ایران کے مطالبات پُورے ہونے تک آبنائے ہُرمز کو نہیں کھولا جائے گا: باقر قالیباف
ایرانی اعلٰی مذاکرات کار محمد باقر قالیباف نے کہا ہے کہ آبنائے ہُرمز کو اُس وقت تک نہیں کھولا جائے گا جب تک امریکہ ایران کے مطالبات پورے نہیں کرتا، جن میں بحری ناکہ بندی کا خاتمہ بھی شامل ہے۔
فرانسیسی خبر رساں ایجنسی اے ایف پی کے مطابق منگل کو ایرانی سرکاری ٹی وی پر نشر ہونے والی ایک تقریر میں اُنہوں نے کہا کہ میں یہ بات واضح کرنا چاہتا ہوں کہ آبنائے ہرمز اُس وقت تک نہیں کھولی جائے گی جب تک امریکہ مفاہمتی یادداشت میں طے کیے گئے وعدوں پر عمل درآمد نہیں کرتا۔
ایرانی اعلٰی مذاکرات کار کے مطابق مفاہمتی یادداشت میں ایران کے دیگر مطالبات کے علاوہ بحری ناکہ بندی اور ایرانی تیل پر عائد پابندیوں کا خاتمہ اور بیرونِ ملک اُس کے منجمد اثاثوں کی بحالی پر اتفاق کیا گیا تھا۔
محمد باقر قالیباف نے مشرقِ وسطیٰ کی جنگ ختم کرنے کے لیے امریکہ کے ساتھ مذاکرات میں ایران کے وفد کی قیادت کی تھی، ایرانی میڈیا نے بتایا کہ وہ بدھ کو بات چیت کے لیے عراق کا دورہ کریں گے۔
ایرانی خبر رساں ایجنسی فارس کے مطابق باقر قالیباف اعلٰی سطح کے ایک پارلیمانی وفد کی قیادت کریں گے۔ یہ وفد عراق کے ساتھ علاقائی صورتِ حال، ایران اور عراق کے درمیان سٹریٹجک تعاون اور مشرقِ وسطیٰ میں امن و سلامتی کے لیے مشترکہ اقدامات پر گفت و شُنید کرے گا۔
ایرانی اعلٰی مذاکرات کار یہ دورہ ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب عراق کو امریکہ کی جانب سے ایران کے حامی مسلح گروہوں کو غیر مسلح کرنے کے لیے دباؤ کا سامنا ہے۔ اِن گروہوں نے عراق میں کافی سیاسی اور مالی اثر و رسوخ حاصل کر رکھا ہے۔
عراقی حکومت نے ایران نواز مسلح گروہوں کو 30 ستمبر تک ہتھیار ڈالنے یا غیر مسلح ہونے کی مہلت دے رکھی ہے۔ واضح رہے کہ اسی روز عراق میں امریکہ کی قیادت میں داعش مخالف اتحاد کا مشن بھی اختتام پذیر ہو رہا ہے۔
