شمالی کوریا کا اے آئی ٹیکنالوجی سے لیس ہائپر سونک میزائل کا کامیاب تجربہ
شمالی کوریا کا اے آئی ٹیکنالوجی سے لیس ہائپر سونک میزائل کا کامیاب تجربہ
اتوار 4 اکتوبر 2026 8:38
میزائل کے تجرباتی لانچ کی تقریب میں کم جونگ اُن کے ہمراہ ان کی بیٹی اور ممکنہ جانشین جو اے بھی تھیں (فوٹو: روئٹرز)
سرکاری میڈیا نے اتوار کو یہ کہا کہ شمالی کوریا کے رہنما کم جونگ اُن نے اپنی بیٹی کے ہمراہ ایک میزائل کے تجرباتی لانچ کی نگرانی کی جس میں مبینہ طور پر میزائل کی پرواز کا راستہ درست کرنے کے لیے مصنوعی ذہانت کا استعمال کیا گیا۔
خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق کم جونگ اُن کی بااثر بہن نے کہا کہ مصنوعی ذہانت کی مدد سے میزائل ’کم بلندی پر اپنی پرواز کا راستہ تبدیل کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے‘، جس کا مطلب ہے کہ اس کے حملے سے ’بچنے کا کوئی راستہ نہیں۔‘
میزائل ہفتے کی صبح مشرقی ساحلی شہر وونسان کے قریب ایک مقام سے داغا گیا اور اس نے 700 کلومیٹر (435 میل) سے زیادہ کا فاصلہ طے کیا۔ فوج نے اس حوالے سے مزید تفصیلات نہیں بتائیں۔
سرکاری کورین سینٹرل نیوز ایجنسی کی انگریزی زبان میں جاری کردہ خبر کے مطابق، کم جونگ اُن نے میزائل کے تجربے کی نگرانی کے بعد کہا کہ ’آج کی اِس مشق کے ذریعے سٹریٹجک میزائلوں کا استعمال کرنے والے فوجیوں نے اپنی پیشہ ورانہ صلاحیت اور جوابی حملے کی تیاری کا بھرپور مظاہرہ کیا ہے۔‘
انہوں نے مزید کہا کہ ’ہمیں اپنی ذمہ دارانہ کوششیں بغیر کسی وقفے کے جاری رکھنی چاہییں تاکہ دشمن کو بار بار اور مسلسل ہماری جارحانہ سٹریٹجک صلاحیتوں کے قابلِ اعتماد اور تباہ کن ہونے کا احساس ہوتا رہے۔‘
کورین سینٹرل نیوز ایجنسی کی جاری کردہ تصاویر میں ایک میزائل کو نارنجی شعلوں کے درمیان آسمان کی جانب بلند ہوتے دیکھا جا سکتا ہے۔
ایک اور تصویر میں کم جونگ اُن مسکراتے ہوئے نظر آئے۔ اُن کے دونوں جانب اُن کی بیٹی جو اے اور اہلیہ ری سول جو موجود تھیں۔ ری سول جو کو خوشی کے اظہار کے طور پر تالیاں بجاتے ہوئے دیکھا گیا۔
جو اے کو پہلی مرتبہ 2022 میں عوام کے سامنے متعارف کرایا گیا تھا۔ جنوبی کوریا کی خفیہ ایجنسی کے مطابق وہ اپنے والد کی جانشینی کے لیے سب سے زیادہ ممکنہ امیدوار ہیں، کیونکہ حالیہ عرصے میں اہم سرکاری اور فوجی تقریبات میں ان کا کردار نمایاں ہوتا جا رہا ہے۔
کورین سینٹرل نیوز ایجنسی کے مطابق یہ تجربہ ’ہائپرسونک سٹریٹجک ہتھیاروں کے نظام‘ کو چلانے والے فوجیوں کی تربیت میں مدد کے لیے کیا گیا۔
میزائل سنیچر کی صبح مشرقی ساحلی شہر وونسان کے قریب سے داغا گیا اور اس نے 700 کلومیٹر سے زیادہ کا فاصلہ طے کیا (فوٹو: روئٹرز)
یہ تجربہ ایک ایسے وقت پر کیا گیا ہے جب جنوبی کوریا کی فوج نے پیانگ یانگ سے ایک دھماکے پر معافی مانگنے کا مطالبہ کیا تھا، جس میں تین جنوبی کوریائی فوجی زخمی ہوئے تھے۔ جنوبی کوریا نے اس دھماکے کا الزام شمالی کوریا پر عائد کیا تھا اور کہا تھا کہ یہ دھماکا غیر فوجی علاقے (ڈی ایم زیڈ) میں ہوا۔
پیانگ یانگ نے گزشتہ ماہ ہونے والے دھماکے کی ذمہ داری قبول کرنے سے انکار کیا ہے۔ جمعے کے روز اس نے جنوبی کوریا کو ’قابلِ نفرت‘ قرار دیا، جس سے سیول کی جانب سے مذاکرات کی بحالی کے لیے کی جانے والی کوششوں کو دھچکا لگا ہے۔