Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

اردوغان کا ٹرمپ پر ایران سے مذاکرات جاری رکھنے پر زور، تعاون کی پیشکش

ترکیہ نے آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے کا مطالبہ کیا ہے (فوٹو: روئٹرز)
ترکیہ کے صدر رجب طیب اردوغان نے منگل کو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے ٹیلی فون پر گفتگو کرتے ہوئے زور دیا کہ ایران اور امریکہ کے درمیان کشیدگی کم کرنے کے لیے مذاکرات کا راستہ اختیار کیا جائے۔
خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق ترک ایوانِ صدر کے بیان میں کہا گیا ہے کہ صدر اردوغان نے امن کی کوششوں میں انقرہ کے تعاون کی پیشکش بھی کی۔
نیٹو کی دوسری بڑی فوج رکھنے والا ملک ترکیہ، جس کی ایران کے ساتھ سرحد بھی ہے، جنگ کے خاتمے کا مطالبہ کرتا رہا ہے۔ انقرہ، امریکہ اور ثالثی کرنے والے ممالک پاکستان و قطر سے مسلسل رابطے میں ہے اور فریقین کے درمیان ثالث کا کردار بھی ادا کر رہا ہے۔
صدر اردوغان نے کہا کہ ایران اور امریکہ کے درمیان کشیدگی کے تناظر میں سفارت کاری سے بھرپور فائدہ اٹھانا انتہائی اہم ہے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ مذاکرات کا سلسلہ جاری رہے گا اور ترکیہ امن کی کوششوں کی حمایت جاری رکھے گا۔
یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا کہ جب ایک اعلیٰ ایرانی عہدیدار نے پیر کو روئٹرز کو بتایا تھا کہ جنگ کے مستقل خاتمے کے لیے مذاکرات میں تعطل کے باعث ایران اپنی فوجی حکمتِ عملی کو ’مکمل جارحانہ‘ پوزیشن میں تبدیل کرے گا۔ یہ پیش رفت اس وقت سامنے آئی جب واشنگٹن نے عارضی جنگ بندی میں توسیع کو مسترد کر دیا۔
آبنائے ہرمز کے ذریعے تیل بردار ٹینکروں کی آمد و رفت دوبارہ شروع کرنے کی پیش رفت بھی تعطل کا شکار ہے۔
ترکیہ نے ایران پر امریکہ اور اسرائیل کے حملوں پر تنقید کی ہے جبکہ خلیجی ممالک پر ایرانی حملوں کی بھی مذمت کرتے ہوئے اس اہم سٹریٹیجک آبنائے کو دوبارہ کھولنے کا مطالبہ کیا ہے۔
پیر کے روز ترکیہ کے وزیر خارجہ نے اپنے ایرانی ہم منصب سے ملاقات کے دوران آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے اور جنگ بندی کے تسلسل پر تبادلۂ خیال کیا۔
ایوانِ صدر کے مطابق اردوغان اور ٹرمپ کے درمیان دوطرفہ تعلقات، غزہ کی جنگ، ترکیہ، سعودی عرب اور پاکستان کے درمیان طے پانے والے دفاعی معاہدے پر بھی گفتگو ہوئی۔
بیان میں کہا گیا کہ ترک صدر نے اس معاہدے کو علاقائی استحکام اور سلامتی کے لیے ’مضبوط مؤقف‘ کی علامت قرار دیا۔
ترک ایوانِ صدر کے مطابق اردوغان نے ٹرمپ کو بتایا کہ فلسطینیوں کے خلاف اسرائیلی حملوں میں اس وقت اضافہ ہوا ہے جب ٹرمپ کے غزہ امن منصوبے کے دوسرے مرحلے پر عمل درآمد شروع ہونا تھا۔
وائٹ ہاؤس نے فوری طور پر اس ٹیلی فونک گفتگو پر تبصرے کے لیے کی گئی درخواست کا جواب نہیں دیا۔

شیئر: