حکومت اور پی ٹی آئی مذاکرات بے نتیجہ، اسلام آباد لانگ مارچ کے شیڈول کا اعلان
پاکستان کی حکومت اور اپوزیشن کے درمیان سیاسی تناؤ کم کرنے کے لیے پارلیمنٹ ہاؤس میں مذاکرات کا دوسرا دور کسی حتمی نتیجے کے بغیر ختم ہو گیا ہے جس کے بعد پی ٹی آئی نے خیبر پختونخوا سے اسلام آباد کے لیے اپنے لانگ مارچ کے مرحلہ وار شیڈول کا باقاعدہ اعلان کر دیا ہے۔
اس سے قبل سنیچر کی رات دیر گئے حکومتی مذاکراتی ٹیم کے رکن رانا ثنا اللہ نے طویل دورانیے تک جاری رہنے والے مذاکرات کے بعد کہا ’لانگ مارچ کو کسی صورت اسلام آباد کی حدود میں داخل ہونے نہیں دیا جائے گا۔ کسی قسم کے انتشار کی کوشش کو قانون کے مطابق نمٹا جائے گا۔‘
پی ٹی آئی کے رہنما اور وزیرِاعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی نے اتوار کو ایکس اکاؤنٹ پر اپنے مطالبات اور لانگ مارچ کے روٹ کی تفاصیل جاری کرتے ہوئے واضح کیا کہ 4 اکتوبر بروز اتوار دوپہر ایک بجے گنڈی چوک، لکی مروت سے لانگ مارچ کا پہلا مرحلہ شروع ہو رہا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ جنوبی اضلاع سے شروع ہونے والا یہ قافلہ مختلف اضلاع سے گزرتا ہوا 8 اکتوبر کو خیر آباد پہنچے گا جہاں پورے صوبے کے لوگ جمع ہوں گے اور آئندہ کا لائحہ عمل دیا جائے گا۔
سہیل آفریدی نے حکومت کے ساتھ مذاکراتی عمل کے لیے تیار کردہ سات نکاتی ڈرافٹ کو بھی ایکس پر پوسٹ کرتے ہوئے کہا کہ ’ہمارا ایک بھی مطالبہ غیر آئینی یا غیر قانونی نہیں ہے مگر ہمارے ساتھ سوتیلی ماں جیسا سلوک کیا جا رہا ہے۔‘
اس ڈرافٹ میں وزیرِ اعظم اور اپوزیشن لیڈرز کی ملاقات، مشترکہ سیاسی مذاکراتی کمیٹی کی تشکیل، بانی پی ٹی آئی عمران خان اور بشریٰ بی بی کو جیل قوانین کے مطابق طبی و انسانی حقوق اور ملاقاتوں کی فراہمی، سیاسی قیدیوں کی قانونی درخواستوں پر فوری پیش رفت اور خیبر پختونخوا میں دہشت گردی کے خاتمے کے لیے وفاق و صوبے کے درمیان 72 گھنٹوں کے اندر جامع حکمتِ عملی کی تدوین شامل ہے۔ ڈرافٹ کے مطابق ان تمام مطالبات پر وفاق کی جانب سے تحریری یقین دہانی کے بعد ہی لانگ مارچ منسوخ کیا جا سکتا ہے۔
لانگ مارچ کو کسی صورت اسلام آباد کی حدود میں داخل ہونے نہیں دیا جائے گا: رانا ثنا اللہ
دوسری جانب پارلیمنٹ ہاؤس میں طویل نشست کے بعد سنیچر اور اتوار کی درمیانی شب ذرائع ابلاغ سے گفتگو کرتے ہوئے فریقین نے مذاکرات میں ڈیڈ لاک کی تصدیق کی۔
حکومتی مذاکراتی ٹیم کے رکن رانا ثنا اللہ نے واضح لفظوں میں کہا ’لانگ مارچ کو کسی صورت اسلام آباد کی حدود میں داخل ہونے نہیں دیا جائے گا اور کسی بھی قسم کے انتشار سے قانون کے مطابق نمٹا جائے گا۔‘
انہوں نے کہا کہ بنیادی تنازع خیبر پختونخوا میں امن و امان اور دہشت گردی کے معاملے پر ہے کیونکہ صوبائی حکومت دہشت گردی کے خلاف وفاقی پالیسی کے مطابق تعاون پر تیار نہیں جو حکومت کو کسی طور قبول نہیں جبکہ بانی پی ٹی آئی کی ملاقاتوں اور علاج کے معاملات حل طلب نہیں ہیں۔
تحریکِ انصاف کے چیئرمین بیرسٹر گوہر نے بتایا کہ طویل بات چیت کے باوجود چند اہم نکات پر ڈیڈ لاک برقرار ہے اور فی الحال مذاکرات کے نئے دور پر اتفاق نہیں ہو سکا تاہم واٹس ایپ یا فون کے ذریعے تجاویز کا تبادلہ ممکن ہے۔
انہوں نے واضح کیا کہ لانگ مارچ مؤخر یا منسوخ نہیں ہوا ہے اور پی ٹی آئی اپنے مطالبات کی منظوری کے لیے پُرامن انداز میں اسلام آباد پہنچنا چاہتی ہے۔
اس سے قبل، سہیل آفریدی کے سخت سیاسی موقف پر ردِعمل دیتے ہوئے حکومتی وفد کے رکن ڈاکٹر طارق فضل چوہدری نے کہا تھا کہ ایک طرف مذاکرات جاری ہیں اور دوسری طرف ایسے بیانات اس عمل کو نقصان پہنچاتے ہیں۔ تاہم، مذاکرات میں تعطل کے بعد اب پی ٹی آئی نے لانگ مارچ کے راستے پر گامزن ہونے کا حتمی فیصلہ کر لیا ہے جس سے وفاق اور صوبہ خیبر پختونخوا کے درمیان سیاسی محاذ آرائی شدید تر ہو گئی ہے۔
