پیٹرولیم لیوی سے حکومت کو کتنی آمدن ہوتی ہے، کیا اس کا خاتمہ ممکن ہے؟
پیٹرولیم لیوی سے حکومت کو کتنی آمدن ہوتی ہے، کیا اس کا خاتمہ ممکن ہے؟
اتوار 4 اکتوبر 2026 7:19
احتشام یوسف۔ اسلام آباد
پاکستان کی وفاقی حکومت کو پاکستان تحریک انصاف کے سیاسی احتجاج اور جماعت اسلامی جیسے سیاسی دباؤ کے ساتھ ساتھ پیٹرولیم مصنوعات پر عائد ’لیوی‘ کے خاتمے کے مطالبات کا بھی سامنا ہے۔
ملک میں مہنگائی کی لہر کے دوران پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں پر عائد ٹیکسز کو جہاں عوام اور اپوزیشن جماعتوں کی جانب سے تنقید کا نشانہ بنایا جا رہا ہے وہیں حکومت اور معاشی ماہرین کا مؤقف ہے کہ اس لیوی کا مکمل خاتمہ فی الحال ممکن نہیں ہے۔
پیٹرولیم لیوی کیا ہے اور یہ کیسے وصول کی جاتی ہے؟
آسان الفاظ میں پیٹرولیم لیوی ایک ایسا وفاقی ٹیکس یا محصول ہے جو حکومت پیٹرول اور ڈیزل کی فی لیٹر قیمت پر عائد کرتی ہے۔ عام سیلز ٹیکس (جی ایس ٹی) اور دیگر ٹیکسوں کے برعکس (جن کا ایک بڑا حصہ آئین کے تحت صوبوں میں تقسیم ہو جاتا ہے) پیٹرولیم لیوی سے حاصل ہونے والی تمام تر رقم براہِ راست وفاقی حکومت کے خزانے میں جاتی ہے۔
اوگرا کی ورکنگ کے مطابق اس وقت وفاقی حکومت عوام سے پیٹرول اور ڈیزل پر فی لیٹر 80 روپے لیوی وصول کر رہی ہے۔ وزارتِ پیٹرولیم کی جانب سے پارلیمنٹ میں پیش کی گئی دستاویزات کے مطابق وفاقی حکومت نے رواں مالی سال کے دوران پیٹرولیم لیوی کی مد میں 1.67 کھرب روپے جمع کرنے کا ہدف مقرر کر رکھا ہے۔
’قرضوں کی ادائیگی اور دفاعی اخراجات‘
حکومت کا موقف ہے کہ اس خطیر رقم کے بغیر ملک کے بنیادی معاشی اور انتظامی امور چلانا ناممکن ہو جائے گا۔
وزیراعظم کے مشیر برائے سیاسی امور رانا ثنا اللہ متعدد انٹرویوز میں یہ واضح کر چکے ہیں کہ پیٹرولیم لیوی کی مد میں حاصل ہونے والا پیسہ وفاق کے زیرِ انتظام اداروں کی دیکھ بھال، بین الاقوامی قرضوں اور ان کے سود کی ادائیگی اور دفاعی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے استعمال ہوتا ہے۔
توانائی کے امور کے ماہر ادریس عباسی نے اردو نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ موجودہ معاشی دلدل میں پیٹرولیم لیوی کو ختم کرنا ممکن نہیں نظر آتا۔
ان کا کہنا تھا کہ ’لیوی کا مقصد صرف دفاعی امور ہی نہیں بلکہ گردشی قرضے اور بجٹ خسارے کو پورا کرنا ہے۔‘
حکومت کے مطابق پیٹرولیم کی قیمتوں میں حالیہ اضافہ مقامی ٹیکسوں کی وجہ سے نہیں بلکہ عالمی منڈی میں جاری بحران کا نتیجہ ہے (فوٹو: اے ایف پی)
’اگر حکومت کسی بھی سیاسی دباؤ یا احتجاج کے تحت اس لیوی کو ختم یا کم کرتی ہے تو اسے اس خسارے کو پورا کرنے کے لیے عوام پر کسی اور شکل میں مزید سخت ٹیکسز عائد کرنا پڑیں گے۔‘
ملک میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں پر عوامی تشویش ایک ایسے وقت میں بڑھ رہی ہے جب مشرقِ وسطیٰ میں جنگ اور عالمی کشیدگی کے باعث بین الاقوامی مارکیٹ میں خام تیل اور ایندھن کی قیمتیں مسلسل اوپر جا رہی ہیں۔
حکومت کے مطابق پیٹرولیم کی قیمتوں میں حالیہ اضافہ مقامی ٹیکسوں کی وجہ سے نہیں بلکہ عالمی منڈی میں جاری بحران کا نتیجہ ہے جس کے باعث فی الحال پیٹرولیم لیوی میں کمی کر کے عوام کو ریلیف دینا وفاق کے لیے مالی طور پر انتہائی دشوار ہو چکا ہے۔