Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

اے آئی کا بڑھتا استعمال، سعودی عرب میں کاروبار کے لیے نئے مواقع

معیشت تیزی سے ڈیجیٹل حل اور جدید ٹیکنالوجیز کو اپنا رہی ہے( فوٹو: ایس پی اے)
سعودی ڈیٹا اینڈ آرٹیفیشل انٹیلی جنس اتھارٹی (سدایا) کے مطابق مصنوعی ذہانت کاروباری ترقی کے لیے ایک اہم ذریعہ بن چکی ہے جو چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباری اداروں اور کاروباری افراد کے لیے ترقی کے نئے مواقع پیدا کر رہی ہے۔ یہ ٹیکنالوجی ان کی مسابقتی صلاحیت کو مضبوط بنا رہی ہے  کیونکہ معیشت تیزی سے ڈیجیٹل حل اور جدید ٹیکنالوجیز کو اپنا رہی ہے۔
سعودی پریس ایجنسی کے مطابق یہ باتیں اے آئی ویک کے دوران سامنے آئیں جس کا انعقاد سعودی جنرل اتھارٹی برائے چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباری اداروں (منشآت) نے سعودی ڈیٹا اینڈ آرٹیفیشل انٹیلی جنس اتھارٹی (سدایا) کے اشتراک سے 9 سے 13 اگست تک کیا۔
اس تقریب کا مقصد ٹیکنالوجی کے معاون ذرائع اور کاروباری شعبے کے درمیان مضبوط روابط قائم کرنا اور مصنوعی ذہانت کی ٹیکنالوجیز کو محض تھیوری تک محدود رکھنے کے بجائے دفاتر اور عملی کاروباری ماحول میں قابلِ عمل طریقوں سے استعمال میں لانا ہے۔
سدایا نے کہا کہ کاروباری اداروں میں مصنوعی ذہانت سے فائدہ اٹھانے کے مواقع میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے کیونکہ اس کی ایپلی کیشنز، مصنوعات، خدمات اور کاروباری سرگرمیوں کے مختلف شعبوں تک پھیل رہی ہیں۔
اس سے کارکردگی بہتر بنانے، وسائل کو زیادہ مؤثر انداز میں استعمال کرنے اور مارکیٹ کی ضروریات کے مطابق مخصوص حل تیار کرنے کے نئے مواقع پیدا ہو رہے ہیں۔ ساتھ ہی، یہ کاروباری افراد کو ٹیکنالوجی سے متعلق اپنے خیالات کو قابلِ عمل کاروباری مواقع اور ایسے کاروباری ماڈلز میں تبدیل کرنے کے قابل بنا رہی ہے جن میں ترقی اور توسیع کی صلاحیت موجود ہو۔

ایک پینل مباحثے کے دوران سدایا کے سرمایہ کاری کے  ڈائریکٹر ہشام الشیدی نے سرمایہ کاری کے ماحول کو معاونت فراہم کرنے میں مصنوعی ذہانت کے کردار پر گفتگو کی۔ انہوں نے ان مواقع پر بھی روشنی ڈالی جو مصنوعی ذہانت لچکدار اور قابلِ توسیع کاروباری ماڈلز کی ترقی کے لیے فراہم کرتی ہے۔
انہوں نے نشاندہی کی کہ ان ٹیکنالوجیز کا استعمال اب صرف ٹیکنالوجی کے شعبے تک محدود نہیں رہا، بلکہ یہ مختلف معاشی سرگرمیوں تک پھیل چکا ہے، جس کے ذریعے کاروباری کارکردگی میں بہتری اور وسائل کے مؤثر استعمال کو یقینی بنانے میں مدد مل رہی ہے۔

یہ شرکت سدایا کی جانب سے کاروباری ماحول اور نظام کو فروغ دینے کی جاری کوششوں کا حصہ ہے، جس کا مقصد عملی حل فراہم کرنا اور چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباری اداروں  کی تیاری اور صلاحیت کو مضبوط بنانا ہے۔
یہ اقدام 2026 کو مصنوعی ذہانت کا سال قرار دیے جانے کے مقاصد کی بھی حمایت کرتا ہے، جس کا مقصد جدید ٹیکنالوجیز کے استعمال کو وسعت دینا اور مملکت میں ان کے معاشی اور ترقیاتی اثرات کو زیادہ سے زیادہ بڑھانا ہے۔

 

شیئر: