دبئی سے تل ابیب جانے والی پرواز کے دوران معاون پائلٹ کی جانب سے کپتان پر حملے اور طیارہ کریش کرنے کی کوشش نے ایک بار پھر فلائٹ سکیورٹی سے متعلق کئی سنگین سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔
لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کسی ایئرلائن پائلٹ کو جان بوجھ کر طیارہ تباہ کرنے سے روکنے کے لیے کیا اقدامات کیے جا سکتے ہیں؟
مزید پڑھیں
-
فلائی دبئی طیارہ واقعہ: متحدہ عرب امارات نے تحقیقات شروع کر دیںNode ID: 908997
واقعہ کیا تھا؟
اسرائیلی حکام کے مطابق فلائی دبئی کی بوئنگ 737 پرواز جب شمال مغربی سعودی عرب کے اوپر سے گزر رہی تھی تو معاون پائلٹ نے اچانک کپتان پر حملہ کر دیا۔
اے ایف پی کے مطابق اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے ایک ویڈیو پیغام میں دعویٰ کیا کہ ’پرواز کے دوران ایک پائلٹ نے دوسرے پر چاقو سے حملہ کیا اور تمام مسافروں سمیت طیارے کو تباہ کرنے کی کوشش کی۔‘
اگرچہ حکام نے حملے میں استعمال ہونے والے ہتھیار کی باضابطہ تصدیق نہیں کی، تاہم کچھ اطلاعات سے ظاہر ہوتا ہے کہ کاک پٹ میں ہنگامی صورتحال کے لیے رکھا جانے والا چھوٹا کلہاڑا (کرش ایکس) استعمال کیا گیا ہو سکتا ہے۔
حملے کے باوجود انڈین نژاد کپتان سمت مچھار اور مسافروں نے حملہ آور کو قابو کر لیا اور طیارے کو سعودی عرب کے شہر تبوک میں محفوظ طریقے سے اتار لیا گیا۔ زخمی کپتان کو فوری طبی امداد فراہم کی گئی اور ان کی حالت اب خطرے سے باہر بتائی جاتی ہے۔
واقعے کے بعد متحدہ عرب امارات نے ممکنہ دہشت گردی کے پہلو سے تحقیقات شروع کر دی ہیں جبکہ نیتن یاہو نے اسے ’9/11 جیسی ایک اور بڑی تباہی کا ٹل جانا‘ قرار دیا ہے۔
کیا پائلٹ بھی سخت ایئرپورٹ سکیورٹی سے گزرتے ہیں؟
جی ہاں، مسافروں کو پرواز کے لیے خطرہ بننے والی اشیا سے روکنے کے لیے جو سکیورٹی چیکس بنائے گئے ہیں، وہ پائلٹوں اور فلائٹ کریو پر بھی اتنی ہی سختی سے لاگو ہوتے ہیں۔
ایئرپورٹ کی نوعیت کے مطابق پائلٹ یا تو عام مسافروں کے ساتھ یا کریو کی مخصوص سیکیورٹی کوریڈور سے گزرتے ہیں۔
اس جانچ کا مقصد کسی بھی غیر معمولی رویے، جیسے کہ پائلٹ کا شدہد نروس ہونا یا نشے کی حالت میں ہونا، فوراً پکڑنا ہوتا ہے۔
کاک پٹ میں جانے والے تمام دستی سامان کی ایکس رے سکیننگ کی جاتی ہے اور پائلٹس کو میٹل ڈیڈیکٹرز سے گزرنا پڑتا ہے۔

کاک پٹ کتنا محفوظ ہے؟
ستمبر 2001 کے حملوں کے بعد دنیا بھر میں کاک پٹ کے دروازوں کو اندر سے بلٹ پروف اور ناقابلِ تسخیر بنا دیا گیا تھا تاکہ کوئی باہر سے داخل نہ ہو سکے۔
تاہم اس واقعے میں خطرہ باہر کے بجائے کاک پٹ کے اندر ہی سے پیدا ہوا جو کہ ایوی ایشن کی تاریخ میں ایک انتہائی نایاب پیش رفت ہے۔
ابتدائی اطلاعات کے مطابق کپتان نے زخمی ہونے کے باوجود کاک پٹ کا کنٹرول برقرار رکھا اور کبین کریو کو بروقت الرٹ کیا۔
ایئرلائنز اپنے پائلٹوں کے ’خطرناک‘ ہونے کا پتہ کیسے لگاتی ہیں؟
یہ ایوی ایشن انڈسٹری کے لیے سب سے پیچیدہ اور نازک مرحلہ ہے کیونکہ کسی ایسے خطرے کی نشاندہی کرنا جو ظاہری رویے میں نظر نہ آئے، انتہائی مشکل ہوتا ہے۔













