حوثی حملے: پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کا ہنگامی دفاعی اجلاس طلب
سعودی عرب، ترکیہ اور پاکستان مشترکہ دفاعی معاہدے کے تحت ایک ہنگامی اعلیٰ سطحی اجلاس منعقد کریں گے، جس میں ایران کے حمایت یافتہ یمنی حوثیوں کے حملوں کے تناظر میں سعودی عرب کی مدد کے طریقوں پر غور کیا جائے گا۔ دوسری جانب ایران نے حوثیوں کی حالیہ پیش قدمی سے خود کو الگ رکھنے کی کوشش کی ہے۔
خبررساں ادارے روئٹرز کے مطابق حوثیوں نے یمن کی اقوام متحدہ سے تسلیم شدہ حکومت کے خلاف حملے کیے ہیں اور سعودی عرب پر بھی بارہا میزائل اور ڈرون حملے کیے، جس کے باعث دنیا کے سب سے بڑے توانائی برآمد کنندہ ملک سے تیل کی ترسیل متاثر ہوئی ہے۔
یہ صورتحال فروری میں امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر کیے گئے حملوں سے شروع ہونے والی وسیع تر مشرق وسطیٰ کی جنگ کا حصہ ہے۔
حوثیوں نے جمعرات کو دعویٰ کیا کہ انہوں نے سعودی عرب میں مختلف اہداف پر درجنوں میزائل اور ڈرون داغے جبکہ سعودی حکام کے مطابق حوثیوں کی جانب سے داغے گئے چھ بیلسٹک میزائلوں کو راستے میں ہی روک لیا گیا۔
سعودی عرب نے اس سے قبل مکہ ، جدہ اور بحیرہ احمر کی اہم سعودی بندرگاہ ینبع سمیت مختلف علاقوں کے لیے ہنگامی الرٹس جاری کیے تھے۔
سعودی سرکاری خبر رساں ادارے کی جانب سے جاری بیان کے مطابق مملکت کے اعلیٰ ترین مذہبی ادارے نے سعودی فوجیوں پر زور دیا ہے کہ وہ حوثیوں کے خلاف اس وقت تک لڑنے اور اپنی جانیں قربان کرنے کے لیے تیار رہیں جب تک اس گروہ کو اقتدار سے ہٹا نہیں دیا جاتا۔
تین ملکی دفاعی معاہدہ
اس جاری لڑائی کے دوران سعودی، پاکستانی اور ترک وزرائے خارجہ نے مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے کے فریم ورک کے تحت ملاقات کی۔ سعودی وزارت خارجہ کے مطابق اجلاس میں مکہ اور دیگر شہری مقامات کو نشانہ بنانے والے حملوں کی مذمت کی گئی اور سعودی عرب کے اپنے دفاع کے حق کی توثیق کی گئی۔
بیان کے مطابق وزرائے خارجہ نے تینوں ممالک کے مسلح افواج کے سربراہان کا ہنگامی اجلاس بلانے کے انتظامات پر بھی تبادلہ خیال کیا، جس میں مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے کے تحت سعودی عرب کی مدد کے طریقوں پر غور کیا جائے گا۔ معاہدے کے تحت کسی ایک فریق پر حملہ تمام فریقوں پر حملہ تصور کیا جائے گا۔
یہ اعلان ایرانی صدر مسعود پزشکیان کی جانب سے جمعرات کو ایک امریکی ٹی وی انٹرویو میں حوثیوں سے ایران کو الگ رکھنے کی کوشش کے کچھ ہی دیر بعد سامنے آیا۔
صدر پزشکیان نے نیویارک میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب کے ایک روز بعد فاکس نیوز کے پروگرام ’سپیشل رپورٹ ود بریٹ بائر‘ میں کہا کہ ’حوثی اپنے اقدامات کے خود ذمہ دار ہیں۔‘
تہران کی حوثیوں سے فاصلہ اختیار کرنے کی کوشش
صدر پزشکیان کا انٹرویو اور خطاب ایسے وقت میں ہوا جب امریکہ اور ایران کے درمیان لڑائی میں وقفہ آیا ہے اور نیویارک میں دونوں فریقوں کے درمیان سفارتی کوشش بھی مختصر طور پر ہوئی جبکہ قطر نے متحارب فریقوں کے درمیان ثالث کا کردار ادا کیا۔
ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے جمعرات کو صحافیوں کو بتایا کہ تہران نے ثالثوں کے ذریعے امریکہ کو ایک تجویز پہنچائی ہے، جس کے تحت ایران کی شرائط پوری ہونے کی صورت میں آبنائے ہرمز دوبارہ کھول دی جائے گی۔
