میں شریک ایک 55 سالہ نرس ڈورا گارشیا کا کہنا تھا کہ ’ہم یہاں اس لیے موجود ہیں کیونکہ رہائش کا مسئلہ پورے معاشرے، ہر عمر اور طبقے کے لوگوں کو متاثر کر رہا ہے اور ہم اس صورت حال کے مزید متحمل نہیں ہو سکتے، رہائش ایک بنیادی حق ہے جو ہمیں میسر نہیں ہے۔‘
شہر کے پوش علاقے ریٹیرو میں سٹریچر پر گھر سے باہر لائی جانے والی 87 سالہ ماریکارمن اباسکل کو ایمبولینس میں منتقل کیا گیا تو اس وقت لوگوں نے ان کا استقبال کیا اور نعرے لگائے۔
سپین کے مقامی میڈیا کی رپورٹس کے مطابق اباسکل کے والد نے یہ مکان 1956 میں کرائے پر لیا تھا اور والدین کی وفات کے بعد وہ خود بھی کرائے دار کے طور پر وہاں رہائش پذیر رہیں۔
احتجاج ایک 87 سالہ خاتون کرائے دار کو نکالے جانے پر شروع ہوا تھا (فوٹو: اے ایف پی)
میڈرڈ ٹیننٹس یونین جس نے احتجاج کا اہتمام کیا تھا، کا کہنا ہے کہ 2018 میں اس عمارت کو کسی اور مالک نے خرید لیا، ان کو اس موقع پر یہ فلیٹ خریدنے کا موقع دیا گیا تھا لیکن وہ اس کی قیمت ادا نہیں کر سکی تھیں۔
نئے مالک نے کرایہ 500 یورو سے بڑھا کر دو ہزار چھ سو 50 یورو کر دیا تاہم بعدازں کم کر کے ایک ہزار چھ سو 50 کیا گیا تاہم یونین میں شامل افراد کا کہنا تھا کہ اباسکل اپنی پنشن کی رقم سے یہ رقم بھی ادا نہیں کر پا رہی تھیں۔
ان کو بے دخل کیے جانے کی قبل ازیں ہونے والی تین کوششوں کو عدالت نے روک دیا تھا، میڈیا کی جانب سے اس معاملے کی بھرپور کوریج کے بعد وہ خاتون سپین میں بڑھتے رہائشی بحران کی علامت بن گئیں۔
مظاہرین کرائے داروں کے تحفظ اور بے دخلی پر پابندی کا مطالبہ کر رہے ہیں (فوٹو: اے ایف پی)
مظاہرے میں شریک 43 سالہ سکول ٹیچر سیمون دے لا ریوا کا کہنا تھا کہ ’یہ صورت حال انتہائی افسوسناک ہے، ہم کافی عرصے سے اس کا سامنا کر رہے ہیں، سرمایہ کاری فنڈز کے ذریعے گھر خریدے جا رہے ہیں اور وہ لوگوں کی پہنچ سے دور ہو رہے ہیں جن کو گھروں سے نکال دیا جاتا ہے جن میں بزرگ خاتون بھی شامل ہیں۔‘
مارچ کے اختتام پر مظاہرین میڈرڈ کے پوئرتا ڈیل سول چوک میں بیٹھ گئے جس سے لگ رہا تھا کہ وہ وہاں لمبا قیام کرنا چاہتے ہیں کچھ لوگوں نے خیمے بھی لگا لیے۔
یورپ کی چوتھی بڑی معیشت ہونے کے باوجود سپین میں لوگ رہائش خریدنے یا کرائے لینے کی استطاعت کھو رہے ہیں، آمدنی میں اتنا اضافہ نہیں ہوا جتنا رہائشی اخراجات میں ہوا ہے۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ شہر میں سیاحت اور تارکین کی وجہ سے محدود رہائشی سہولتوں پر بہت دباؤ بڑھا ہے۔