انہوں نے کہا کہ ایرانی تجویز کے تحت لبنان سمیت تمام محاذوں پر سات روز کے اندر دشمنی ختم کی جائے گی۔ امریکا ایرانی بندرگاہوں کی ناکہ بندی ختم کرے گا، منجمد ایرانی اثاثے جاری کرے گا اور ایران پر عائد تیل کی پابندیاں ختم کرے گا۔
عباس عراقچی نے کہا کہ ’آبنائے ہرمز آخری روز دوبارہ کھول دی جائے گی‘ اور اس کے بعد امریکہ کے ساتھ دیگر معاملات، جن میں ایران کا جوہری مسئلہ بھی شامل ہے، پر مذاکرات شروع کیے جائیں گے۔
ایک سینئیر ایرانی عہدیدار نے بدھ کو روئٹرز کو بتایا تھا کہ تہران واشنگٹن کی جانب سے امن تجاویز کے جواب کا جائزہ لے رہا ہے۔
جنگ سے خطے میں توانائی کی ترسیل متاثر
فروری میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے اسرائیل کے ساتھ مل کر شروع کی گئی جنگ میں ہزاروں افراد ہلاک ہو چکے ہیں جبکہ عالمی سطح پر توانائی کی ترسیل متاثر ہونے سے تیل کی قیمتوں میں اضافہ ہوا ہے۔
امریکہ اور ایران کے درمیان براہ راست لڑائی میں بڑی حد تک کمی آنے کے باوجود خطے میں ایران کے اتحادی سرگرم ہیں۔ لبنان میں حزب اللہ اسرائیل کے ساتھ محاذ آرائی کر رہی ہے جبکہ یمن میں حوثیوں کی پیش قدمی جاری ہے۔
ایران اور اس کے اتحادیوں نے سعودی عرب اور دیگر خلیجی ممالک سے تیل کی برآمدات پر نمایاں دباؤ ڈالا ہے۔ حوثیوں نے بحیرہ احمر کے دہانے پر بحری جہازوں کی آمدورفت متاثر کی ہے جبکہ ایران نے آبنائے ہرمز میں ٹینکروں کی آمدورفت کو مؤثر طور پر محدود کر رکھا ہے۔ جنگ شروع ہونے سے قبل دنیا کی مجموعی تیل برآمدات کا 20 فیصد اسی راستے سے گزرتا تھا۔
عراق میں ایران کے حمایت یافتہ مسلح گروہوں کے ایک حملے کے نتیجے میں سعودی عرب کی ایسٹ ویسٹ پائپ لائن کی سروس بھی عارضی طور پر معطل ہوئی تھی۔
سکیورٹی ماہرین کے درمیان اس بات پر بحث جاری رہی ہے کہ شیعہ اسلام پسند گروہ حوثیوں پر ایران کا براہ راست کتنا اثر و رسوخ ہے۔ حوثی تحریک مقامی شورش سے ایک طاقتور مسلح گروہ بن چکی ہے جو شمالی یمن کے بڑے حصے پر قابض ہے۔
تاہم یمنی حکومت، ایرانی اور علاقائی ذرائع کا کہنا ہے کہ یمن کے بحیرہ احمر کے ساحل کے ساتھ حوثیوں کی پیش قدمی ایران کی اسلامی انقلابی گارڈ کور (آئی آر جی سی) کی براہ راست رہنمائی میں کی گئی۔
امریکہ کی پابندیوں کا دائرہ بڑھانے کی حکمت عملی
ایران کے خلاف امریکہ اور اسرائیل کی جنگ کئی ماہ سے میدان جنگ میں بڑی حد تک تعطل کا شکار رہنے کے بعد واشنگٹن نے اپنی حکمت عملی تبدیل کرنے کا اعلان کیا ہے۔ نئی پالیسی کے تحت ایران کے ساتھ کاروبار کرنے والی تیسرے ممالک کی کمپنیوں کو بھی مالی پابندیوں کا نشانہ بنایا جا رہا ہے، جسے ’’ثانوی پابندیاں‘‘ کہا جاتا ہے۔
جمعرات کو نئی امریکی پابندیوں کے ردعمل میں متحدہ عرب امارات اور عمان سمیت پڑوسی ممالک نے ایرانی ایئرلائنز کو پروازوں سے روک دیا۔ یہ ایران کے ساتھ کاروبار کرنے والی تیسرے ممالک کی کمپنیوں کو نشانہ بنانے کی امریکی پالیسی میں تبدیلی کا پہلا بڑا اثر قرار دیا جا رہا ہے۔
اگر پروازوں پر پابندی برقرار رہتی ہے تو اس سے ایران کی تنہائی مزید بڑھ سکتی ہے اور ملک میں جاری معاشی بحران سنگین ہو سکتا ہے۔ ایران پہلے ہی سمندری راستے سے اپنی بندرگاہوں کی امریکی ناکہ بندی کا سامنا کر رہا ہے۔
تہران میں ایک ریٹائرڈ استاد نے اپنا نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر روئٹرز کو ٹیکسٹ پیغام میں بتایا کہ ’ہم ایک کھلی جیل میں رہ رہے ہیں۔‘